تحریک عدم اعتماد کی صورت میں چیئرمین سینیٹ کی حمایت کریں گے: وزیراعظم

  • بدھ 19 / جون / 2019
  • 4430

وزیراعظم عمران خاننے سینیٹ کے چئیرمین صادق سنجرانی کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کی مخالفت کرنے کا اعلان کیا ہے۔

چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے اس حوالے سے  اپوزیشن جماعتوں کی کوششوں کے بارے میں وزیراعظم عمران خان سے رابطہ کیا تھا، جنہوں نے ہر سازش میں چیئرمین ایوان بالا کی حمایت کی یقین دہائی کروادی۔

ذرائع کے مطابق ملاقات میں وزیراعظم نے چیئرمین سینیٹ کو اس بات کا یقین دلایا کہ اپوزیشن کی جانب سے چیئرمین سینیٹ کے خلاف عدم اعتماد کی کوئی قرار داد لائی گئی تو حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف صادق سنجرانی کا ساتھ دے گی۔

عوامی نیشنل پارٹی نے مطالبہ کیا تھا کہ اگر دونوں اپوزیشن جماعتیں حکومت مخالف تحریک چلانے کے لیے سنجیدہ ہیں تو سب سے پہلے چیئرمین سینیٹ کو ان کے عہدے سے ہٹائیں، جس کے ایک روز بعد ہی وزیراعظم اور چیئرمین سینیٹ کی ملاقات ہوئی۔

اے این پی رہنما زاہد خان نے اپوزیشن جماعتوں پر زور دیا تھا کہ صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اگر چیئرمین سینیٹ کو نہ ہٹایا گیا تو عوام مریم نواز اور بلاول بھٹو زرداری پر بھروسہ نہیں کریں گے‘۔

اس سے پہلے جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے حکومت مخالف حکمت عملی ترتیب دینے کے لیے آئندہ ہفتے کثیر الجماعتی کانفرنس منعقد کرنے کا اعلان کیا تھا۔ واضح رہے کہ صادق سنجرانی پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما رضا ربانی کے عہدے کی مدت پوری ہوجانے کے بعد چیئرمین سینیٹ بنے تھے۔

انہوں نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے امیدوار راجا ظفرالحق کے 46 ووٹوں کے مقابلے میں 57 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی تھی۔ حالانکہ مسلم لیگ (ن) نے پی پی پی کو رضا ربانی کو دوبارہ چیئرمین سینیٹ کا امیدوار نامزد کرنے کی صورت میں حمایت کی پیشکش کی تھی۔ پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری سے اس پیشکش کو ٹھکرادیا تھا۔

اطلاعات ہیں کہ پی پی پی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کے مابین ہونے والی حالیہ ملاقات میں دیگر اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مشاورت کے بعد ایوانِ بالا کے چیئرمین صادق سنجرانی کو ہٹانے کی منصوبے کے بارے میں بات چیت ہوئی۔

خیال رہے کہ بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کی قیادت حکمران اتحاد کا حصہ ہونے کے باوجود اپوزیشن پارٹی کے اجلاسوں میں شرکت کررہی ہے۔ انہیں شکایت ہے کہ پی ٹی آئی نے گزشتہ برس جس 6 نکاتی سمجھوتہ پر اتفاق کیا تھا، اس پر عمل نہیں کیا گیا۔