پنجاب کی بڑی یونیورسٹیوں کا دورِ یتیمی کب ختم ہوگا ؟
- تحریر شیخ عبدالرشید
- سوموار 24 / جون / 2019
- 4750
کسی قوم و ملک کی پائیدار ترقی میں اعلیٰ تعلیم کلیدی کردار کی حامل ہوتی ہے۔معاشی،سیاسی ،سماجی اور تہذیبی استحکام کے لیے قوموں کو علوم و فنون کی ضرورت ہوتی ہے۔اس ضرورت کو یونیورسٹیاں ہی پورا کرتی ہیں۔
قومی تعمیرِنو میں یونیورسٹیاں اہم ترین وسیلہ ہوتی ہیں ۔ایک جدید یونیورسٹی کے عناصر اس کی فیکلٹی،طلبہ ،انتظامیہ اور زیریں ڈھانچہ ہوتے ہیں۔ وسیع مفہوم میں یونیورسٹی کا مقصد موجودہ علم کی ترسیل ،نئے علم کی تخلیق ،اور تجزیاتی و تخلیقی قوتوں کی آبیاری ہوتا ہے۔ یورپ میں نشاة ثانیہ کے بعد یونیورسٹیاں سماجی ارتقاء کا نتیجہ تھیں اور معاشی و سائنسی ترقی کے لیے قوتِ محرکہ بھی ۔تحقیق جدید جامعات کا اعلیٰ ترین وظیفہ ہے جس سے مراد نئے خیالات ،تصورات ،اصول اور اطلاقات کی تخلیق ہے ۔ایک غیر جدید معاشرہ بہترین یونیورسٹیوں کو چلانے کا اہل ہی نہیں ہوتا ۔بہترین اور عصری تقاضوں سے ہم آہنگ جامعات کے قیام و استحکام کے لیے طفیلی نظام پر انحصار کیا ہی نہیں جا سکتا ۔
یہی وجہ ہے کہ مہذب اقوام کی ترجیحات میں اعلیٰ تعلیم اور یونیورسٹیاں سب سے نمایاں ہوتی ہیں ۔ترقی یافتہ اقوام جانتی ہیں کہ اعلیٰ تعلیم میں سرمایہ کاری کبھی رائیگاں نہیں جاتی بلکہ یہ سرمایہ کاری زیادہ منافع بخش اور مسلسل ثمرآور ہے ۔۔ آج کی جدید یونیورسٹیاں وژنری قیادت اور بصیرت افروز اور علم دوست راہبری کی متقاضی ہیں لیکن اسے قومی بدقسمتی کے سوا کیا کہئے کہ ہمارے ہاں سرکاری یونیورسٹیاں ریاستی یتیموں کی حیثیت اختیار کر چکی ہیں ۔فنڈز کی کمی کے بحران کا شکار جامعات ریسورس مینجمنٹ کی حامل لیڈرشپ سے بھی محروم ہیں ۔لگ بھگ سال بھر سے پنجاب کی بڑی یونیورسٹیوں میں وائس چانسلرز کی سیٹیں خالی ہیں ۔حیرت ہے کہ ارباب اختیار کو معلوم ہوتا ہے کہ کب کس کس یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی مدت ختم ہو رہی ہے لیکن عشروں سے یہ پریکٹس ہے کہ وقت پر وائس چانسلرز کی تعیناتی کا عمل شروع ہی نہیں کیا جاتا ۔
یونیورسٹیوں سے وابستہ اساتذہ ،انتظامیہ اور طالبعلم سب خوب جانتے ہیں کہ عارضی مدت کے نام پر قائم مقام وائس چانسلرز متحرک جامعات کے ترقی کے سفر کا روڑا بن جاتے ہیں ۔عمومی طور پر قائم مقام وی سی انہی جامعات کا سینئر پروفیسر لگا دیا جاتا ہے ۔وہ پروفیسر مقامی تعصبات کا مجسمہ ثابت ہوتا ہے اور اپنی کمیوں اور کوتاہیوں کا ازالہ کرنے کی بجائے کم ظرفی ،متعصب مزاج اور ذاتی مفادات کے لیے انتقام کی آگ بھڑکا کر پچھلے کئی سالوں کی ترقی کو جلا کر راکھ کردیتاہے ۔موجودہ دور میں بھی نومبر اور دسمبر میں پنجاب کی پانچ بڑی جامعات کے وائس چانسلرز کی مدت معیاد ختم ہوئی۔ اس سے پہلے بھی کئی جامعات میں وائس چانسلرز کی پوسٹ خالی تھیں سب میں قائم مقام وائس چانسلرز کو چارج دیا گیا۔ لیکن جس طرح ان سات آٹھ ماہ میں ان قائم مقام وائس چانسلرز نے بادشاہانہ انداز ،اور تحکمانہ مزاج کے ساتھ جامعات کو "رگڑا" ہے اس کا انداز ان مہینوں کے قومی اخبارات میں بالخصوص روزنامہ ڈان میں چھپنے والی خبروں سے ہی ہو جاتا ہے ۔ان قائم مقام وائس چانسلرز کو روزمرہ امور کو چلانے کے لیے دیکھ بھال کا اختیار ملا ،لیکن ہوس طاقت کے پجاریوں نے اپنی اپنی نااہلی کو چھپانے کے لیے انتقامی پالیسیوں سے ذاتی عداوتوں کا کھیل رچا یا اور جامعات محض نجی لڑائیوں کا اکھاڑہ بنا دی گئیں ۔
دنیا بھر میں جامعات اس لیے فکر و علم کا مرکز رہی ہیں کہ وہاں آزادئ فکر و اظہار کو اہمیت دی جاتی ہے لیکن قائم مقام وائس چانسلرز میں سے کئی نے انتظامی کمینگی کا مظاہرہ کرتے ہوِے اختلاف رائے کو مخالفت سمجھ کر کچلنے کی پالیسی پر ہی ساری توانائی صرف کردی ۔علمی مباحثے،مذاکرے ،سیمینارز اور کانفرنسیں،ادبی میلے دانش گاہوں کی شناخت ہوتے ہیں ۔ لیکن حادثاتی طور پر بڑی ڈگریوں کے حامل چھوٹے لوگ اس کی اہمیت سے نابلد ہوتے ہیں ۔گزشتہ آٹھ ماہ میں کئی بڑی یونیورسٹیوں میں کوئ علمی و فکری اور ادبی و سائنسی تقریب منعقد نہ ہو سکی ۔وسطی پنجاب کی ایک بڑی یونیورسٹی کی علم دوستی ،ادب پروری اور دانشورانہ شناخت تجاہل عارفانہ سے مٹا کر رکھ دی گئی ۔
یونیورسٹیوں کی تعمیر و ترقی عشروں کی محتاج ہوتی ہے لیکن ان کی تباہی کے کے فہم و دانش سے عاری ایک متکبر قائم مقام وائس چانسلر ہی کافی ہوتا ہے ۔ گزرے آٹھ ماہ میں یونیورسٹیوں کا جو نقصان ہوا ہے اس سے کئی یونیورسٹیاں تو شناخت کے بحران کا شکار ہوگئی ہیں ۔ اعلیٰ تعلیم کے ارباب اختیار کی مسلسل خاموشی نے کئی سوالوں کو جنم دیا ہے ۔۔ پنجاب کی بڑی یونیورسٹیوں کے لیے یہ دور یتیمی طویل ہوتا جا رہا ہے ۔خدا خدا کر کے اب پنجاب کی پانج جنرل یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کی تقرری کے لیے سلیکشن کمیٹی نے انٹرویوز کا کام شروع کیا ہے ۔اس نازک موقع پر اتنا عرض کرنا ضروری ہے کہ کمیٹی کے ممبران کے وژن اور تجربے کی بنا پر اعلیٰ تعلیم کے فروغ سے محبت کرنے والے توقع کرتے ہیں کہ آنے والے منتخب وائس چانسلرز سیاسی ڈیروں پر حاضری دے کر عہدوں کی لابنگ کرنے والے نہیں ہوں گے۔ یونیورسٹیاں قائم مقام نااہلیت کا گرہن ختم ہونے کے بعد سیاسی مداخلتوں کی متحمل نہیں ہو سکتیں ۔
اعلیٰ تعلیم کے بجٹ میں کمی کے بعد آنے والے دنوں میں جامعات کو ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو ریسورس موبلائزیشن کی اہلیت کی حامل ہو۔ ایسے وائس چانسلرز لگائے جانے چاہیئں جو اگواکاری کی صفات سے مالا مال ہوں ،روحِ عصر کا ادراک رکھتے ہوں ۔جو علم کی طاقت اور تحقیق کے مفاہیم سے بخوبی آشنا ہوں۔جامعات کو ایسی راہبری کی اشد ضرورت ہے جو اپنے فکروعمل کی دنیا اور خیال کی گزرگاہوں میں بکھری ہوئ دانائی کی دھوپ کو جامعات میں ہونے والی محفلوں کی منڈیر پر رکھ دینے کی اہل ہو ۔ تاکہ فکری ارتقاء کا سفر بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہے ۔
