دل خانہ خراب کی باتیں اور وطن عزیز کی صورت حال
- تحریر افتخار بھٹہ
- ہفتہ 29 / جون / 2019
- 9640
نعرے بازی، سابق حکومتوں پر الزامات، شیخ چلی جیسے دعوے، پارلیمنٹ میں بے مقصد تقرریں جن میں محض مخالفین کو زیر بار لانا شامل ہے۔ پانچ ہزار افراد کو لٹکانے سے ملک کے معاشی اور انتظامی نظام میں بہتری لانے کی امیدیں۔
ان خیالات کا اظہار کرنے والوں سے نہ پارلیمنٹ چل رہی ہے نہ حکومت نہ کالے دھن کی واپسی ہو رہی ہے۔ بجٹ منظور کروانے میں حکومت کامیاب ہو گئی ہے جس میں عوام کو مزید قربانی کا بکرابنایا گیا ہے جبکہ ایمنسٹی سکیم میں کوئی خاطر خواہ کامیابی نہیں ہوئی ہے۔ اس حوالے سے آئی ایم ایف نے عدم اعتماد کرتے ہوئے کہا ہے اس سکیم کا اجراء پرانے ٹیکس گزاروں کے ساتھ زیادتی ہے۔ سیاسی محض آرائی کی وجہ سے معیشت سکڑتی، کاروبار مندا، بے روز گاری بڑھتی روپیہ کی قدر میں کمی اور ٹیکسوں کا بوجھ بڑھتا جا رہا ہے۔ حکمران کہتے ہیں کہ عوام ٹیکس ادا نہیں کرتے ہیں حالانکہ وہ 70%بلاوسطہ ٹیکسوں کا بوجھ برداشت کر رہے ہیں۔ پانچ کروڑ مڈل کلاس اور امیر طبقات سے تعلق رکھنے والے 90%دولت کے مالک ہیں جن کا براہ راست ٹیکسوں میں حصہ 2%سے بھی کم ہے۔
عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق ریاستی مالی اور انتظامی کرپشن کی وجہ سے ہر شعبے کے خسارے میں اضافہ جبکہ اخراجات بڑھے ہیں۔ وفاقی حکومت کے اخراجات 2008میں 15سو ارب روپے تھے جو کہ اب72سو ارب روپے ہیں۔ واپڈا کا خسارہ 18سو ارب روپے ہے۔ حکومتی تحویل میں اداروں کے اخراجات11سو ارب روپے ہیں۔ برآمدات میں کمی،صنعتوں کے بند ہونے سے تیزی سے بے روز گاری میں اضافہ، یوٹیلٹی کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ، روپے کی قیمت گرنے سے درآمدی خام مال کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔ پیدا واری لاگت بڑھ جانے کی وجہ سے برآمدات میں گراوٹ ہوئی ہے۔ مقامی مال مہنگا ہونے سے مقامی صارفین غیر ملکی مصنوعات خریدے کو ترجیح دیتے ہیں۔
اب شائد دودھ، مقامی سبزیاں، دالیں اور پھل ہی عام آدمی استعمال کر سکتا ہے مگر بتدریج ان کی قیمتوں میں بھی خاصہ اضافہ ہو رہا ہے۔ ایسے میں اوسان خطا نہ ہوں تو کیا ہوں۔ اب لے دے کے کنٹینر کی حامی تنقیدی سیاست بچ جاتی ہے جس کو پاپو لسٹ نعروں کے ہاتھوں ممکنہ تباہی سے دو چار کیا جا رہا ہے۔ موجودہ عالمی سیاسی رجحانات میں دائیں بازو کی سیاست پاپو لسٹ نعروں کے ہاتھوں بلڈوز ہو چکی ہے جس کا ایک اپنا نظریاتی بیانیہ ہے۔ جس میں لبرل ازم اور شخصیت پرستی کے نعرے ہیں جن میں انسانوں کے بنیادی معاشی حقوق کا کوئی تصور موجود نہیں ہے۔ ٹرمپ ہو، نریندر مودی ہو یا عمران خان وہ اپنے پاپو لسٹ تصور کے ذریعے قوم کی تقدیروں سے کھیل رہے جس میں جذبات کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ پاکستان میں یوں بھی 2014کے دھرنے کے بعد ایسی سیاسی منصوبہ بندی کی گئی ہے جس میں عوامی حقوق کیلئے جدو جہد کرنے والی جماعت یا منشور کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
