نندی پور ریفرنس میں بابر اعوان بری، راجہ پرویز اشرف کی درخواست مسترد
- منگل 25 / جون / 2019
- 4870
اسلام آباد کی احتساب عدالت نے قومی خزانے کو 27 ارب روپے کا نقصان پہنچانے پر دائر نندی پور ریفرنس سے حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کے رہنما بابر اعوان اور جسٹس (ر) ریاض کیانی کو بری کردیا ہے۔
دوسری جانب عدالت نے سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف، شمائلہ محمود اور ڈاکٹر ریاض محمود کی بریت کی درخواستیں مسترد کردیں۔ واضح رہے کہ نندی پور ریفرنس، قانونی طور نندی پور توانائی منصوبے پر نظرثانی میں غیر معمولی تاخیر کے بارے میں ہے، جس سے لاگت میں کئی ارب روپے کا اضافہ ہوا تھا۔
ریفرنس میں قومی احتساب بیورو نے سابق وزیر قانون اور تحریک انصاف کے رہنما بابر اعوان، سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف اور وزارت قانون و انصاف اور پانی و بجلی کو اس کیس میں ملزم ٹھہرایا تھا۔ قومی احتساب بیورو نے وزیراعظم کے مشیر پارلیمانی امور بابر اعوان کو گزشتہ برس اس ریفرنس میں نامزد کیا تھا جس کے بعد وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے تھے۔
نیب کی جانب سے 5 ستمبر کو نندی پور پاور پروجیکٹ ریفرنس دائر کرنے کے بعد 18 ستمبر کو احتساب عدالت نے اس کی سماعت کا باقاعدہ آغاز کیا تھا۔ ریفرنس میں نیب نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ نندی پور پاور پروجیکٹ میں 2 سال ایک ماہ اور 15 دن کی تاخیر ہوئی، جس کی وجہ سے قومی خزانے کو 27 ارب 30 کروڑ روپے کا نقصان پہنچا۔
ریفرنس میں شامل دیگر ملزمان میں سابق سیکریٹری قانون جسٹس (ر) ریاض کیانی اور مسعود چشتی، پانی اور بجلی کے سابق سیکریٹری شاہد رفیق اور وزارت قانون، وزارت پانی و توانائی کے کچھ عہدیدار شامل ہیں۔
پاکستان مسلم لیگ(ن) پنجاب کے صدر رانا ثنا اللہ خان کا بابر اعوان کی بریت پر ردِ عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس فیصلے سے 'تحریک احتساب' کی قلعی کھل گئی اور نیب نیازی گٹھ جوڑ کا ایک اور ناقابل تردید ثبوت سامنے آگیا۔
رانا ثناءاللہ کا کہنا تھا کہ آج ثابت ہوگیا کہ ووٹ چوری کرنے والوں کو 7 خون بھی معاف ہیں۔