آصف زرداری کا انٹرویو نشریات کے دوران رکوا دیا گیا

  • منگل 02 / جولائی / 2019
  • 4550

پاکستان میں سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کا جیو نیوز پر انٹرویو چلنے کے چند لمحات کے بعد بند کروا دیا گیا ۔ پروگرام کے میزبان حامد میر کا کہنا ہے کہ جن لوگوں نے یہ انٹرویو رکوایا ہے، ان میں اتنی ہمت نہیں کہ کھلے عام تسلیم کریں کہ انہوں نے یہ انٹرویو رکوایا ہے۔

یہ انٹرویو آصف علی زرداری کی نیب حراست میں پروڈکشن آرڈر جاری ہونے کے بعد پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطہ میں سلیم مانڈوی والا کے چیمبر میں موبائل فونز پر ریکارڈ کیا گیا تھا۔ گزشتہ حکومت میں اسپیکر قومی اسمبلی کے جاری احکامات کے مطابق ماسوائے سرکاری ٹیلی ویژن پی ٹی وی کے، کسی نجی چینل کو قومی اسمبلی کی عمارت کے اندر کیمرے لے جانے کی اجازت نہیں ہے۔

حامد میر کا یہ پروگرام پاکستانی وقت کے مطابق رات آٹھ بجے نشر ہونا شروع ہوا لیکن  انٹرویو کے چلنے کے کچھ ہی دیر بعد یہ پروگرام روک دیا گیا اور جیو نیوز کی سکرین پر ٹکرز کے ذریعے باضابطہ طور پر آگاہ کیا گیا کہ آصف علی زرداری کا یہ خصوصی انٹرویو آج نہیں دکھایا جا رہا۔

پروگرام کے میزبان حامد میر نے اپنے ناظرین سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ میں اپنے ناظرین سے معذرت خواہ ہوں کہ یہ انٹرویو نشر ہونا شروع ہوا اور روک دیا گیا۔ اس حوالے سے میں تفصیلات سے جلد آگاہ کروں گا لیکن یہ سمجھنا بہت آسان ہے کہ کس نے یہ انٹرویو رکوایا ہے۔ ہم ایک آزاد ملک میں نہیں رہتے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے یہ انٹرویو روکے جانے پر کہا کہ ‏‏سلیکٹڈ حکومت، سلیکٹڈ آوازیں سننا چاہتی ہے۔ آصف علی زرداری کا انٹرویو سینسر کر دیا گیا۔ اس انٹرویو کو آن ائیر ہونے کے بعد روکا گیا۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ‏ضیا، مشرف اور نئے پاکستان میں کوئی فرق نہیں ہے۔ ‏یہ پاکستان وہ ملک نہیں، جس کا قائداعظم نے وعدہ کیا تھا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ جس وقت آصف علی زرداری کا انٹرویو روکا گیا، عین اسی وقت نجی نیوز چینل اے آر وائی پر وزیراعظم عمران خان کا دو گھنٹوں پر محیط انٹرویو نشر کیا جا رہا تھا۔

حامد میر کے کیپٹل ٹاک میں دیے جانے والے انٹرویو کا جو پرومو جاری کیا گیا تھا اس میں آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ لندن میں ایک تفتیش چل رہی ہے، جس میں وزیراعظم عمران خان اور ان کے سلیکٹ کرنے والوں کا بہت بڑا اسکینڈل سامنے آنا والا ہے۔ یہ پروگرام نشر نہ ہونے کی وجہ سے اس اسکینڈل کے بارے میں مزید معلومات سامنے نہیں آ سکیں۔

یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ آیا کوئی شخص پروڈکشن آرڈر پر ہو کر میڈیا کو انٹرویوز دے سکتا ہے یا نہیں۔ اسمبلی قواعد کے مطابق جب کوئی شخص پروڈکشن آرڈر پر پارلیمنٹ ہاؤس آتا ہے تو اس کے بعد وہ ایک ممبر پارلیمنٹ ہے جو پارلیمان کی حدود میں آزاد شہری شمار ہوتا ہے، اس پر نیب قوانین یا کسی اور قانون نافذ کرنے والے ادارے کے احکامات کا اطلاق نہیں ہوتا۔

آصف علی زرداری کے انٹرویو کے روکے جانے پر بحث تو ہو رہی ہے لیکنیہ نہیں بتایا جا رہا یہ انٹرویو رکوایا کس نے؟  کیونکہ اگرچہ کسی بھی پروگرام کو رکوانے کا اختیار صرف پیمرا کے پاس ہے لیکن ملکی سلامتی سے متعلق بعض ادارے ماضی میں مبینہ طور پر ایسی نشریات رکواتے رہے ہیں اس بار بھی حامد میر کے ٹویٹ سے میں یہ واضع نہیں کہ ایسا کس کے کہنے پر کیا گیا۔