صدر اردوان کی جماعت کو استنبول میں شکست
- سوموار 24 / جون / 2019
- 5690
ترکی میں مقامی حکومت کے انتخابات میں صدر رجب طیب اردوان کی جماعت اے کے پارٹی کو استنبول میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اپوزیشن نے 54 فیصد ووٹوں کی واضح برتری سے شہر کے مئیر کا انتخاب جیت لیا۔
اپوزیشن جماعت تین ماہ قبل ہونے والے میئر کے انتخابات میں بھی کامیاب ہوئی تھی تاہم طیب اردوان کی اے کے پارٹی نے نتائج تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے دوبارہ الیکشن کروانے کا مطالبہ کیا تھا۔ ترک صدر کی جماعت کی جانب سے نتائج تسلیم نہ کرنے کو مغربی ممالک نے بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ جبکہ ترکی کی اپوزیشن جماعتوں نے اس اقدام کو ترکی کی جمہوریت کے لیے خطرہ قرار دیا تھا۔
ترک ذرائع ابلاغ کے مطابق تمام ووٹوں کی گنتی کا عمل مکمل ہو چکا ہے جس میں 'ریپبلکن پیپلز پارٹی' کے امید وار کو پہلے کے مقابلے میں زیادہ ووٹ ملے ہیں۔ اپوزیشن کی اس کامیابی کو ترکی کے صدر رجب طیب اردوان کے لیے ایک بڑا سیاسی دھچکہ قرار دیا جا رہا ہے۔
انتخابات میں کامیابی کے بعد میئر کے اُمیدوار اکرن امام اوغلو کے ہزاروں حامی استنبول کی سڑکوں پر نکل کر جشن مناتے رہے۔ امام اوغلو نے کامیابی پر استنبول کے عوام کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ 'ہم اس شہر میں جمہوریت مضبوط کریں گے، ہم یہاں انصاف لائیں گے، اس شہر کو ترقی دیں گے یہ میرا وعدہ ہے۔'
سرکاری سطح پر انتخابات کے حتمی نتائج کا اعلان نہیں ہوا تاہم رجب طیب اردوان نے امام اوغلو کو کامیابی پر مبارکباد دی ہے ۔جبکہ ان کے مدمقابل میئر کے امیدوار نے بھی پولنگ ختم ہونے کے دو گھنٹے بعد ہی ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا تھا۔
ترکی کے صدر رجب طیب اردوان ملکی سیاسی منظر نامے پر 2003 سے متحرک ہیں پہلے وہ وزیر اعظم رہے اس کے بعد صدر منتخب ہوئے۔ مصطفیٰ کمال کے بعد انہیں سب سے زیادہ اثر و رسوخ رکھنے والا حکمران تصور کیا جاتا ہے۔ اپنے دور اقتدار کے دوران انہوں نے متعدد اصلاحات متعارف کروائیں اور معاشی ڈھانچے کو تبدیل کیا۔ انہیں ترکی کے قدامت پسند حلقوں کی حمایت حاصل رہی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ عرصے سے جاری معاشی بحران سے ان کی حمایت میں کمی آئی ہے جس کے باعث اقتدار پر ان کی گرفت کمزور پڑ رہی ہے۔ ترکی کی کرنسی مسلسل گر رہی ہے جبکہ افراط زر کی شرح میں اضافے سے مہنگائی بھی بڑھ گئی ہے۔
ترک صدر کی جماعت اے کے پارٹی کو 25 سال میں پہلی دفعہ استنبول سے شکست ہوئی ہے جو اس کا مضبوط گڑھ سمجھا جاتا تھا۔ اس سے قبل انقرہ کے انتخابات میں بھی اردوان کی جماعت کو شکست ہو چکی ہے۔