بلاول اور مریم کا مزاحمتی بیانیہ اور ارباب اقتدار کا فکری فہم!
- تحریر افتخار بھٹہ
- منگل 25 / جون / 2019
- 6750
پاکستان کی سیاست میں ایک نئی جنگ کا آغاز ہو رہا ہے۔ نواز شریف اور زرداری جیل میں ہیں اپوزیشن جماعتوں کی نئی صف بندی بنانے میں مولانا فضل الرحمن مصروف ہیں جو 26جون کو اسلام آباد میں کل جماعتی کانفرنس منعقد کر رہے ہیں۔
اپوزیشن یہ لڑائی پارلیمنٹ کے اندر کی بجائے باہر لڑنے میں دلچسپی رکھتی ہے کیونکہ حکومت اپوزیشن کی کوئی بھی تجویز ہو جو کسی سیاسی مفاہمت اور معاشی نصاب کے حوالہ سے ہو اس کو این آر او قرار دے کر دھتکار دیتی ہے۔ لہذا فی الحال میثاق معیشت یا جمہوریت کو بھول ہی جانا چاہیے۔ مریم نواز نے بھی میثاق میعشت کو نا قابل قبول قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ہم حکومت کے ساتھ مفاہمت کے نام پر کسی مزید معاشی بگاڑ کا حصہ نہیں بننا چاہتے۔ پارلیمانی نظام سے آوازیں اٹھ رہی ہیں کہ احتساب کو روک کر ملکی صورتحال کو سنوارنے کے معاملات کو آگے بڑھایا جا سکے۔ ہر طرف ایک بے چینی اور انتشار کی کیفیت ہے۔
حکمرانوں کے ساتھ تقریباً تمام ادارے ایک پیج پر ہیں۔ سب اپنے اپنے حساب سے امور مملکت چلا رہے ہیں جن میں آئین اور قانون کی پیروری نہیں کی جا رہی ہے۔ ان اداروں کے سربراہوں کے منہ سے نکلے ہوئے حرف ہی قانون ہوتے ہیں۔ ان افراد کی اقتدار سے باہر ہونے کے بعد رعونت ختم ہو جاتی ہے۔ اختلافات اور انتشار ہی سامنے آتا ہے۔ ایوب خان کے وقت کتنا استحکام تھا مگر مشرقی پاکستان کا المیہ ہو گیا جس کی وجہ صوبوں کی خود مختاری کو محدود کر دینا تھا۔ جنرل ضیاء الحق نے غیر جماعتی جمہوریت کے ذریعے اپنے سیاسی مخالفین کو میدان سیاست سے خارج کرنے کیلئے ایم کیو ایم کو ابھارا اور علاقائی و نسلی تنظیموں کی سر پرستی کی۔ افغانستان کے تناظر میں جہادی بیانیہ کو اجاگر کرنے کی کوشش کی گئی جس کی ترقی پسند جماعتوں بشمول پاکستان پیپلز پارٹی نے مخالفت کی۔ اس بیانیے سے، سماجی، معاشی اور مذہبی و فرقہ وارانہ انتشار میں جس کا خمیازہ ہم ابھی تک بھگت رہے ہیں۔
روس کی افغانستان میں آمد اور رخصتی، امریکہ کی آمد اور پھر امریکہ کی رخصتی کے دوران دریاؤں کے پلوں کے نیچے سے کافی پانی گزر چکا ہے۔ اب پاکستان میں اس عرصہ کے دوران ابھارے ہوئے جہادی کلچر میں وہ شدت نہیں رہی۔ شائد اس کی عالمی سیاست میں کوئی گنجائش موجود نہیں ہے اور نہ ہی مذہبی اور سیاست دانوں کی اتنی تعداد ہے جو کہ اس بیانیہ کی حامی ہے۔ جب تک نواز شریف کے تعلقات ریاستی اداروں کے ساتھ دوستانہ رہے اور وہ جنرل ضیاء الحق کے عہد سے لے کر تین مرتبہ وزیر اعظم کے عہدے پر بھی فائز رہے۔ میاں نواز شریف نے 1993میں ریاستی اداروں کے ساتھ مفاہمت کرکے اقتدار حاصل کیامگر وہ اپنی انا پرستی کی وجہ سے اقتدار کی مدت پوری نہ کر سکے۔ 1993 میں کمزور جماعت کے ذریعے اپنی سیاسی وجودیت کا اظہار کرنے کا رسک لیا اس کی یہ معمولی مزاحمت عوامی مقبولیت سے ہمکنار کر گئی۔ 1996میں پھر ڈیل کر کے دو تہائی اکثریت حاصل کی اور با اختیار حکمران بننے کی کوشش کی۔ مگر فوجی انقلاب کا سامنا کرنا پڑا۔ طیارہ ہائی جیکنگ کیس میں عمر قید کی سزا ہوئی ڈیل کے ذریعے سعودی عرب روانگی ہوئی۔ تیسری بار بے نظیر بھٹو کے پرویز مشرف کے ساتھ سیاسی این آر او کے بعد میاں نواز شریف کو دوبارہ وطن آنے کا موقع ملا۔
