امریکہ نے ایران پر مزید پابندیاں عائد کردیں

  • اتوار 23 / جون / 2019
  • 5010

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر ’بڑی‘ پابندیاں عائد کر رہے ہیں جن کا آغاز آئندہ ہفتے سے ہو گا۔

 صدر نے ایران کے خلاف مزید پابندیاں عائد کرنے کا اعلان ایک ٹوئٹ میں کیا لیکن انہوں نے پابندیوں کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ ہفتے کو کیمپ ڈیوڈ روانگی سے قبل ذرائع ابلاغ سے بات چیت میں صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ  جب تہران اپنے جوہری ہتھیاروں سے دستبردار ہونے پر رضامند تھا ’میں اس وقت ان کی حمایت کر رہا تھا۔‘

آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں پر حملے کا الزام ایران پر عائد کیے جانے کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ ایران نے ٹینکروں پر حملے کے الزامات کو مسترد کیا ہے۔ گزشتہ ہفتے ایران نے ایک امریکی ڈرون بھی مار گرایا تھا۔

جمعے کو صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ انہوں نے جوابی کارروائی کے طور پر ایران کے متعدد مقامات پر حملوں کا فیصلہ کیا جسے عین وقت پر واپس لے لیا تاکہ شہری اموات سے بچا جا سکے۔ صدر ٹرمپ نے ٹویٹ کی کہ ’امریکہ نے ایران کے تین مختلف اہداف کو اپنے نشانے پر رکھ لیا تھا لیکن جب میں نے ان سے پوچھا کہ اس حملے میں کتنے افراد ہلاک ہوں گے تو جنرل نے جواب دیا کہ 150 افراد، حملے سے دس منٹ قبل میں نے انہیں روک دیا۔‘

ادھر عالمی رہنماؤں نے ان واقعات کے بعد دونوں ممالک کو پر امن رہنے کی اپیل کی ہے۔ جرمنی کی چانسلر انجیلا مرکل نے مسئلے کے سیاسی حل پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ’ہم اسی پر کام کر رہے ہیں۔‘ برطانیہ کے مشرقِ وسطیٰ کے بارے میں وزیر اینڈریو مورسن ایرانی حکام سے بات چیت کے لیے تہران پہنچ رہے ہیں۔ برطانیہ کے محکمہ خارجہ نے کہا کہ مورسن خطے میں ’فوری طور کشیدگی کم کرنے پر زور دیں گے اور وہ امریکہ کے جوہری معاہدے سے انخلا کے بعد ایران کی جانب سے پیدا ہونے والے خدشات پر بھی بات کریں گی۔

امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کے مطابق امریکی حکام نے ایران کے ریڈار اور میزائل نظام کو نشانہ بنانے کے لیے اہداف کا تعین کر لیا تھا، ان اہداف کو میزائلوں کے ذریعے تباہ کرنے کی منصوبہ بندی تھی۔

ایران نے امریکی جوابی کارروائی کے امکانات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دے گا۔ ایرانی حکام پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ انہوں نے فضائی حدود کی خلاف ورزی پر امریکی ڈرون طیارہ گرایا تھا۔ ایران نے کہا تھا کہ اس کی فضائی حدود ایک سرخ لکیر کی مانند ہے جو بھی اسے عبور کرے گا اس کے خلاف کارروائی ہو گی۔