الٹے نظام کی الٹی باتیں
- تحریر سرور غزالی
- اتوار 30 / جون / 2019
- 6260
اس ملک میں بہت سارے کام الٹے ہوتے ہیں۔ انہیں سیاسی، ریاستی یا عدالتی کام کہتے ہیں۔ اس کے علاوہ ایک اور کام بھی ایسا ہے جو چالیس سال قبل الٹا ہوا کرتا تھا۔ لیکن اب اس قدر الٹ گیا ہے اسے الٹا بھی کہنا درست نہیں۔ نہ ہی اس کی اجازت ہے۔
اور اب اس کام کے کرنے والوں کا کام کرکٹ میچ جتوانا بھی ہوگیا ہے۔ الیکشن جیتنا یا جتوانا ان کا پرانا مشغلہ تھا۔ مگر پری سلیکشن یعنی قبل از انتخاب چناؤ سے اس مرتبہ کچھ خاص سواد نہیں مل رہا ہے۔
کبھی اسمبلیاں وہ جن ہوا کرتی تھیں جنہیں لگام دینے کے لیے انہیں بوتل میں بند کرنا ضروری ہوا کرتا تھا۔ اور اس کام کو بخوبی انجام دینے کے لیے نظریہ ضرورت کی پیدائش عدالتی میٹرنٹی ہوم میں بڑی آسانی سے ہو جایا کرتی تھی۔ لیکن جب سے یہ مٹیرنٹی ہوم بند ہوا ہے ایک نئے میٹرینٹی ہوم کے علاوہ جن کو بوتل میں بند کرنے والے تارا مسیح کی ضروت بھی محسوس ہونے لگی ہے۔ چنانچہ اس مقصد کے لیے ایک نیا ادارہ جس کی قانونی حیثیت مشکوک اور جس کا دائرہ کار غیر متعین ہے، کا جنم ہوا۔ یوں سمجھیں میٹرنیٹی ہوم کی جگہ کسی دائی کو دے دی گئی۔ کام الٹا ہی ہونا تھا نا۔
اب دائی کیا کرے۔۔۔۔کامیاب پیدائش پر شور اور ناکام پر بین۔
بہت دنوں سے یہ بات ذہن میں کلبلا رہی تھی کہ نیب کو الٹا کرکے دیکھا جائے۔ خراب خراب ویڈیو سامنے آنے کے باوجود یہ نہیں الٹا تو نہیں ہوا پھر خیال آیا کہ اسے الٹا کر کے پڑھا جائے تو یہ بین بن جاتا ہے۔
تو انکشاف یہ ہوا کہ اسی لیے نیب کا کام بھی بین کرنا ہی ہے۔
کام الٹے ہوں یا سیدھے۔۔۔۔ادارہ فعال ہو یا ناکارہ سول ہوں یا غیر، ہر ادارے کا ایک سربراہ ضرور ہوتا ہے۔
غور کرنے کی ضرورت ہے کہ سربراہ کا لفظ بذات خود مشکوک ہے کہ جس میں عین بیچوں بیچ' برا 'لکھاہوتاہے تو سربراہ کہیں کا ہو خواہ وہ تطہیر کے داعی نیب کا ہی کیوں نہ ہو برا تو بیچ میں ہوتا ہی ہےنا۔
ہمارے ایک دوست ہوا کرتے تھے ان کا نام سر بلند تھا۔ رہتے وہ بلند سر شہر میں تھے۔ بلند شہر کی بلندی سے وہ اپنا تمام کام اپنے بلند سر کے بل بوتے پر کیا کرتے تھے۔ دماغ کے بل بوتے پر نہیں۔ کہتے تھے کہ بھیجا کمزور ہوتا ہے طاقت آزمائی سے پھٹ سکتا ہے۔ کھوپڑی کی مضبوط ہڈیوں سے اچھل کر ٹکر مارو۔ ہر کام آسانی سے ہوجائے گا۔ ان کہنا تھا کہ انسان نے بڑی غلطی کی، ارتقائی سفر میں سینگوں کا نعم البدل کمزور سا بھیجا لے کر۔
بھیجا یا مغز بھی کمال کی چیز ہے۔ کھوپڑی کے اندر بند رہ کر بھی کیسے کیسے کارنامے انجام دیتا ہے۔ مگر بلند بھائی کے خول میں بند بے چارہ کسی کام کا نہیں رہا ہے۔ صرف پر مغز باتوں پر گزارا کر رہا ہے۔ حالانکہ ذہن اور مغز دو علیحدہ علیحدہ چیزیں اب اس باریکی میں سر بلند کہاں پڑتے ہیں۔
کراچی پریس کلب بھی ایک ہاتھی کی مانند ہے جو مر کر بھی سوا لاکھ کا ہے۔ مگر اب سوا لاکھ کی وقعت ہی کیا۔ ڈالر کے سامنے روپے کی گرتی قیمت میں نہ صرف سوا لاکھ بلکہ پریس کلب کی بھی ساکھ گرتی چلی جارہی ہے۔ جہاں کبھی بڑے بڑے ڈکٹیٹروں کے پرندوں کو پر مارنے کی ہمت نہ ہوتی تھی وہاں کا صدر آخری خبر آنے تک ٹاک شو میں محاورتاً نہیں عملاً پٹ رہا ہے۔