قومی اسمبلی سے آئندہ مالی سال کے بجٹ کی باقاعدہ منظوری دے دی
- جمعہ 28 / جون / 2019
- 4870
قومی اسمبلی نے چند تکنیکی ترامیم کے ساتھ آئندہ مالی سال 20-2019 کے بجٹ کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے۔
ایوان میں گزشتہ روز اپوزیشن جماعتوں کی بجٹ میں کٹوتی کی تمام تحاریک مسترد ہونے کے بعد آج ایوان میں فنانس بل 2019 کی حکومتی اراکین کی جانب سے تجویز کردہ چند ترامیم کے ساتھ منظوری دی گئی۔ بجٹ کی منظوری کے لیے ایوان میں شق وار ووٹنگ ہوئی، بل پر صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کے دستخط کے بعد یہ باضابطہ طور پر قانون بن جائے گا۔
اسپیکر اسد قیصر نے قومی اسمبلی کا اجلاس ہفتے کی صبح 11 بجے تک ملتوی کر دیا۔ اس سے قبل اپوزیشن اراکین نے ایک مرتبہ پھر احتجاج ریکارڈ کروایا اور اپنے بازوؤں پر پر سیاہ پٹیاں باند کر اجلاس میں شرکت کی۔
ایوان سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے سینئر نائب صدر شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ 'ہم اس بجٹ کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔' ایک اور لیگی رہنما احسن اقبال کا کہنا تھا کہ 'اگر ہمارے وزیراعظم ہی ملک کو دیوالیہ کر دیں گے تو پھر ہمیں کسی دشمن کی ضرورت نہیں ہے۔' انہوں نے مزید کہا کہ بجٹ ترقی کے منافی ہے جس کی وجہ سے ملک میں بے روزگاری، غربت اور پسماندگی لے کر آئے گا۔
احسن اقبال کا کہنا تھا کہ حکومت دعویٰ کرتی ہے کہ اس نے اپنے اخراجات کو کم کیا ہے جبکہ بجٹ دستاویزات بتاتے ہیں کہ تاریخ میں پہلی مرتبہ صرف وزیراعظم آفس کے اخراجات کے لیے ایک ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ انہوں نے وزیراعظم کے سفری اخراجات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ جتنا وزیراعظم بنی گالہ جانے کے لیے ہیلی کاپٹر استعمال کرتے ہیں اتنا تو لوگ اوبر ٹیکسی استعمال نہیں کرتے۔
اپوزیشن کے خطاب پر رد عمل دیتے ہوئے وزیر برائے مالیاتی امور حماد اظہر نے ایوان میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 'اپوزیشن اراکین غلط اعداد و شمار ایوان میں پیش کر رہے ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ انہوں نے صحیح سے بجٹ دستاویزات کو نہیں پڑھا ہے۔'
پاکستان پیپلز پارٹی کے راجا پرویز اشرف نے ایوان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 'اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ بجٹ کے بارے میں کون بات کر رہا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ تمام لوگ بجٹ کے خلاف بات کر رہے ہیں۔
قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے فنانس بل 2019 کا نام تبدیل کر کے 'آئی ایم ایف فرمانبرادری ایکٹ' میں تبدیل کرنے کے لیے تحریک جمع کروائی۔ ذرائع کے مطابق اپوزیشن کی جانب سے قومی اسمبلی سیکریٹریٹ میں تجویز جمع کروائی گئی جس پر دیگر اپوزیشن اراکین کے دستخط بھی موجود تھے۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) کی جانب سے بجٹ کے نام پر اعتراض اٹھایا گیا اور دلچسپ ترمیم کی تجویز جمع کروادی۔ تجویز میں کہا گیا کہ 'فنانس بل 2019' کے الفاظ 'آئی ایم ایف تابعداری بل 2019' (IMF Obedience Bill 2019) سے تبدیل کر دیے جائیں۔
مذکورہ تجویز پر مسلم لیگ (ن) کے 9 اراکین نے دستخط کیے جن میں خواجہ محمد آصف، مریم اورنگزیب، خواجہ سعد رفیق، محمد برجیس طاہر، مرتضیٰ جاوید عباسی، خرم دستگیر خان عائشہ غوث پاشا، محسن نواز رانجھا اور شیزہ فاطمہ خواجہ شامل ہیں۔