اپوزیشن نے تحریک انصاف کا بجٹ مسترد کردیا ، گرفتار رہنماؤں کو اسمبلی بلانے پر اصرار
- بدھ 19 / جون / 2019
- 4370
قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے تحریک انصاف حکومت کی جانب سے پیش کیے گئے وفاقی بجٹ کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے ڈٹ کر مخالفت کرنے کا اعلان کردیا۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور شہباز شریف نے جعلی اکاؤنٹس کیس میں گرفتار سابق صدر آصف علی زرداری اور دیگر گرفتار اراکین کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کا کا مطالبہ بھی دہرایا ہے۔
قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر اسد قیصر کی سربراہی میں شروع ہؤا۔ 3 روز کی ہنگامہ آرائی کے بعد آج اسمبلی اجلاس کا ماحول بہتر رہا اور اپوزیشن اراکین نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ اجلاس کے دوران چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آصف زرداری اس ملک کے صدر رہے ہیں، انہوں نے 11 سال جیل میں گزارے لیکن وہ ہر کیس میں بری ہوئے۔ ہم آج بھی ہر فورم پر لڑ رہے ہیں اور آصف زرداری بری ہوں گے۔
بجٹ پر بات کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ نوابشاہ، لاہور، جنوبی و شمالی وزیرستان کے عوام کو کیسے اس بجٹ عمل کے سے باہر رکھ سکتے ہیں۔ جو ہو رہا ہے وہ جمہوریت اور اس ایوان کی توہین ہے۔ افسوس کے ساتھ یہ محسوس ہورہا ہے کہ اسپیکر کی کرسی سے جو وعدے کیے گئے تھے، وہ پورے نہیں ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ میں پھر مطالبہ کرتا ہوں کہ ہمارا حق اور ایوان کی روایت پورا کرتے ہوئے آصف زرداری اور دیگر گرفتار اراکین قومی اسمبلی کے پروڈکشن آرڈر جاری کریں۔
قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے طویل خطاب کیا اور ماضی کی کارکردگی اور موجودہ حکومت کے بجٹ پر گفتگو کی۔ شہباز شریف نے کہا کہ یہ بجٹ عوام کے لیے مایوسی اور اندھیرے میں ڈالنے کا پیغام ہے۔ بجٹ روزگار، بیواؤں کا رزق، مریضوں کی دوائی اور طالبعلموں کا حق چھیننے آیا ہے۔ ہم اس عوام اور پاکستان دشمن بجٹ کو رد کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بجٹ ظلم کی تلوار ہے جو معاشی طور پر عام آدمی کی گردن کاٹنے کے لیے آیا ہے۔ یہ کسان کی روٹی اس سے چھیننا چاہتا ہے۔ عوام کی خیر خواہی کے لیے 5 شعبوں پر توجہ لازمی ہونی چاہیے تھی۔ جن میں روزگار، مہنگائی جی ڈی پی میں اضافہ، کاروبار اور برآمدات اضافہ اور سماجی اور معاشی انصاف کے امور شامل ہیں۔
تحریک انصاف پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ یوٹرن کے ماسٹر ہیں اور اپنی بات کی اپنے عملی اقدام سے تردید کرتے ہیں۔ یہ 5500 کا جو آمدنی کا ہدف ہے اس میں 70 فیصد بلاواسطہ ٹیکس ہیں۔ پاکستان کو جو جنت بنانے آئے تھے، وہ ان اقدامات سے اسے معاشی جہنم کی طرف دھکیل رہے ہیں۔
صوبائی فنڈز کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کا احتجاج رہا ہے کہ وفاق سے فنڈ نہیں مل رہے جبکہ وفاقی حکومت نے 10 ماہ میں جو ٹیکس وصولی کی اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ کہیں بھی نئے منصوبے کی ایک اینٹ بھی نہیں رکھی۔
بجٹ تجاویز پر انہوں نے کہا کہ عمران خان نے بلند و بانگ دعوؤں کے برعکس ہمارے دور میں تعلیم کے 97 ارب روپے کے بجٹ میں 20 ارب روپے کم کردیے اور 77 ارب روپے مختص کیے ہیں۔ اسی طرح صحت کے شعبے کا وفاقی بجٹ 13 ارب سے کم کرکے 11 ارب روپے کردیا گیا۔ اس سب کے بعد اس میں کوئی شک نہیں رہ جاتا کہ یہ یوٹرن کے ماسٹر ہیں اور یہی ان کا اوڑھنا بچھونا ہے۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کی حکومت یومیہ 19 ارب روپے قرض لے رہی ہے۔ یہ کہاں کا انصاف ہے کہ قرضوں کا الزام ہم پر لگایا جاتا ہے۔
قائد حزب اختلاف کا کہنا تھا کہ ہمارے قائد نواز شریف قید میں ہیں، آصف زرداری کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ خواجہ سعد رفیق بھی گرفتار ہیں۔ لیکن یہ پوری اپوزیشن کو گرفتار کرلیں، جتنے ظلم ڈھانے ہیں ڈھالیں۔ ہم اس عوام دشمن بجٹ کی ڈٹ کر مخالفت کریں گے اور عوام کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