دانش گاہوں کے اگواکار وہی ہونے چاہیئں جو جانتے ہوں کہ کہ زندگی میں توانائیاں ،افکار اور نظریات کی پختگی سے آیا کرتی ہیں۔ افکار جتنے جاندار ہوں گے معاشرہ اتنا ہی مستحکم ہوگا ۔یاد رہے یونیورسٹیوں کو دہاڑی دار تعلیمی و تدریسی مزدوروں کی ضرورت نہیں ۔جامعات میں پہلے ہی ان کا "رش"ضرورت سے زیادہ ہے ۔ہماری یونیورسٹیوں کو ایسے وائس چانسلرز درکار ہیں جو سرکاری جامعات کو روایتی فکر و نظم اور بیوروکریٹک و پسماندہ طریقہ ہائے کار کو ترک کر کے وسائل کی بہتر اور مناسب منصوبہ بندی کر سکیں۔ بصورتِ دیگر ان جامعات کے مسائل گھمبیر سے گھمبیر تر ہوتے چلے جائیں گے ۔
سلیکشن کمیٹی ایسے وائس چانسلرز ڈھونڈ کر دے جو یونیورسٹیوں کو قومی تقاضوں سے ہم آہنگ علمی ثقافت پیدا کرنے کے قابل بنا سکیں ۔پنجاب کے اعلیٰ تعلیم کے مقتدر حلقوں سے التماس ہے کہ کہ وہ ایسے لوگوں کو وائس چانسلر لگائیں جو وی سی لگتے ہی نہ ہوں جچتے بھی ہوں ۔ورنہ ان کے لگائے گئے قائم مقام وائس چانسلرز کی "مہربانیوں " سے یونیورسٹیاں تیزی سے خامیوں ،الجھنوں اور ابتری کا شکار ہیں ۔یونیورسٹیوں کے لیڈر محض تحقیقی مقالہ جات کی تعداد کے حامل ریسرچر نہیں ہوتے بلکہ مطلوبہ مقاصد کے حصول اور قومی بیانیے میں امتزاج پیدا کرنے کی آگہی کے حامل،صداقت و ذہانت کا پیکر اور دانش و بصیرت کے حامل ہوتے ہیں ۔ امید واثق ہے کہ سلیکشن کمیٹی جلد از جلد اپنا کام مکمل کر کے حکومت کو جامعات میں فوری مستقل وائس چانسلرز لگانے کا موقع دے گی ۔پہلے ہی اس کام میں بہت تاخیر ہو چکی ہے اور یتیمی کی سزا بھگتتی یونیورسٹیاں اور ان سے وابستہ علم دوست ناگفتہ بہ صورتحال سے نجات کے لیے "پباں پار " کھڑے ہیں ۔
محکمہ ہائر ایجوکیشن کو قائم مقام وائس چانسلرز کی کارکردگیوں کا غیر جانبدار جائزہ لے کر اداروں کو ہونے والے نقصان کی تلافی کے کڑا احتساب کرنا چاہئے ۔ آج کے عہد میں معاشی ترقی اور دفاعی مہارتوں میں اعلیٰ تعلیم کو 'کُھل جا سم سم ' کی حیثیت حاصل ہے اس لیے تبدیلی کے دعوے داروں کو یونیورسٹیوں کو اپنی ترجیحات میں جگہ دینی چاہیئے اور پنجاب کی بڑی یونیورسٹیوں میں نئے بجٹ کے لاگو ہونے سے پہلے مستقل وائس چانسلرز تعینات کر دینے چاہیئں۔ تاکہ وہ آنے والے دنوں کے لیے اپنے اپنے وژن کے مطابق پالیسیاں بنا اور چلا سکیں ۔
یونیورسٹیوں میں نئے سال کے داخلوں کا وقت آگیا ہے ایڈمشن پالیسی مستقبل بینی کی متقاضی ہوتی ہے۔ کئی اداروں میں قائم مقام وائس چانسلرز نے کسی مشاورت اور اجتماعی دانش کو استعمال کیے بغیر ذاتی خواہشات کی بنیاد پر ایڈمشن پالیسیوں کا اعلان کر دیا ہے۔ ان پالیسیوں کے منفی اثرات کا سامنا بھی نئے آنے والے مستقل وائس چانسلرز کو بھگتنا ہوگا ۔ ان چند معروضات کا بنیادی مقصد ہائر ایجوکیشن کے ارباب اختیار کے قلوب پر دستک دے کر یاد دہانی کروانا ہے کہ جلد از جلد مستقل وائس چانسلرز کی تعیناتی کا عمل مکمل کر کے پنجاب کی بڑی یونیورسٹیوں کا دورِ یتیمی ختم کیا جائے تاکہ ان اداروں سے عارضی علمی و انتظامی خزاں کا خاتمہ ہو اور قوم کے نوجوان تعلیمی بہار سے مستفید ہو سکیں ۔