بدعنوان شخص کو مرنے کے بعد بھی کرپشن کی رقم واپس کرنا ہوگی: چیف جسٹس
- سوموار 01 / جولائی / 2019
- 4490
چیف جسٹس پاکستان آصف سعید کھوسہ نے واضح کیا ہے کہ بدعنوان شخص کو مرنے کے بعد بھی کرپشن کی رقم واپس کرنا ہوگی۔
سپریم کورٹ میں چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے مرحوم ڈی ایس پی جمیل اختر کیانی اور اہلیہ مسمات ریاض بی بی کی اپیلوں پر سماعت کی۔ دوران سماعت نیب کے وکیل نے کہا کہ جمیل اختر کیانی 1959 میں بھرتی ہوئے اور 1995 میں ڈی ایس پی کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔
اس پر ملزمان کے وکیل نے موقف اپنایا کہ قومی احتساب بیورو نے 1995 کے بعد کے اکاؤنٹ بھی ضبط کرلیے ہیں۔ لہٰذا 3 کروڑ روپے کے جرمانے کی رقم ادا نہیں کرسکتے۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کرپشن کی رقم واپس کرنا ہوگی۔ جرمانہ کی رقم کی گئی کرپشن سے بہت کم ہے۔ جرمانہ کم نہیں، زیادہ ہوسکتا ہے۔
ریمارکس میں چیف جسٹس نے کہا کہ لوگ کرپشن کا پیسہ پوری عمر استعمال کرتے ہیں۔ مسئلہ یہ نہیں کہ اثاثوں پر مزے کیے گئے۔ بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ 9 کروڑ کے اثاثے کب اور کیسے بنے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے 50 سال پہلے ڈھائی کروڑ کا پلاٹ لیا گیا، اس پلاٹ کی موجودہ مالیت ڈھائی ارب سے زیادہ ہوگی۔ 2003 میں کیا گیا 3 کروڑ روپے جرمانہ آج کے حساب سے انتہائی کم ہے۔
بعد ازاں عدالت نے دلائل مکمل ہونے کے بعد مرحوم پولیس افسر اور ان کی اہلیہ کو کیے گئے 3 کروڑ روپے جرمانے کی ادائیگی کا حکم دیا۔ خیال رہے کہ جمیل اختر کیانی پر کرپشن اور اختیار کے ناجائز استعمال کا الزام تھا۔
ٹرائل عدالت نے جمیل اختر اور اس کی اہلیہ کو 10 اور 5 سال سزا کے سناتے ہوئے 3 کروڑ روپے کا جرمانہ کیا تھا۔ جبکہ ہائی کورٹ نے بھی یہ فیصلہ برقرار رکھا تھا۔