اپوزیشن نے چئیرمین سینیٹ تبدیل کرنے کا اصولی فیصلہ کرلیا، بجٹ اور قرض کمیشن مسترد

  • بدھ 26 / جون / 2019
  • 5360

اپوزیشن  کی کُل جماعتی کانفرنس میں چیئرمین سینیٹ کو آئینی طریقے سے ہٹانے اور 'دھاندلی زدہ' عام انتخابات کے خلاف 25 جولائی کو یوم سیاہ منانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اے پی سی کے بعد اپوزیشن رہنماؤں کی پریس کانفرنس کے دوران مولانا فضل الرحمٰن نے بتایا کہ اجلاس میں ملک کو درپیش صورتحال پر تفصیلی گفتگو اور مباحثہ ہوا۔ ہر جماعت نے غیر مبہم انداز میں اپنا نقطہ نظر بیان کیا اور متعدد امور پر اتفاق کیا۔ انہوں نے کہا کہ طویل اجلاس میں متفقہ طور پر متعدد قراردادیں منظور کی گئیں۔

اجلاس نے بجٹ 2019 کو عوام دشمن، تاجر دشمن، صنعت دشمن اور تعلیم و صحت دشمن قرار دے کر مسترد کردیا اور اتفاق کیا کہ اپوزیشن کی تمام سیاسی جماعتیں اس کے خلاف پارلیمنٹ کے اندر اور باہر احتجاج کریں گی۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ عوام کو جعلی مینڈیٹ، دھاندلی زدہ اور نااہل حکومت کی پیدا کردہ اذیت ناک مہنگائی اور معاشی مشکلات کے کرب سے نجات دلانے کی بھرپور کوشش کی جائے گی اور اس سلسلے میں پہلے مرحلے میں تمام سیاسی جماعتیں عوامی رابطہ مہم شروع کریں گی۔ تاکہ رائے عامہ کو منظم کیا جاسکے۔

اجلاس نے مطالبہ کیا ہے کہ وزیرستان سے تعلق رکھنے 2 اراکین اسمبلی کے پروڈکشن آرڈر جاری کیے جائیں تاکہ وہ پارلیمنٹ میں اپنے حلقے کے عوام کی نمائندگی کر سکیں۔ اجلاس میں پارلیمانی، آئینی اور سول حکمرانی کی بالادستی پر زور دیا گیا۔ ججز کے خلاف سیاسی بنیادوں پر بنائے گئے ریفرنسز کو عدلیہ پر حملہ قرار دیا اور مطالبہ کیا گیا کہ ان ریفرنسز کو فوری طور پر واپس لیا جائے۔

سربراہ جے یو آئی (ف) کا کہنا تھا کہ اجلاس نے عدلیہ میں اصلاحات، ججز کی تقرری کے طریقہ کار پر نظر ثانی اور سوموٹو اختیارات کے استعمال سے متعلق قانون سازی کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ اجلاس میں اپوزیشن کے تمام اراکین نے عام انتخابات 2018 میں ہونے والی دھاندلی کی تحقیقات سے متعلق بنائی گئی پارلیمانی کمیٹی سے فی الفور مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا کیونکہ اس کمیٹی کو جان بوجھ کر غیر فعال بنایا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اجلاس نے یہ فیصلہ بھی کیا کہ 25 جولائی 2019 کو 'دھاندلی زدہ' انتخابات کے خلاف یوم سیاہ منایا جائے گا۔

مولانا فضل الرحمٰن نے بتایا کہ اجلاس نے فیصلہ کیا  ہے کہ ایک کُل جماعتی رہبر کمیٹی تشکیل دی جائے گی جو آئندہ کی مشترکہ حکمت عملی تیار کرے گی۔  انہوں نے کہا کہ اجلاس نے فیصلہ کیا کہ سینیٹ کے موجودہ چیئرمین کو آئینی اور قانونی طریقہ کار کے ذریعے ہٹایا جائے گا اور ان کی جگہ نیا چیئرمین لایا جائے گا۔ رہبر کمیٹی سینیٹ کے نئے چیئرمین کے لیے متفقہ امیدوار کا نام بھی تجویز کرے گی۔

اجلاس نے مطالبہ کیا کہ لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے قانون سازی کی جائے۔ وہ لوگ جو سیکیورٹی اداروں کی تحویل میں ہیں اور کسی عدالت میں پیش نہیں کیے گئے ان کو عدالتوں کے سامنے پیش کیا جائے۔ جبکہ تشدد کے استعمال کے خلاف قانون سازی کی جائے۔ اجلاس نے میڈیا پر اعلانیہ و غیر اعلانیہ پابندیوں اور سنسرشپ کی مذمت کی گئی اور ان پابندیوں کو فوری ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا۔

اجلاس نے حکومت کے قائم کردہ  قرض انکوائری کمیشن کو مسترد کیا۔ اس اقدام کو پارلیمان پر حملہ قرار دیتے ہوئے غیر آئینی و غیر قانونی کہا گیا ہے۔

مولان فضل الرحمان نے کہا کہ تمام حقائق عوام کے سامنے لانے کے لیے ایک پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے جس میں حکومت اور اپوزیشن کے نمائندوں کی تعداد برابر ہو اور یہی کمیٹی  2000 سے لے کر اب تک تمام گرانٹس اور قرضہ جات کے حصول اور ان کے استعمال کی تحقیقات کرے۔

اجلاس نے حال ہی میں قائم کی گئی  قومی ڈیولپمنٹ کونسل کو ایک غیر ضروری ادارہ قرار دیا۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ قومی اقتصادی کونسل (این ای سی) کی موجودگی میں اس کی کوئی ضرورت نہیں۔  یہ اقدام اداروں کو متنازع بنانے کی کوشش ہے جسے اجلاس نے مسترد کیا۔