احتساب چھوڑیں، معیشت اور پاکستان بچائیں: زرداری کا مشورہ
- جمعرات 20 / جون / 2019
- 9210
سابق صدر پاکستان اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ ملک میں حساب کتاب بند کیا جائے اور آگے کی بات کی جائے. ایک عام آدمی خوفزدہ ہے کہ اگر آصف زرداری گرفتار ہوسکتا ہے تو اس کا کیا ہوگا؟
قومی اسمبلی میں خطاب کے دوران آصف علی زرداری نے اپنے پروڈکشن آرڈر جاری ہونے پر اسپیکر قومی اسمبلی کا شکریہ ادا کیا جبکہ اس کے لیے کوشش کرنے والی سیاسی جماعتوں اور ان کے رہنماؤں کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ میں ان کا یہ اقدام ہمیشہ یاد رکھوں گا۔
انہوں نے کہا کہ خیرپور اور اطراف کے اضلاع میں 'ماکڑ' اور 'ٹڈی' آئی ہوئی ہے جس سے کپاس کی فصلیں خراب ہونے کا خدشہ ہے لیکن اس کا کوئی انتظام بھی نہیں کیا گیا۔ اپنے دور حکومت میں کپاس کی صنعت کی ترقی سے متعلق بات کرتے ہوئے آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ ہمیں یہ صنعت 19 ارب ڈالر پر ملی تھی تاہم حکومت کے اختتام تک اسے 27 ارب ڈالر پر چھوڑا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں 3 یا 4 ایسے مسائل ہیں جن پر حکومت کے ساتھ بیٹھنے کے لیے تیار ہیں جس پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔ مل بیٹھ کر ایک معاشی پالیسی ترتیب دی جائے جیسے ایک ملکیت دی جائے تاکہ وہ چلتی رہے۔
چیئرمین پی پی پی نے مزید کہا کہ کل ایک جماعت کی حکومت تھی، آج کسی اور جماعت کی حکومت ہے کل کسی اور جماعت کی حکومت ہوگی۔ تاہم معاشی پالیسی چلتی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان ہے تو سب کچھ ہے اگر پاکستان نہیں ہے تو کوئی کچھ بھی نہیں۔
سابق صدر نے کہا کہ یہ ملک پاکستان پیپلز پارٹی کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس کے لیے ان کی پارٹی رہنماؤں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دیا تھا۔ جب سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کا قتل ہوا تو سندھ میں نعرہ لگ رہا تھا کہ 'پاکستان نہ کھپے' لیکن میں نے کھڑے ہوکر 'پاکستان کھپے' کا نعرہ لگایا تھا۔
بجٹ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے سابق صدر کا کہنا تھا کہ 'اگر بجٹ اچھا ہے تو پھر صنعتکار کیوں رو رہے ہیں، وہ آوازیں لگا رہے ہیں کہ ہمیں بچاؤ، غریب کیوں رو رہا ہے؟ اس کا مطلب ہے کہ بجٹ میں کچھ مسئلہ ہے'۔
تقریر کے دوران انہوں نے کہا کہ 'جہاں سے میں آرہا ہوں وہاں ایسا خوفزدہ ماحول بنایا ہوا ہے کہ اس سے ایک عام کاروباری شخص کو اتنا خوف ہے کہ وہ کسی کام میں ہاتھ ڈالنے اور کاروبار کرنے کے لیے تیار ہی نہیں ہے'۔
اب جس شخص کے پاس 5 لاکھ روپے ہیں اس کو ایف بی آر کا نوٹس جاری ہوجائے گا، اب کون کون پورے ملک میں حساب دیتا پھرے گا؟ آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ یہ حساب کتاب بند کیا جائے اور آگے کی بات کی جائے۔ ایک عام آدمی خوف زدہ ہے کہ اگر زرداری صاحب پکڑے جاسکتے ہیں تو پھر ہمارا کیا بنے گا؟
انہوں نے کہا کہ جو لوگ اس حکومت کو لے کر آئے ہے انہیں سوچنا پڑے گا۔ سابق صدر نے کہا کہ جو مجھے دکھائی دے رہا ہے وہ انہیں دکھائی نہیں دے رہا۔ ایسا نہ ہو کہ ایسے حالات آجائیں اور لوگ کھڑے ہوجائیں۔ پھر نہ سیاسی جماعتیں اور نہ ہی کوئی اور معاملات کو سنبھال سکے گا۔
سابق صدر کی تقریر کے دوران ان کے صاحبزادے بلاول بھٹو قومی اسمبلی کے اجلاس میں جبکہ ان کی صاحبزادیاں، بختاور بھٹو اور آصفہ بھٹو، پارلیمنٹ گیلری بھی موجود تھیں۔
خیال رہے کہ سابق صدر آصف علی زرداری اس وقت جعلی اکاؤنٹس اور منی لانڈرنگ کیس میں نیب کی حراست میں ہیں تاہم انہیں قومی اسمبلی لانے کے لیے اسپیکر اسمبلی اسد قیصر نے ان کے پروڈکشن آرڈر جاری کیے تھے۔