نئی پابندیوں کے بعد امریکہ کے ساتھ سفارت کاری کا راستہ بند ہوگیا: ایران
- منگل 25 / جون / 2019
- 4960
ایران کے صدر حسن روحانی نے امریکہ کی جانب سے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای پرنئی پابندیوں کو مسترد کیا ہے۔
غیرملکی خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق حسن روحانی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کو ایک مرتبہ پھر ذہنی طور پر بیمار قرار دیا۔ ایرانی صدر نے سرکاری ٹی وی پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای پر پابندیاں ناکامی سے دو چار ہوں گی کیونکہ ان کے بیرون ملک کوئی اثاثے نہیں ہیں۔
انہوں نے اعلان کردہ نئی پابندیوں کو امریکی مایوسی سے تشبیہ دی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’وائٹ ہاؤس کے اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ذہنی طور پر معذوری کا شکار ہے اور تہران کی برداشت کو اس کا خوف تصور نہ کیا جائے‘۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای اور فوجی کمانڈروں پر مالی پابندیوں سے متعلق حکم نامے پر دستخط کیے تھے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران کے سپریم لیڈر جارحیت کے ذمہ دار ہیں۔
خیال رہے کہ چند روز قبل ایران کی پاسداران انقلاب نے جنوبی ساحلی پٹی پر امریکی جاسوس ڈرون مار گرایا تھا۔ پاسداران انقلاب کے اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ کوہ مبارک نامی حصے میں ایرانی فضائیہ نے امریکی ساختہ گلوبل ہاک ڈرون کو ملک کی فضائی حدود کی خلاف ورزی پر نشانہ بنایا تھا۔
گزشتہ ایک ماہ کے میں امریکہ، مشرق وسطیٰ میں مرحلہ وار ڈھائی ہزار فوجیوں کی تعیناتی کا اعلان کرچکا ہے۔
ایران کی حکومت نے بھی امریکہ کی جانب سے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای اور دیگر اعلیٰ حکام پر عائد کی جانے والی سفری پابندیوں پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ ان پابندیوں کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان "سفارت کاری کا راستہ بند ہوگیا ہے۔"
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان عباس موسوی نے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ صدر ٹرمپ کی بے صبر حکومت اس بین الاقوامی انتظام کو تباہ کرنے کے درپے ہے جو عالمی امن اور سلامتی برقرار رکھنے کا ضامن ہے۔