معیشت، اضطراب اور پریشان حال عوام

آج کل شدید گرمی ہے جس کی وجہ سے گھر سے نکلنا خاصا مشکل کا کام ہے۔کچھ عمر کا تقاضہ بھی ہے۔رابطے مؤثر نہیں رہے۔ دل کی باتیں کرنا چاہتا ہوں۔ مگر کس سے باتوں میں سوال کو اٹھاؤں۔

  کوئی نہ  ملے تو پڑھنے کیلئے صرف اخبار کتابیں رسائل اور دیکھنے کیلئے ٹیلی ویژن چینل ہی رہ جاتے ہیں۔ جہاں پر ہر قسم کے دانشور، ادیب، تجزیہ نگار اور اینکرز اپنی اپنی باتیں اس اعتماد کے ساتھ سنا رہے ہوتے ہیں کہ شائد سارا سچ اور مسائل کا حل ان کے پاس موجود ہے۔  اس طرح ہر ایک کا اپنا اپنا مفاداتی سچ ہوتا ہے۔ یہی صورتحال پارٹی کے لیڈروں اور ترجمانوں کے حوالے سے ہے۔  وہ ہر روز ٹی وی  شوز اور بیانات میں اپنی اپنی قیادت کی صفائیاں پیش کرتے ہوئے دیکھائی دیتے ہیں مگر اس میں خلوص سماج کی سدھار کیلئے کوئی لائحہ عمل یا نظریہ موجود نہیں  ہوتا۔

 ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں کی قیادت جیل میں مقدمات کا سامنا کر رہی ہے۔ مسلم لیگ ن کی قیادت کے دو بیانئے  مریم نواز اور شہباز شریف کی صورت میں ہیں۔ ایک محاذ آرائی اور تحریک چلانے کی بات کرتی ہے جبکہ شہباز شریف ذرا معتدل معزاج کے ہیں۔ انہیں ریاستی اداروں کے ساتھ مفاہمت کے ساتھ معاملات طے کرنے کا تجربہ ہے۔ لہذا یہ دونوں اپنے اپنے سیاسی بیانیوں کے ذریعے مطلوبہ نتائج حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ دوسری طرف حکومتی اتحادی اپوزیشن کے دباؤ کی وجہ سے تحریک انصاف سے اپنی مزید وزارتیں حاصل کرنے کیلئے کامیاب ہوتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں جس سے محسوس ہوتا ہے کے تحریک انصاف شائد اپنی نظریاتی اصول پسندی  پر کامیاب نہ ہوسکے۔

پاکستان میں موجودہ سیاسی معاشی اور سماجی بحران چند  سالوں میں پیدا ہوا نہیں  بلکہ اس کا آغاز قیام پاکستان کے فوراً بعد ہی ہو گیا تھا۔ ایوب خان نے ایبڈو کے ذریعے سیاست دانوں کو سیاست سے خارج کرنے کی کوشش کی اور بالواسطہ جمہوریت کے ذریعے ممبروں کو منتخب کر کے قانون ساز اسمبلیاں بنائیں اور اپنی صدارت کو یقینی بنایا۔  جنرل ضیاء الحق نے مثبت نتائج کے نام پر کنٹرول جمہوریت کا تصور دیا۔ اس کے اقتدار کی مخالف کرنے والوں کے قید و بند کی صوبتیں برداشت کرنا پڑیں۔ پاکستان کے منتخب وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔صدر مشرف کے عہد میں سدھائی  ہوئی جمہوریت کا تجربہ کیا گیا اس دوران سیاسی پارٹیوں کی توڑ پھوڑ کر کے وزیر اعظم کو اعتماد کا ووٹ دلوایا گیا۔