2008کے انتخابات میں اقتدار کی منزل حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ انہوں نے پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کا مقدمہ درج کروایا اور با اختیار وزیر اعظم بننے کی کوشش میں اداروں کے ساتھ محاذ آرائی کرنے کی کوشش کی۔ جس کی نتیجہ میں اقتدار سے باہر کر دیا گیا۔ نواز شریف کا یہ طرز سیاست مقتدرہ طبقات کو ایک آنکھ نہیں بھایا تو احتساب کے عمل کا آغاز ہوا۔ جس کے نتیجہ میں ان کو اور بیٹی کو کرپشن کے مقدمات میں سزا ہوئی۔ نواز شریف نے عدلیہ سے سزا کی وجہ سے وزارت اعظمیٰ سے بر طرف ہونے کے بعد مزاحمتی رویہ اختیار کیا۔ اور مقتدرہ طبقات کی اتھارٹی کو چیلنج کرتے ہوئے کسی قسم کی مفاہمت سے انکار کر دیا۔
یہ دلچسپ حقیقت ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے بعد ملک میں سیاسی جدو جہد کا کلچر ختم ہو گیا تھا۔ حالا نکہ بے نظیر بھٹو نے جنرل ضیاء الحق کے دور میں طویل قید کاٹی اور 1986میں پاکستان آنے کے بعد جمہوری حقوق کیلئے تحریک کا آغاز کیا۔ بر صغیر میں مزاحمت کا تصور انگریزوں کے خلاف جدو جہد کے حوالے سے ہے مگر یہ تاثر آہستہ آہستہ زائل ہوتا گیا۔ جس کی وجہ افغانستان میں سویت یونین کی شکست اور اس کے منتشر ہونے سے پاکستان کا بائیاں بازو خاصہ متاثر ہوا تھا۔ سیاست سے نظریاتی رنگ ناپید ہو گیا جس نے دائیں اور بازو کی سیاست کو زندہ رکھا ہوا تھا۔
پاکستان کے سیاسی حلقوں دائیں اور بائیں بازو کی جماعتوں جماعت اسلامی، مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی نے نظریاتی سیاست کرنے کی بجائے پاور پالیٹکس کو اختیار کیا جس کا مقصد اپنے اپنے سیاسی اور مالی مفادات کی حفاظت کیلئے اقتدار کا حصول تھا۔ جس میں عوام کو معاشی اور سماجی انصاف دینے کا کوئی منشور موجود نہیں تھا۔ یہی صورتحال آج بھی ہے۔ وہی با اثر گھرانے مختلف جماعتوں میں شامل ہیں جن کے خانوادے جنرل ضیاء الحق، مسلم لیگ ن، مسلم لیگ ق اور پی ٹی آئی میں اہم عہدوں پر فائز ہیں۔ یہ بڑی بد قسمتی ہے کہ پاکستان کی قیادت نے کبھی تاریخ سیاست، عمرانیات اور معاشیات کا مطالعہ نہیں کیا۔ اور نہ ہی انہیں کتاب بینی کی عادت ہے۔ ماضی میں ذوالفقار علی بھٹو، بے نظیر بھٹو شہید، حسین شہید سہروردی، میاں ممتاز دولتانہ اور دیگر چند قائدین کتاب دوست رہے ہیں اور انہوں نے مختلف سیاسی فلسفوں اور نظریات کے تقابلی جائزہ کے بعد اپنی سوچوں کی سمت کو استوار کرنے کی کوشش کی ہے مگر اب ایسی صورتحال بالکل دکھائی نہیں دیتی۔ دیکھیں حکمران جماعت کے وزراء کی طرف سے ایسے بیان آتے ہیں جن کا تاریخ، سیاست اور سماجیت کے حوالے سے کوئی نظریاتی پس منظر نہیں ہوتا اور اس میں محض الزام تراشی اور ذاتی تعصبات کو ابھارا جاتا ہے۔