ہماری پاپو لسٹ لیڈر شپ کی وجہ سے نہ بیرونی ممالک سے ڈالر وں کی بارش ہوئی، نہ لوٹی ہوئی دولت کے انبار برآمد ہوئے ہیں۔ ہم دنیا بھر میں کشکول لئے گھومتے رہے ہیں۔ چینی عربی خلیجی ممالک سے اربوں روپے کے قرضوں کے بعد اب آئی ایم ایف سے چھ ارب ڈالر مزید ملنے والے ہیں۔ جبکہ ورلڈ بینک اور ایشین ڈویولپمنٹ بینک سے مزید قرضے حاصل کرنے کی امید ہے۔موجودہ حکومت نے11ماہ میں مزید پانچ ہزار ارب روپے قرضہ لے لیا ہے جبکہ گزشتہ حکومت نے پانچ سال کے دوران 10ہزار660روپے قرض لیا تھا۔ ملکی تاریخ میں 5ہزار555ارب کے ٹیکس لگانے کے بعد بھی بجٹ خسارہ 8.2%رہے گا۔پہلے ہی ایف بی آر 4ہزار435ارب روپے کی ٹیکس کی وصولی میں ناکام رہا ہے۔ ایسے میں مزید نئے ٹیکس کیسے وصول ہو جائیں گے؟
پاکستان میں ٹیکسوں کی وصولی کا مقصد کبھی بجٹ خسارے میں کمی یا غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی نہیں رہا بلکہ اس سے ریاستی اخراجات پورا کرنے کے ساتھ قرضوں پر سود کی ادائیگی کی جاتی ہے۔ اس مقصد کیلئے ان مقاصد کی تکمیل کیلئے تعلیم، صحت اور ترقیاتی آخراجات میں کٹوتی کی جاتی ہے۔ نہ ہی کوئی ایسی مربوط پالیسیاں بنائی جاتی ہیں جس سے سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی ہو سکے۔ ہماری حکومت کو یہ اندازہ نہیں کہ معیشت پر سرمایہ کاروں کا اعتماد سب سے بڑی طاقت ہوتا ہے۔ امریکہ پر قرض اس کی کل جی ڈی پی سے زیادہ ہے مگر آج بھی امریکی ٹریثری بلز اور فنانشل ضمانتیں زیادہ محفوظ سمجھی جاتی ہیں۔ اسی طرح امریکی کرنسی ڈالر پر اعتماد کیا جاتا ہے۔ امریکی معیشت پر دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کا اعتماد ہے۔ چین جیسا ملک بھی اپنے ریزرو اور ٹی بلز میں رکھتا ہے اس وقت اس کے پاس 21 ٹریلین ڈالر کے امریکی بلز موجود ہیں۔
ہماری حکومت ملک میں پیدا واری عمل کو جاری کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اس نے ٹیکس وصولی اور احتساب کے نام پر سرمایہ کاروں اور عام آدمی کو ڈرا دیا ہے اور سیاسی عدم استحکام انتہا پر ہے۔حکومت کی موجودہ مالیاتی پالیسیوں پر لوگوں کا اعتماد نہیں ہے کرنسی مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی قیمت ٹھہر نہیں رہی ہے پاکستانی روپیہ مسلسل گراوٹ سے دو چار ہے۔ اگر یہی صورتحال رہی تو معاشی گروتھ میں اضافہ نہیں بلکہ مزید کمی آئے گی۔ قرضوں کے استعمال کے حوالہ سے تحقیقاتی کمیشن سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ہمیں ملک میں نام نہاد سخت گیر احتسابی نعروں کے ذریعے مذاق بند کر دینا چاہیے۔ سابق دور میں حکومتوں نے قرضے حاصل کیے تھے جن کو ریاستی اداروں اور عالمی مالیاتی اداروں کی زیر نگرانی استعمال میں لایا گیا تھا۔ یوں بھی تمام حکومتیں تسلسل کے ساتھ قرضے لیتی رہی ہیں۔ 2000کے بعد مشرف حکومت کو قرضوں کی ادائیگی میں ریلیف فراہم کیا گیا اس کی بھی تحقیقات ہونی چاہیے کہ قرضوں رکی ہوئی اقساط کو کس طرح خرچ کیا گیا۔ اس کے ساتھ کولیشن سپورٹ فنڈز کی بھی پوچھ گچھ ہونا چاہیے۔ مشرف کے عہد میں 1یونٹ بجلی نہیں بنائی گئی تھی۔ قرضوں کی عدم ادائیگی سے بچ جانے والی اقساط کی رقوم کو نام نہاد ترقیاتی اخراجات اور اپنے حامیوں اور ضلعی حکومتوں میں تقسیم کیا گیا تھا جس کے آڈٹ کی ضرورت ہے۔ زرداری کے دور حکومت میں فنانشل معاملات اتنے بگڑے نہیں تھے جبکہ نواز شریف نے سی پیک کے ذریعے بجلی گھر تعمیر کئے اور سڑکوں کا جال بچھایا۔جس سے ملک میں لوڈ شیڈنگ میں کمی واقع ہوئی۔اس کے علاوہ چین کی مدد سے اکنامک زون میں انڈسٹری لگائی جانی تھی مگر اب تو سی پیک کا تذکرہ ہی نہیں ہوتا ہے۔
