جسٹس فائز کےخلاف ریفرنس میں وکلا کی حمایت کیلئے 17 کروڑ روپے تقسیم

  • جمعہ 28 / جون / 2019
  • 5300

وزیر قانون ڈاکٹر فروغ نسیم نےسپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کے خلاف دائر ریفرنس پر وکلا برادری کی حمایت جیتنے کے لیے قومی خزانے سے 17 کروڑ 50 لاکھ روپے بار ایسوسی ایشنز میں تقسیم کئے ہیں۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں سماعت 2 جولائی کو مقرر ہے جبکہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن  کے صدر امانت اللہ نے سماعت کے دن ملک بھر میں ’یوم سیاہ‘ منانےکا فیصلہ کیا ہے۔

ڈان میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق ایس جے سی کا پانچ رکنی بینچ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس کے کے آغا کے خلاف ریفرنس کی سماعت کرے گا۔  وزیر قانون نے 26 جون کو لاہور ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر عاصم چیمہ سے ملاقات کی تھی جو کیپٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے نومنتخب قانونی مشیر شاہد گوندل کےہمراہ آئے تھے۔

ماضی میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے سابق صدر آصف علی زرداری کے خلاف سوئس مقدمات دوبارہ کھولنے اور قومی مفاہمتی آرڈیننس سے منسلک کورٹ آرڈز نافذ کرنے کے معاملے پر وکلا کی حمایت حاصل کرنے کے لیے 132 ضلعی بار ایسوسی ایشنز کے درمیان 77 کروڑ 64 لاکھ روپے تقیسم کیے تھے۔

اس وقت کے وزیر قانون ڈاکٹر بابر اعوان نے ایسویس ایشنز میں رقم تقسیم کی تھی۔  بعدازاں آڈیٹ جنرل نے بار ایسوسی ایشنز کو ادائیگی پر اعتراضات اٹھائے تھے لیکن 2016 میں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی  کے چیئرمین سید خورشید شاہ نے اعتراضات مسترد کرکے ادائیگی کی منظور دے دی تھی۔

لاہور بار ایسوسی ایشن نے ڈاکٹر فروغ نسیم کے لیے لائف ٹائم ممبرشپ کا اعلان کرچکی ہے اور انہیں 10 جولائی کو مدعو کیا ہے۔  دوسری جانب ججوں کے خلاف ریفرنس دائر ہونے پر کراچی بار ایسوسی ایشن نے وزیر قانون کی ممبرشپ معطل کردی ہے۔

بتایا گیا ہے کہ اسلام ہائی کورٹ بار ایسی ایشن کو 50 لاکھ اور ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن ایشن اسلام آباد کو 25 لاکھ روپے دیے گئے ہیں۔  اسلام آباد ایسوسی ایشن سیکریٹری کے مطابق بار کی جانب سے چند ماہ قبل فنڈنگ میں اضافے کا مطالبہ کیا گیا تھا جو متعلقہ وزارت نے اب جاری کیا ہے۔

2 جولائی کو یوم سیاہ منانے سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ ڈسٹرکٹ بار اپنے اگلے اجلاس میں مشاورت کے بعد ہی لائحہ عمل کا اعلان کرے گی۔  وزارت قانون کا کہنا ہے کہ مختلف بار ایسوسی ایشنز کو فنڈنگ ان کی بنیادی ضروریات کو مد نظر رکھ کر فراہم کی گئی ہے۔