آج مریم نواز اپنی سیاست کے مزاحمتی بیانیہ کو آگے لے کر جا رہی ہے اور میاں نواز شریف کو ہی مسلم لیگ ن کا حقیقی قائد قرار دیتی ہے۔ جبکہ اس جماعت میں بیشتر ایسے افراد موجود ہیں جنہوں نے مقتدار طبقات کے ساتھ ہمیشہ سمجھوتہ کیا ہے۔ اب مریم نواز کے ارد گرد مسلم لیگ کے ایسے راہنما ہیں جو کہ مزاحمتی رویے رکھتے ہیں۔ جن میں پرویز رشید، رانا ثناء اللہ، احسن اقبال، خواجہ محمد آصف وغیرہ شامل ہیں۔ انہیں نواز شریف کے ساتھی سمجھا جاتا ہے۔ مریم نواز اپنے مزاحمتی بیانیہ کو کس حد تک آگے لے جاتی ہے اس کا فیصلہ آنے والا وقت کرے گا۔
اسی طرح آصف زرداری جو کہ مفاہمتی سیاست کے حامی ہیں انہوں نے مریم نواز کے مزاحمتی بیانیہ کو دیکھتے ہوئے بلاول آصف زرداری کو آگے بڑھایا ہے۔ جس نے گزشتہ دنوں گوٹکی کے جلسہ عام میں خطاب کرتے ہوئے خود کو میر مرتضیٰ بھٹو کا بھانجے ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے ماموں کی طرح جھکنے والا نہیں ہے۔ جس سے محسوس ہوتا ہے بلاول بھٹو ایسا رومانوی کردار چاہتا ہے، جو کہ ان کی والدہ اور والد پر سیاسی مفاہمت کا داغ دھو ڈالے اور اس کی جدو جہد عوامی حقوق کے حصول کا بیانیہ عوام کے دلوں کا بیانیہ بن جائے۔ اس کے ارد گرد ترقی پسند فکر رکھنے والے قمر زمان کائرہ، چوہدری منظور اور فرحت اللہ بابر وغیرہ موجود ہے جو کہ اپنے نظریاتی فہم کے مطابق بلاول بھٹو کے سیاسی کردار میں نکھار پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
پاکستان کی بد قسمتی ہے یہاں پرمقتدرہ اداروں کی منصوبہ بندی سے سیاسی جماعتوں اور قیادت کو صوبائی سطح پر محدود کر دیا گیا ہے اور ان کی مزاحمت بھی صوبے تک محدود دکھائی دیتی ہے۔ بلاول قومی قیادت کے حصول کیلئے جدو جہد کر رہے ہیں جس سے ایک نیشنلسٹ قیادت کا سیاسی کلچر پروان چڑھے گا۔ یاد رہے کہ پیپلز پارٹی کی جبلت میں مزاحمتی رویے موجود ہیں جس کا ثبوت بھٹو خاندان کی عوامی حقوق اور جمہوریت کی خاطر قربانیاں ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری کا سیاسی بیانیہ مزاحمت کی طرف جاتا ہوا نظر آ رہا ہے۔
معاملات تیزی سے ابتر ی کی طرف جا رہے ہیں۔ تحریک انصاف کی قیادت کو احساس کر لینا چاہیے کہ وہ اپوزیشن میں نہیں حکومت میں ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں جب کوئی نئی پارٹی بر سر اقتدار آتی ہے تو جانے والی پارٹی اس کو حکومت چلانے کیلئے مدد کی پیش کش کرتی ہے۔ جبکہ پاکستان میں کبھی ایسا نہیں ہوا۔ جانے والے پر ہمیشہ الزام تراشی کی جاتی ہے۔ عمران خان ریاست مدینہ کے نظام کی بات کرتے ہیں جو کہ پندر سو سالوں میں کسی ملک میں دہرایا نہیں گیا۔ عمران خان کو آج کی تیسری دنیا کی ترقی یافتہ ریاستوں، ملائشیا، ترکی، ویتنام اور انڈو نیشیا کے ماڈل پر کام کرنا چاہیے اور ان ممالک کے عملی تجربات سے سیکھنا چاہیے۔ محض اپنی انا کی فصیلوں میں بند ہو کر خود کو ریاستی معاملات میں حرف آخر بنانے سے گریز کرنا چاہیے۔
کرپشن پاکستان کا اہم مسئلہ ہے مگر اس کی جڑ ملک کے غیر پیدا واری نظام میں ہے جس میں اصلاحات کے ذریعے تبدیلی کی ضرورت ہے۔ اگر عمران خان ملک سنوارنے میں ناکام رہے تو مریم نواز اور بلاول بھٹو زرداری کے سیاسی بیانیے سر چڑھ کر بولیں گے۔