سنسنی خیز مقابلے کے بعد پاکستان نے افغانستان کو شکست دے دی

  • ہفتہ 29 / جون / 2019
  • 5180

افغانستان کے خلاف ورلڈ کپ کے اہم میچ میں پاکستان نے افغانستان کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد 3وکٹوں سے شکست دے دی۔ اس کا سہرا بلاشبہ عماد وسیم کی عمدہ بیٹنگ کے سر باندھا جاسکتا ہے۔ انہیں مین آف دی میچ بھی قرار دیا گیا۔

ہیڈنگلے، لیڈز میں کھیلے گئے میچ میں افغانستان کی ٹیم نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ افغان بلے بازوں نے میچ کے ابتدائی اوور میں جارحانہ بیٹنگ کی۔ تاہم شاہین شاہ آفریدی نے اپنے پہلے ہی اوور میں افغان اوپنر گلبدین نائب کو آؤٹ کردیا، جس کے بعد آنے والے کھلاڑی حشمت اللہ شاہیدی پہلی ہی گیند پر پویلین لوٹ گئے۔

2 کھلاڑیوں کے آؤٹ ہونے کے بعد افغان ٹیم کو اوپنر رحمت شاہ نے کچھ مزاحمت کی تاہم وہ 35 رنز بنا کر عماد وسیم کی گیند پر کیچ آؤٹ ہوگئے۔  3 کھلاڑیوں کے آؤٹ ہونے کے باوجود افغان ٹیم نے جارحانہ انداز میں کھیلنے کا سلسلہ جاری رکھا اور اکرام اور اشرف افغان نے 18.1 اوور میں ٹیم کا اسکور 100 رنز تک پہنچا دیا۔

دونوں افغان کھلاڑیوں کے درمیان 65 رنز کی پارٹنر شپ کو  شاداب خان نے توڑا اور 121 کے اسکور پر اشرف افغان 42 رنز بنا کر بولڈ ہوگئے۔ ان کے بعد آنے والے کھلاڑی بھی زیادہ مزاحمت نہیں کرسکے اور 125 کے اسکور پر آدھی افغان ٹیم پویلین لوٹ گئی۔ افغان ٹیم کو محمد نبی اور نجیب اللہ نے سہارا دیا اور دونوں کھلاڑیوں نے 35 اوورز تک افغان ٹیم کا اسکور 159 رنز تک پہنچا دیا۔

167 کے مجموعی اسکور پر وہاب ریاض کی گیند پر محمد عامر نے افغان بلے باز محمد نبی کا زبردست کیچ پکڑ کر انہیں پویلین کا راستہ دکھایا۔ اس کے بعد سمیع اللہ شنواری اور نجیب اللہ زدران نے بقیہ اوورز بیٹنگ کرنے کی حکمت عملی اپنائی اور ساتویں وکٹ کے لیے 35رنز بنائے۔ لیکن افغانستان کے 200رنز مکمل ہوتے ہی نجیب اللہ اپنی وکٹ گنوا بیٹھے۔ انہوں نے 42رنز بنائے۔

راشد خان نے 8 رنز بنائے تھے لیکن شاہین آفریدی کی گیند پر آؤٹ ہوگئے۔ حامد حسن بھی ایک رن ہی بنا سکے۔ افغانستان کی ٹیم نے مقررہ اوورز میں 9 وکٹوں کے نقصان پر 227رنز بنائے۔ پاکستان کی جانب سے شاہین شاہ آفریدی نے عمدہ باؤلنگ کرتے ہوئے 4وکٹیں لیں جبکہ وہاب ریاض اور عماد وسیم نے دو، دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔

ہدف کے تعاقب میں اننگز کی دوسری ہی گیند پر فخر زمان آؤٹ ہو گئے۔ ابتدائی نقصان کے بعد امام الحق اور بابر اعظم نے سنبھل کر بیٹنگ کی اور ذمہ دارانہ کھیل پیش کرتے ہوئے 72رنز کی شراکت قائم کی۔ امام اسپنرز کے خلاف پوری اننگز میں مشکلات سے دوچار نظر آئے اور محمد نبی کو کریز سے نکل کر کھیلنے کی کوشش میں اسٹمپ ہو گئے۔ انہوں نے 36رنز بنائے۔

ابھی قومی ٹیم اس نقصان سے سنبھلی بھی نہ تھی کہ نبی نے اپنی ٹیم کو اہم ترین کامیابی دلاتے ہوئے ان فارم بابر اعظم کو بولڈ کردیا۔ انہوں نے 45رنز بنائے۔ حفیظ کا ساتھ دینے حارث سہیل آئے اور دونوں کھلاڑیوں نے 40 رنز کی شراکت قائم کی لیکن تجربہ کار حفیظ ایک مرتبہ پھر وکٹ پر نہ ٹھہر سکے۔  قومی ٹیم 121رنز پر چوتھی وکٹ گنوا بیٹھی۔

حارث اور سرفراز نے اسکور ابھی 142تک ہی پہنچایا تھا کہ راشد خان کی گیند پر  حارث ایل بی ڈبلیو ہوگئے۔ انہوں نے 27 رنز بنائے۔ اب قومی ٹیم کی تمام تر امیدیں کپتان سرفراز احمد سے وابستہ تھیں لیکن وہ ایک غیرضروری رن لینے کی کوشش میں اپنی وکٹ گنوا بیٹھے۔

اس موقع پر عماد کا ساتھ دینے شاداب آئے اور دونوں کھلاڑیوں نے 50رنز کی شراکت قائم کرکے پاکستان کی میچ میں واپسی ممکن بنائی۔ اس مرحلے پر ایک غیرضروری رن کی کوشش میں شاداب رن آؤٹ ہو کر پویلین سدھار گئے۔ عماد وسیم کا ساتھ دینے وہاب ریاض آئے اور راشد خان کو شاندار چھکا لگا کر پاکستان کی فتح کی راہ ہموار کی۔عماد وسیم نے ناقابل شکست 49رنز کی شاندار اننگز کھیلی۔

عماد وسیم کو دو وکٹیں لینے اور 49 رنز کی کامیاب اننگز کھیلنے پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

اس فتح کے ساتھ ہی پاکستانی ٹیم 9 پوائنٹس کے ساتھ پوائنٹس ٹیبل پر چوتھے نمبر پر پہنچ گئی ہے۔ جبکہ آسٹریلیا، بھارت اور نیوزی لینڈ بالترتیب پہلے، دوسرے اور تیسرے نمبر پر ہیں۔