ایران کا انتباہ، امریکہ کی طرف سے سائبر حملہ کی خبریں
- اتوار 23 / جون / 2019
- 5400
ایران نے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ اگر کسی بھی نوعیت کا حملہ کیا گیا تو مشرق وسطیٰ میں اس کے مفادات خاکستر ہوجائیں گے۔
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز کہا تھا کہ انہوں نے آخروقت پر تہران پر حملے کا فیصلہ واپس لیا تھا۔ ایران کے بریگیڈیئر جنرل عبدالفضل نے کہا ہے کہ ایران کی طرف چلائی جانے والی ایک گولی بھی مشرق وسطیٰ میں امریکی اور اس کے اتحادیوں کے مفادات کے لیے تباہی ثابت ہوگی۔
انہوں نے واضح کیا کہ اگر دشمن طاقت سے بھرے ڈبے پر گولی چلا کر عسکری غلطی کرتے ہیں تو خطے میں آگ بھڑک اٹھے گی۔ ایرانی بریگیڈیئر جنرل کے بیان کے بعد تہران کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ ’ایک امریکی جاسوس کو پھانسی دے دی گئی ہے‘۔
ایرانی خبر ایجنسی 'ارنا'نے عسکری حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جلال حاجی وزارت دفاع کے ایئراسپیس آرگنائزیشن میں ٹھیکیدار تھا جو امریکی سی آئی اے اور حکومت کے لیے جاسوسی کرتا تھا۔
خیال رہے واشنگٹن کی جانب سے جوہری معاہدہ منسوخ کیے جانے کے بعد تہران پر متعدد اقتصادی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ اسی دوران امریکہ نے ایران کی پاسداران انقلاب کو عالمی دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا۔ بعد ازاں امریکہ نے تجارتی استثنیٰ میں توسیع سے بھی انکار کردیا۔
اس دوران امریکہ سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق جمعرات کو صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران پر فضائی حملے کرنے کا حکم واپس لینے کے بعد ایرانی ہتھیاروں کے نظام کو سائبر حملے کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے دعویٰ کیا کہ ہے کہ اس سائبر حملے کی مدد سے اُن کمپیوٹر سسٹمز کو متاثر کیا گیا جن سے راکٹ اور میزائل لانچر کنٹرول کیے جاتے ہیں۔
آزاد ذرائع سے اس کمپیوٹر نظام کو نقصان پہنچنے کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق یہ سائبر حملہ ایران کی جانب سے امریکی ڈرون گرائے جانے اور خلیجِ اومان میں تیل کے ٹینکرز پر حملے کے ردِعمل میں کیا گیا۔ امریکہ کے مطابق آئل ٹینکرز پر حملوں کے پیچھے ایران ہے، مگر ایران نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
امریکی میڈیا نے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کے مبینہ سائبر حملے کی منصوبہ بندی کئی ہفتوں سے کی جارہی تھی۔ ذرائع کے مطابق حکام کی جانب سے یہ مشورہ دیا گیا تھا کہ خلیجِ اومان میں تیل کے ٹینکرز پر ہونے والے بارودی سرنگوں کے حملے کا جواب اِس طریقے سے دیا جاسکتا ہے۔
اس کا مقصد ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ہتھیاروں کو کمزور کرنا تھا۔ ایران نے ان ہی ہتھیاروں کی مدد سے امریکی ڈرون گرایا تھا اور امریکہ کے مطابق تیل کے ٹیکرز پر حملہ بھی ان کے ذریعے کیا گیا تھا۔