امریکی صدر نے ایران پر حملہ کرنے کا حکم دے کر واپس لے لیا
- جمعہ 21 / جون / 2019
- 5080
امریکی ذرائع ابلاغ نے انکشاف کیا ہے کہ ایران کی طرف امریکہ کا ڈرون طیارہ گرائے جانے کے ردعمل میں امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کا حکم دے دیا تھا۔ تاہم بعد میں اسے واپس لے لیا گیا۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق صدر نے ایرانی کے ریڈار سسٹم، اور میزائل تنصیبات کا نشانہ بنانے کی منظوری دی تھی۔ پھر اچانک فیصلہ تبدیل کر لیا۔ اخبار نے ایک اعلٰی امریکی عہدیدار کا حوالہ دیا ہے جو اس اجلاس میں شریک تھے۔ جن کے بقول یہ کارروائی جمعے کی علی الصبح کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا تاکہ شہری اموات سے بچا جا سکے۔
رپورٹ کے مطابق اہم اجلاس میں موجود امریکی عہدیدار نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فضائیہ کے جہاز کارروائی کے لیے ہوا میں موجود تھے، جبکہ سمندر میں موجود جہازوں نے بھی اہداف کا تعین کر لیا تھا۔ پھر یہ صدارتی حکم نامہ واپس لے لیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق یہ واضح نہیں کہ صدر ٹرمپ خود ایران پر حملے کے فیصلے سے پیچھے ہٹے یا امریکی انتظامیہ کی جانب سے انہیں انتظامی معاملات کی وجہ سے فی الحال حملہ نہ کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ امریکی فوج نے گزشتہ روز ایران کی جانب سے خلیج میں اس کا ایک ڈرون طیارہ گرائے جانے کی تصدیق کی گئی تھی۔ ایران کے پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکی ڈرون نے ایران کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی تھی جس پر اسے مار گرایا گیا۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایرانی حکام نے تصدیق کی ہے کہ انہیں بذریعہ اومان امریکہ کے صدر کا پیغام موصول ہوا ہے، جس میں انہوں نے ایران کو مذاکرات کی دعوت دی ہے۔ تاہم ساتھ ہی انہوں نے یہ دھمکی بھی دی ہے کہ امریکہ ایران سے جنگ کے بہت قریب ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ امریکی صدر نے کہا ہے کہ امریکہ جنگ نہیں چاہتا تاہم وہ تصفیہ طلب معاملات پر ایران کے ساتھ بات چیت کو تیار ہے۔ پیغام کے مطابق صدر نے ایران کو جلد فیصلہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
ایک اور ایرانی اہل کار نے رائٹرز کو بتایا ہے کہ رہبر اعلٰی آیت اللہ علی خامنہ ای پہلے ہی یہ فیصلہ کر چکے ہیں کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات نہیں ہوں گے۔ تاہم امریکی صدر کے پیغام سے متعلق انہیں آگاہ کر دیا گیا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق انہوں نے اومانی حکام پر واضح کر دیا ہے کہ جنگ کے خطرناک علاقائی اور بین الاقوامی نتائج برآمد ہوں گے۔
ایران اور امریکہ کے درمیان تعلقات کشیدگی کی نئی بلندیوں کو چھو رہے ہیں۔ امریکہ کی جانب سے ایران پر اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کے جواب میں ایران نے یورینیم کی افزودگی بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔
گزشتہ سال امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ یک طرفہ طور پر ایران کے ساتھ 2015 میں طے پانے والے جوہری معاہدے سے الگ ہو گئے تھے۔ رواں ماہ کے آغاز پر امریکہ نے ایران سے تیل درآمد کرنے والے آٹھ ممالک کا استثنٰی بھی ختم کر دیا تھا۔
امریکہ کا موقف ہے کہ ایران جوہری معاہدے کی خلاف ورزی کا مرتکب ہو رہا ہے اور اپنے جوہری پروگرام کو آگے بڑھا رہا ہے۔ جب کہ وہ خطے میں امریکہ کے اتحادی ممالک کے خلاف جارحانہ عزائم رکھتا ہے۔ ایران ان امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اپنے جوہری پروگرام کو پرامن مقاصد کے لیے استعمال کرنے پر زور دیتا آیا ہے۔
خطے میں کشیدگی کے باعث امریکہ نے جنگی بیڑے اور اضافی فوجی بھی مشرق وسطیٰ بھیجے ہیں۔