ملک کی معاشی صورتحال دگرگوں ں ہو چکی ہے۔ ملک کے سب سے بڑے حساس ادارے کے سربراہ کو ترقیاتی کونصل میں بطور ممبر شریک کیا گیا ہے۔ چیف آف آرمی اسٹاف قمر جاوید باجوہ نے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاشی خود مختاری کے بغیر دوسری خود مختاری ممکن نہیں ہے۔ مشکل فیصلے نہ کرنے سے مسائل بڑھے ہیں۔ ملک تنہا نہیں علاقے ترقی کرتے ہیں۔ مشکل حالات میں کوئی فرد واحد قومی اتحاد کے بغیر کامیابی حاصل نہیں کر سکتا۔ ملک کو در پیش سیکیورٹی خطرات، اقتصادی پالیسیوں میں عدم تسلسل، اقتصادی نظم و ضبط کیلئے مشکل فیصلوں سے گریز کرنا ممکن نہیں ہے۔ماضی کی حکومتوں کی مصلحتوں کی وجہ سے ہم معاشی بحران سے دو چار ہوئے ہیں۔
ہم اگر جنرل ضیاء الحق کے عہد سے سیاسی اور معاشی صورتحال کا جائزہ لیں تو معلوم ہوگا اس دور میں حکومت کی معاشی ترجیحات نہیں تھیں کیونکہ اس وقت افغان جنگ میں شمولیت کی وجہ سے بے پناہ امداد آ رہی تھی لیکن بعد میں عالمی اداروں نے ان گرانٹوں کو ختم کر کے قرضوں میں تبدیل کر دیا۔ چنانچہ بجٹ خساروں کو پورا کرنے کیلئے مزید قرضے لیے گئے۔ اور آج ہم قرضہ جاتی شکنجے میں جکڑ چکے ہیں۔ موجودہ صورتحال میں تمام ادارے ایک پیج پر ہیں۔ہندوستان کی دو سال کیلئے سلامتی کونسل میں رکنیت کی حمایت کی جا چکی ہے۔ ایف اے ٹی ایف کے تناظر میں پاکستانی مسلح فوج کے سربراہ نے باہمی علاقائی تعاون کی پیش رفت کے حوالے سے عندیہ دیا ہے جو کہ ماضی کی پالیسیوں کے حوالے سے بہت بڑی تبدیلی ہے۔
علاقائی ممالک میں تجراتی تعاون سے خوشحالی کا روشن باب کھل سکتا ہے۔ یاد رہے کہ دنیا کے تماممالک اپنی تجارت کا 90%ہمسایہ ممالک کے ساتھ کرتے ہیں جس کی وجہ سے نقل حرکت کے اخراجات میں کمی کے ساتھ وقت بھی کم صرف ہوتا ہے۔ اس حوالے سے مربوط پالیسیاں بنانے کی ضرورت ہے اور اس کے ساتھ مقامی سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔ یہاں سے سرمایہ کار بھاگ گیا یا اس نے سرمایہ داری سے ہاتھ کھینچ لیا تو لاکھوں افراد بے روز گار ہوں گے۔ ملک معاشی طور پر بنجر ہو جائے گا۔ ہمارے ارباب اختیار کو اکنامک اور پولیٹیکل سائنس کا لٹریچر پڑھنا چاہیے۔ عالمی ریسرچ پیپر کا مطالع کرنا چاہیے مگر میری بات کون غور سے سنے گا۔ کیونکہ سیاست میں شامل باالخصوص حکومتی اکابرین، اپنے حسابی علم کے حوالے سے ارسطو، افلا طون، برٹنڈ رسل اور جان کین ہیں۔
پاکستان میں اپوزیشن کی اس تجویز کو مذاق سمجھ کر تنقید کرنا سیاسی نا پختگی نظریاتی و اسٹیٹ من شپ رویوں کے فقدان کی علامت ہے۔ اس مکتبہ فکر کیلئے جمہوریت، میثاق جمہوریت اور میثاق میعشت کی کوئی اہمیت نہیں ہے اور نہ ہی وہ ملک کے مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ جمہوری عمل میں غیر سیاسی مداخلت کا حقیقی مقصد معاشی وسائل پر اجارہ داری قائم کرنا ہے۔ میثاق میعشت کی مثالی صور ت یہ ہے کہ پاکستان کے سارے سیاسی اور ریاستی فریق مل کر ایسا لائحہ عمل طے کریں جس کی روشنی میں پاکستان کو ایک دس نگر معیشت کی بجائے پیدا واری معیشت کے راستے پر گامزن کیا جائے۔
ہمارے اخراجات عدم توازن کا شکار ہیں ہماری واحد امید انسانی سرمائے کے بہتر معیار سے منسلک ہے۔ اس لیے عالمی ٹیکنالوجی کے بدلتے ہوئے تقاضوں کے مطابق معیار تعلیم کا انتظام کرنا ہوگا۔پاکستانی قیادت کو خاندانی سیاست سے باہر نکل کر ملکی مفادات کے حوالہ سے پالیسیاں بنانی ہوں گی۔ ملک کو اقتصادی بحران سے نکالنے کیلئے سب کو مل بیٹھ کر روڈ میپ بنانا ہوگا تا کہ پیدا واری سماج کی تشکیل کی جا سکے۔
تیرے لیے چلے تھے ہم تیرے لئے ٹھیر گئے
تو نے کہا تو جی اٹھے تو نے کہا تو مر گئے