رانا ثنا اللہ 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل منتقل
- منگل 02 / جولائی / 2019
- 4450
منشیات برآمدگی کے الزام میں گرفتار رکن قومی اسمبلی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا ثنا اللہ سمیت تمام ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے۔
اینٹی نارکوٹکس فورس نے مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صدر ضلعی کچہری میں جوڈیشل مجسٹریٹ احمد وقاص کے روبرو پیش کیا۔ انسداد منشیات حکام نے عدالت سے رانا ثنا اللہ سمیت 6 ملزمان جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی جسے مسترد کردیا گیا۔ تاہم عدالت نے انہیں 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل منتقل کرنے کا حکم دیا۔
رانا ثنا اللہ سمیت دیگر ملزمان میں اکرم، عمر فاروق، عامر رستم، عثمان احمد اور سبطین خان شامل ہیں۔ رانا ثنا اللہ کی ضلعی کچہری میں پیشی کے موقع پر سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ عدالت کے اطراف میں کسی بھی غیر متعلقہ شخص کے داخلے پر پابندی تھی۔
احاطہ عدالت میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے اپنی گرفتاری کو ظلم اور موجودہ حکومت کو ظالم قرار دے دیا۔ ادھر پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رکن پنجاب اسمبلی جعفر علی نے رانا ثنا اللہ کی گرفتاری کے خلاف مذمتی قرارداد ایوان میں جمع کروادی ہے۔
قرارداد کے متن میں کہا گیا کہ رانا ثنا اللہ ایک انتہائی ایماندار، محب وطن اور جمہویت پسند قومی رہنما ہیں جو 6 مرتبہ پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہو چکے ہیں اور وہ اس وقت قومی اسمبلی کے رکن ہیں۔ قرارداد میں کہا گیا کہ ریاست مدینہ کا نعرہ لگانے والی حکومت نے منشیات کا جھوٹا کیس بنا کر رانا ثنا اللہ کو گرفتار کیا۔
مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے رانا ثنا اللہ کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی گرفتاری بلاجواز اور بغیر کسی ٹھوس الزام کے کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کو دیوار سے لگانے کے لیے بدترین اوچھے ہتھکنڈے اختیار کیے جارہے ہیں۔ اس ریاست گردی کی سربراہی سلیکٹڈ وزیراعظم عمران خان خود کررہے ہیں۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز پاکستان مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صدر اور رکن قومی اسمبلی رانا ثنا اللہ کو انسداد منشیات فورس (اے این ایف) نے لاہور سے گرفتار کیا تھا۔ ترجمان اے این ایف ریاض سومرو کے مطابق رانا ثنا اللہ کی گاڑی سے منشیات برآمد ہوئی، جبکہ ابھی اس کی نوعیت اور وزن کا تعین کیا جارہا ہے۔
ریاض سومرو نے کہا تھا کہ ریجنل ڈائریکٹوریٹ اے این ایف لاہور سے تفصیلات حاصل کرنے میں دشواری کا سامنا ہے لیکن اے این ایف کسی کو بلاوجہ گرفتار نہیں کرتی۔ اے این ایف حکام کا کہنا تھا کہ فورس کمانڈر بریگیڈیئر خالد محمود تحقیقاتی عمل کی نگرانی کر رہے ہیں۔