 صدر مشرف کے عہد میں بے نظیربھٹو انتخابی جلسے سے خطاب کرنے کے بعد  دہشت گرد حملے میں شہید ہو گئیں۔آج بھی صورتحال یوں ہی دکھائی دیتی ہے۔ چند ایک نئے چہروں کے علاوہ وہی چہرے حکومت میں موجود ہیں مگر شائد مقتدرہ قوتیں  ہمیشہ کی طرح اپنی تراشیدہ جمہوری قوتوں کے ساتھ اعتماد کا اظہار نہیں کر پا رہی ہیں۔ شائد انہیں جمہوری اور عوامی حقوق کی سیاست پسند نہیں۔ ہم ایسی ریاست میں رہ رہے ہیں جہاں پر کوئی معاشی سماجی سسٹم نہیں بن سکا ہے۔ اس ماحول میں نظریاتی سوچ رکھنے والے حب الوطنی سے سر شار مخلص  انسانوں کا رہنا مشکل ہے۔  عام آدمی ہو یا بزنس مین یا صنعت کار اس کیلئے پریشانیاں ہی پریشانیاں ہیں۔ کہاں ملازمت کرنا ہے کونسا کاروبار کرنا ہے۔ سرکاری اداروں کی بھرمار میں نئی صنعت کے قیام کیلئے بھی اجازت کی خاطر کون کون سا دروازہ کھٹکھٹانا پڑتا ہے، قدم قدم پر مافیا اور قبضہ گروپ ہیں۔

 ہم میں سے ہر با شعور کو اپنے ہی دائروں میں گھومتے ہوئے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے یہی صورتحال تبدیلی سرکار کے حوالے سے ہے۔جو کہ معیشت سیاست اور سماجیت کو سنوارنے میں ناکام  ہے۔ اس نے کئی محاذ جنگ ایک ساتھ کھول دیئے ہیں۔ ترجمانوں اور وزراء کے اپوزیشن پر تابڑ توڑ حملوں کے بعد سیاسی صورتحال قابو میں نہیں آ رہی ہے۔ پی ٹی آئی کے میڈیا پر صفائی دینے والے راہنماؤں کو دیکھیں تو ان سے بیشتر کا تعلق کئی دہائیوں تک پیپلز پارٹی کے ساتھ رہا ہے اورگفتگو کرنے کا سلیقہ جانتے ہیں۔ مگر وہ قیادت کی یو ٹرن سیاست کی وجہ سے اپنے لیڈر کی پالیسوں کا دفاع کرنے میں ناکام ہیں۔ یاد رہے پاکستان پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی ملک کی واحد جماعتیں ہیں جن کے کارکنوں کی نظریاتی تربیت کی گئی ہے۔ یہی وجہ ہے ان کی گفتگو اور فہم و فراست میں دوسری جماعتوں سے تعلق رکھنے والے کارکنوں کی نسبت کافی فرق واضح ہے۔

پاکستان کی معیشت چند ماہ میں خراب نہیں  ہوئی۔ اس کے بگاڑ کا دباؤ موجودہ حکومت کو سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ لوٹ مار کل بھی جاری تھی آج بھی جاری ہے۔ معیشت کو درست کرنے کیلئے ہماری حکومتوں کے پاس کبھی معاشی ماہرین نہیں رہے۔ اور انہوں نے عالمی اداروں سے معاملات کو طے کرنے کیلئے انہی کے ملازمین کی خدمات کو حاصل کیا ہے۔ وہ ان اداروں کی شرائط کے مطابق ٹیکس ریکوری کے اہداف کو پورا کرنے کی کوشش میں عوام کی بنیادی ضروریات زندگی پر ٹیکس عائد کر دیئے گئے ہیں۔ سابق وزیر خزانہ اسد عمر نے پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ گھی اور چینی کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا جانا چاہیے تھا۔ اگر کیا گیا ہے تو کس کے فائدہ کیلئے؟ اس کے علاوہ یہ بھی کہا کہ آئی ایم ایف نے ان اشیا پر ٹیکس لانے کے بارے میں  ہدایت نہیں دی تھی۔  آخر ڈالر کی قیمت کیوں نہیں ٹھہر رہی۔ روزانہ کی بنیاد پر کبھی اس میں کئی روپے اضافہ اور چند پیسوں میں کمی ہو جاتی ہے۔ اس قدر عدم استحکام ہے جس کو کنٹرول کرنے کیلئے مرکزی بینک کو کردار ادا کرنا ہوگا۔جس کے بارے میں اسٹیٹ بینک کے سربراہ سید باقر رضا کہہ چکے ہیں کہ ہم ڈالر کی قیمت کا تعین منڈی کی قوتوں پر نہیں چھوڑ سکتے۔

