قبائلی اضلاع میں انتخابات فوج کی نگرانی میں ہوں گے
- جمعہ 21 / جون / 2019
- 5060
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے 20 جولائی کو قبائلی اضلاع میں انتخابات کے لیے پولنگ اسٹیشنز کے اندر اور باہر فوج تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ اعلان الیکشن کمیشن کی طرف سے جاری کیے گئے ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے کیا گیا۔ گزشتہ سال صوبہ خیبرپختونخوا میں ضم ہونے والے قبائلی علاقوں میں صوبائی اسمبلی کی سولہ نشستوں پر پولنگ 20 جولائی کو ہو گی۔ الیکشن کمیشن کے اعلامیے کے مطابق فوج 18 جولائی سے 21 جولائی تک انتخابات کے عمل کے دوران پولنگ اسٹیشنز کے اندر او ر باہر تعینات رہے گی۔
الیکشن کمیشن کے مطابق فوج کو قبائلی اضلاع میں انتخابات کے دوران امن و امان کی صورتحال کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے تعینات کیا گیا ہے۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ قبائلی اضلاع میں 20 جولائی کو ہونے والے انتخابات کے دوران تعینات ہونے والے فوجی افسران کو فرسٹ کلاس مجسٹریٹ کے اختیارات بھی حاصل ہوں گے۔
عوامی نیشنل پارٹی کے ترجمان زاہد خان کا کہنا ہے کہ انہیں پولنگ اسٹٰیشن کے اندر فوج کی تعیناتی پر اعتراض ہے۔ گزشتہ سال 25 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات میں پولنگ اسٹیشنز کے اندر فوج کی موجودگی پر مختلف سیاسی جماعتوں نے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ زاہد خان کے بقول الیکشن کمیشن نے ان کی درخواست مسترد کرتے ہوئے پولنگ اسٹیشن کے اندر بھی فوج تعینات کرنے کا اعلان کیا ہے۔
زاہد خان کا کہنا ہے کہ پولنگ اشٹیشن کے اندر فوج تعینات کرنے کی وجہ سے انتخابی عمل اور ان کے نتائج کے بارے میں سوالات اٹھیں گے۔ لہذٰا پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف پولیس کو موجود ہونا چاہیے۔
پاکستان میں انتخابی عمل پر نظر رکھنے والے تجزیہ کار سرور باری کا کہنا ہے کہ 2018 کے انتخابات میں بھی فوج کی پولنگ اسٹیشنز کے اندر تعیناتی پر تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا۔ تاہم ماضی کے مقابلے میں دھاندلی کی شکایات میں کمی بھی دیکھنے میں آئی تھی۔
یاد رہے کہ قبائلی اضلاع میں انتخابات 2 جولائی کو شیڈول تھے تاہم خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت نے امن و امان کی خراب صورتحال کے باعث الیکشن کمیشن سے کچھ روز کے لیے الیکشن ملتوی کرنے کی درخواست دی تھی۔