عوام کب تک نعروں سے جی بہلائیں
- تحریر طارق محمود مرزا
- جمعرات 20 / جون / 2019
- 5510
بلاول بھٹو زرداری نے مریم نواز سے ملاقات کے بعدحکومت کے خلاف مشترکہ احتجاجی مہم شروع کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔انہوں نے کہا ہے، ہم ملک کی معیشت کو تباہ ہوتا نہیں دیکھ سکتے نہ عوام کے حقوق پر سمجھوتہ کر سکتے ہیں۔
بقول ان کے عوام بنیادی حقوق سے محروم ہیں ہم ان کو یہ حق دلا کر رہیں گے۔ بلاول بھٹو زرداری نے بالکل درست کہا ہے کہ عوام مشکلات کا شکار ہیں اور انہیں صاف پانی، علاج معالجہ، ٹرانسپورٹ، صحت و صفائی، جان و مال کا تحفظ، روزگار، تعلیم کی سہولتیں اور کرپشن سے پاک نظام کی سخت ضرورت ہے۔ پولیس اور عدالتی نظام کو بہتر بنانے اور حصولِ انصاف کو آسان، سستا اور عام کرنے کی ضرورت ہے۔ غریب، لاچار، کمزور، ہاری،مزدور، کسان اور بے بس افراد کو سہارا دینے اور ان کی عزّت نفس بحال کرنے کی ضرورت ہے۔ مجرموں، ان کے پشت پناہوں، راشی افسروں اور کرپٹ سیاست دانوں سے چھٹکارا دلانے کی بھی شدید ضرورت ہے۔ جن حکمرانوں، سیاست دانوں، سرکاری افسروں،ججوں،جرنیلوں، وڈیروں، سرمایہ داروں نے عوام کے حقوق غصب کیے ہیں ان کو قرار واقعی سزا دینا بھی ضروری ہے تاکہ آئندہ عوام کی جان و مال، ان کے حقوق اور ان کی عزت نفس کو پامال کرنے کے بارے کوئی سوچ بھی نہ سکے۔
بلاول بھٹو زرداری کے پاس اس نیک کام اور ارفع مقاصد کے حصول کے لئے موقع موجود ہے کیونکہ سندھ جیسے بڑے صوبے میں ان کی پارٹی کی حکومت ہے۔ سندھ میں رہنے والے کروڑوں لوگوں کی قسمت بدلنے، انہیں صحت و صفائی کی سہولیات میسر کرنے، شہروں اور قصبوں میں سڑکیں، سکول، اسپتال اور عوامی ٹرانسپورٹ کا جال بچھانے کا سنہری موقع حاصل ہے۔ کراچی جیسے بین الاقوامی شہر کو جو اس وقت اپنی سہولیات کے لحاظ سے دنیا میں نچلی ترین سطح پر ہے اسے دبئی، سنگا پور اور بنکاک کی سطح پر لے جانے کے لیے ان کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ اٹھارویں ترمیم کے بعدصوبوں کے پاس اختیار اور وسائل کی کوئی کمی نہیں ہے۔ ویسے بھی نئے پراجیکٹ کے لئے ارادہ،منصوبہ بندی اورمحنت درکار ہوتی ہے۔ اگر آپ کا منصوبہ درست، پلاننگ مضبوط اور آپ کا ریکارڈ شفاف ہو تو وسائل کی کوئی کمی نہیں ہے کیونکہ دنیا بھر کے بنک ایسے منصوبوں کے لئے قرض دیتے رہتے ہیں۔ ان کی بس ”معمولی سی“ شرط ہوتی ہے کہ قرض لینے والے ایماندار، وعدے کے پابند اور کرپشن سے پاک ہوں۔
میرے خیال میں بلاول اور ان کی پارٹی کو اس میں کوئی دقت نہیں ہونی چائیے۔اگر بلاول کراچی کو دبئی بنانے اور سندھ کو بھارتی گجرات کی طرح ترقی یافتہ صوبہ بنانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو اگلے الیکشن میں مودی کی طرح پورے ملک سے جیت کر وزیرِ اعظم بننے کا خواب شرمندہ تعبیر کر سکتے ہیں۔ریلیوں، احتجاج، جلسوں اور جلوسوں سے یہ طریقہ زیادہ موثر اور پائیدار ہے۔تو پھر کیا خیال ہے بلاول بھٹو زرداری صاحب، آپ”اپنے“ سندھ کے لئے یہ سب کرنے کے لیے تیار ہیں؟ سیاست میں زندہ رہنے اور اگلا وزیرِ اعظم بننے کے لیے عوام کی خدمت کا راستہ اپنائیں گے یا پھر پریس کانفرنسوں، تقریروں اور’بھٹو زندہ ہے‘ کے نعرے سے کام چلا تے رہیں گے۔فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔
جہاں تک مسلم لیگ نون کا تعلق ہے اس کے پاس تو ایک بار نہیں بار بار پورے ملک کی حکومت رہی ہے۔ ان کے پاس تجربہ بھی ہے، ٹیم بھی ہے اوراندرونی و بیرونی قرضوں کی مد میں بے تحاشا سرمایہ بھی تھا۔ پیپلز پارٹی کی شکل میں فرینڈلی اپوزیشن بھی تھی۔اتنے برسوں میں ملک کی قسمت بدلنے کے پورے مواقع میسرتھے۔ نوے کی دہائی سے لے کر اب تک چین، بھارت، قطر، متحدہ عرب امارات حتیٰ کہ بنگلہ دیش جیسے ملک ترقی کرکے کہاں سے کہاں پہنچ گئے۔ ان برسوں میں مسلم لیگ نون کو مرکز اور صوبوں میں سالہا سال تک حکومت کرنے کا موقع ملا۔اگر وہ خلوصِ نیت،جذبہِ خدمت اور شفاف طرزِ حکمرانی کے ذریعے ملک میں تعلیم، صحت،ٹرانسپورٹ،صنعت و حرفت، زراعت اور دیگر شعبوں کو ترقی کی راہ پر گامزن کرتے تو اب تک پاکستان ترقی یافتہ ملکوں میں شامل ہو چکا ہوتا۔
ملک میں صنعتی اور زرعی انقلاب آچکا ہوتا۔ بے روزگاری، اقربا پروری، رشوت، سفارش، بے ایمانی ملاوٹ، ٹیکس نادہندگی، غنڈہ گردی، قبضہ گیری اور دیگر مسائل کا قلع قمع ہو چکا ہوتا۔تعلیم، صحت، صفائی، پولیس، کچہری، عدالتیں اور دیگر شعبے عوام کی خدمت میں مصروف ہوتے۔ عوام کو روزگار، صاف پانی، بجلی، گیس، امن عامہ، سستا انصاف، تحفظ اور عزت نفس حاصل ہوتا۔اگر اتنے برسوں میں نواز شریف کی پارٹی یہ کام کر لیتی، ان پر کرپشن کا کوئی داغ نہ ہوتا او رعوام ان کی حکومت سے مطمئن ہوتے تو آج بھی ان کی حکومت ہوتی۔ اگراپوزیشن میں بھی ہوتے تو ان کو روز روز دوسری پارٹیوں کے اجلاس نہ بلانے پڑتے بلکہ عوام خود سڑکوں پر نکل آتے۔عوام کو کچھ دیا ہوتا تو آج وہ لوٹاتے۔
سب سے سنہری موقع تحریکِ انصاف کا پاس ہے۔ یہ موقع انہیں طویل انتظار کے بعد ملا ہے۔ انہیں نعروں، بحث مباحثوں اوراپوزیشن سے اُلجھنے کے بجائے، اچھی حکمرانی،ایمانداری، محنت اور عوام کی خدمت کے ذریعے ہر تنقید کا جواب دینا چائیے۔ انہیں نعروں اور بیانات والی سیاست سے کنارہ کش ہوتے ہوئے عملی اقدامات کے ذریعے عوام کا اعتماد اور دنیا میں پاکستان کا وقار بحال کرنا چائیے۔ ملک کی معیشت بہتر بنا کر، قومی اداروں کو مضبوط بنا کر اورعوام کو ریلیف پہنچا کر خود کوسابقہ حکومتوں سے مختلف ثابت کریں ۔
مانا کہ وسائل کی کمی ہے، قرضوں کا بوجھ ہے، آمدنی کم اور اخراجات زیادہ ہیں مگر سمت تو درست رکھی جا سکتی ہے۔ سرکاری عوامی اداروں کی کارکردگی بہتر بنا کر، امنِ عامہ، صحت و صفائی، تعلیمی اداروں، اسپتالوں، پولیس، نظامِ انصاف اور دیگر شعبوں میں بہتری اور فعالیت لا کر اور ملک میں قانون کی حکمرانی بحال کر کے عوام کو بہت سا ریلیف دیا جا سکتا ہے۔ اس کام کے لئے وسائل سے زیادہ انتظامی بہتری اور گڈ گورنس کی ضرورت ہے۔ اگر آپ کی نیت صاف ہے اور سمت درست ہے تو یہ کام مہینوں اور سالوں میں نہیں دنوں میں ہو سکتا ہے۔تبدیلی کے صرف نعروں اور وعدوں سے کام نہیں چلے گا بلکہ یہ تبدیلی پورے ملک میں نظر آنی چائیے ۔ یہ عمران خان اور تحریکِ انصاف کا امتحان ہے اگر وہ بھی ملک و قوم کے لئے کچھ نہ کر سکے تو ان کا انجام بھی سابقہ حکمرانوں سے مختلف نہیں ہو گا۔