 اب دیکھتے ہیں حکومت ڈالر کی قیمت کو روکنے کیلئے کیا اقدام اٹھاتی ہے، حکومت ترقیاتی کونسل کا قیام عمل میں لائی ہے۔ جس میں ایک ادارے کے سربراہ کو ممبر بنایا گیا ہے یہ بات درست ہے اس ادارے سابق ملازمین کی فاؤنڈیشن کے تحت 17سے زیادہ صنعتی یونٹس اور ادارے کامیاب چلائے جا رہے ہیں۔ امید ہے  کونسل میں اس کے اراکین کی شمولیت سے حکومتی اداروں کو مالی اور انتظامی امور میں شفافیت لانے میں مدد ملے گی۔ یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کوئی ایک سیاسی جماعت یا ادارہ مل کر ملکی معیشت میں بہتری نہیں لا سکتا۔تمام اسٹیک ہولڈر کی اجتماعی دانش کی ضرورت ہے۔ یہی وجہ ہے سابق صدر آصف زرداری نے میثاق معیشت کے بارے میں بات کی ہے جس کو عمران خان نے منظور کرتے ہوئے پارٹیوں کے تھینک ٹینک سے ماہرین معاشیات کو لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ تا کہ اجتماعی دانش سے ملک کو اقتصادی بحران سے نکالا جا سکے۔

 آج کل بینک کا عملہ  انتظامیہ کے دباؤ میں ہے۔ ایف بی آر سے بھی خوفزدہ ہے۔ کچھ تو پہلے ہی کروڑوں کا ٹیکس ادا کر رہے ہیں مگر پھر بھی ایف بی آر سے نوٹسوں کا سامنا ہے اور شائد متعلقہ ادارے شبر زیدی کو ناکام بنانا چاہتے ہیں۔ آج کل لوگ اپنے انگوٹھے چھاپنے کیلئے بینکوں میں جا رہے ہیں جس میں بوڑھے، نوجوان، عورتیں اور معذور بھی شامل ہیں۔ ان میں سے اپنے کھاتوں میں پیسے کئی دہائیوں پرانے ہیں انہیں ضبط ہونے کا ڈر ہے۔ ہوس زر میں مبتلا چند افراد کی وجہ سے پوری قوم مشکو ک ہو گئی ہے۔پہلے اسٹیٹ بینک طاقتوروں کے آگے بولنے کی جرات نہیں کرتا تھا اور کالا دھن رکھنے والوں کے مزے تھے کہ اپنی مرضی سے اکاؤنٹ کھول لیں اور بے نامی جائیدادیں بنائیں۔ مگر ایک ریاست کو ایک دھیلا ٹیکس نہ دیں۔ اب لوگ ایمنسٹی سکیم میں اپنے اثاثے ڈکلیئر کرنے کے بارے میں سوچنے لگے ہیں۔  کہ کس طرح اپنے اثاثوں اور دولت کا تحفظ کیا جا سکے۔ آج انگوٹھا لگانے والوں کی دیگر سرکاری اداروں کی طرح لائنیں لگی ہوئی ہیں۔ تمام بینک اپنے صارفین کے ڈیپازٹ سے فائدہ کما رہے ہیں۔

 منی لانڈرنگ کی یا کالا دھن کمانے والے بے نامی اکاؤنٹس والوں کے   پاس قانونی معاونت  ہوتی ہے۔ وہ جنہوں نے سالوں محنت سے پائی پائی جمع کی ہے آج کل وہ دوسروں کے رحم و کرم پر ہیں۔ انہیں بینکوں میں بے مقصد چکر لگوائے جا رہے ہیں۔  بینکوں کو بزرگوں اور عورتوں کی بہتر خدمات کیلئے علیحدہ باؤ میٹرک کی خصوصی سہولیات فراہم کرنی چاہیں۔ بینک کاروباری ادارے ہیں وہ تحقیقاتی مرکز نہیں ہیں۔ انہیں اپنے صارفین کی بہتر خدمات سر انجام دینی چاہئیں۔ ہمارے ٹیکس جمع کرنے والے اداروں کو صنعت کاروں پر چھاپے مارنے کی بجائے اپنے محکموں میں اصلاحات کر کے رشوت ستانی کو ختم کرنا چاہیے۔ور یہ یاد رکھناچاہیے کہ پاکستان کے سارے لوگ دھوکے باز اور جرائم پیشہ نہیں ہیں۔