گھوڑا اور میدان: اپنے اپنے امتحان میں

  • تحریر
  • منگل 02 / جولائی / 2019
  • 5750

بجٹ بالآخر اسمبلی سے پاس ہوگیا۔ اپوزیشن کے وہ سب دعوے کہ بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے،  کاغذی  ثابت  ہوئے۔ حکمران جماعت شاداں ہے کہ بجٹ  Flying colours میں پاس ہو گیا۔  سنجیدہ حلقے اس غیر سنجیدگی پر انگلیاں دبائے اسمبلی میں بجٹ بحث  سنتے اور دیکھتے رہے  کہ ایوان کا زیادہ تر وقت سیلیکٹڈ اور ایلیکٹڈ  کی توضیح و تشریح میں صرف ہوا۔

   بجٹ  کے اصل مبادیات پر گفتگو کا تکلف تو کسی نے خال خال ہی کیا۔ بجٹ میں ریونیو، حکومتی اخراجات اور اس بجٹ  کے ساتھ جڑے اقدامات کی وجہ سے مہنگائی اور بے روزگاری  جیسے سنجیدہ معاملات پر سیاسی ضرورت کے مطابق الزام بازی کی حد تک گفتگو ہوئی،   سنجیدہ بحث شاید دونوں فریقوں کے لئے ضروری بھی نہ تھی۔

کل کی خدا جانے لیکن اعلان اور اس کے ساتھ جڑے کئی قوانین اور اقدامات کی وجہ سے یہ منفرد بجٹ ہے،  ماضی کی روٹین سے ہٹ کر۔  اس  بجٹ میں ریونیو کا ٹارگٹ ساڑھے پانچ ہزار ارب روپے بظاہر غیر حقیقی حد بڑھا ہوا  لگا۔ حکومت نے اپنے اخراجات اور دفاعی اخراجات کو ممکنہ حد تک کنٹرول کرنے کی کوشش کی ہے لیکن  پاکستانی روپے کی  بے قابو  سی  بے قدری نے قرضوں کے حجم اور ان پر سود کی ادائیگی  کو  بیٹھے بٹھائے کہاں سے کہاں پہنچا دیا ہے۔  اس ٹارگٹ کو پورا کرنے کے لئے حکومت نے پانچ زیرو ریٹنگ والے برآمدی شعبوں  سے یہ سہولت واپس لے لی ہے جس  سے  بظاہر قلیل مدت میں ریونیو  کے اعتبار سے اچھی وصولی ہو  سکتی ہے۔ مگر اس کا برآمدات اور مجموعی  صنعتی پیداوار پر کیا  اثر پڑ سکتا ہے، اس کے مظاہر آنے والے دنوں  میں نمایاں ہوتے جائیں گے۔

حکومت کے اپنے اعدادو شمار کے مطابق رواں سال کے بجٹ میں مالی خسارہ سات فیصد کے لگ بھگ  کا اندازہ لگایا گیا ہے جو گزشتہ سال کے قریب قریب ہے۔ افراطِ زر کا تخمینہ 13% ہے جبکہ مجموعی شرح  نمو  کا اندازہ 2.4% لگایا گیا ہے۔ ان تخمینوں اور اقدامات سے مہنگائی اور بے روزگاری بڑھنے کی توقع ہے۔ گیس  بجلی اور کرایوں میں حالیہ اضافے نے عوام کو زیر بار کیا ہے، آنے والے دنوں میں یہ بار مزید گراں ہونے کا امکان ہے۔  ظاہر ہے  اس بار گراں کا اظہار سیاسی اور معاشرتی بے چینی کی صورت میں سامنے آنے کا اندیشہ ہے جسے حکمران مشکلات کا نام دے رہے ہیں۔ تسلی بھی دے رہے ہیں کہ مشکلات کے دن تھوڑے ہیں مگر مجبوری ہے اور آپ کا تعاون ناگزیر۔

اس بجٹ کے  ساتھ حکومت نے ٹیکس نیٹ کو بڑھانے کیلئے غیر معمولی یعنی Out of box steps کا فیصلہ کیا ہے۔ ایمنسٹی اسکیم اسی سمت ایک قدم ہے کہ اب بے نامی اور ٹیکس نیٹ سے باہر  دولت کو ایک بار نیٹ میں لے آئیں ورنہ پھر نہ کہنا ہمیں خبر نہ ہوئی۔  نان فائلر کا کھیل ختم کرکے سیدھا سیدھا فائلر کی راہ دکھا دی ہے۔ زمین، جائیداد یا گاڑی لینی ہو تو فائلر بنیں ورنہ۔۔۔ یہ ورنہ والی دھمکی یا

ڈراوا  اصل میں بھی اس قدر قابل عمل  ہو گا یا نہیں، یہ تو وقت ہی بتائے گا۔ حکومت اپنے تئیں سنجیدہ ہے  کہ اس نے بے نامی جائیدادوں اور اثاثوں  کی کھوج اور پڑتال کے لئے ایک کمیشن کا بھی اعلان کر دیا۔  اس کمیشن کی خیر ہو کہ آج تک قائم کئے گئے بیشتر  کمیشن  اپنے ہونے  کی دلیل پر کئی سوالیہ نشان چھوڑ گئے۔

وزیر اعظم ایف بی آر  کی تنظیم نو  کرنا چاہتے ہیں، شنید ہے کہ موجودہ ڈھانچے  کو اب سیکٹرز کے اعتبار سے ترتیب دیا جائے گا، جس سے موجودہ لارج ٹیکس پئیرز اور ریجنل ٹیکس پئیرز کا ڈھانچہ  ترتیب نو سے بدل دیا جائے گا۔ اصولاً اس فیصلے کی منطق وزنی تو ہے لیکن دیکھنا یہ کہ اس اکھاڑ پچھاڑ میں ایف بی آر کے افسران کی دل جمعی کس حد تک شامل ہے۔ اور یہ کہ اس نئے نظام کی آڑ  میں   ایف بی آر کی صفوں اور نجی شعبے کے چند عیارلوگ کس طرح فائدہ اٹھائیں گے۔ بقول ہمارے دوست عبدل، جناب ہونا ہوانا کچھ بھی نہیں لیکن رشوت کے ریٹ بہت بڑھ جائیں گے۔ 

حکومت نے ایمنسٹی اسکیم کو ایک اعتبار سے  ٹیکس نیٹ میں نئے افراد کو شامل کرنے اور ٹیکس گزاری کے ان تمام اقدامات کے لئے ٹیکس ایمنسٹی اسکیم  کو زیرو پوائنٹ بنایا ہے جس کی بناء اور بنیاد پر بعد ازاں تادیبی اورتعزیری اقدامات کی بنیاد فراہم ہو سکے گی۔  وزیر اعظم نے تین بار  قوم سے براہ راست خطاب بھی کیا،  اعتماد بھی دیا اور ملفوف دھمکی  بھی کہ  پھر حکومت سختی پر مجبور ہو گی تو ہمارا ذمہ توش پوش!

اس ایمسنٹی اسکیم  کی مدت میں تین روز کا اضافہ کیا گیا ہے۔ اب تک کی تفصیلات کے مطابق 92 ہزار لوگ  اس سے فائدہ اٹھانے کے لئے آگے بڑھے ہیں۔ حکومتی خزانے میں 42 ارب روپے جمع ہوئے۔تین  روزہ  مدت مزید کے بعد  یقیناٌ صورت حال بہتر ہو گی۔  اب جبکہ نئی ایمنسٹی اسیکم اپنے اختتام پر ہے،  ہم اپنے قارئین کی  نذر گذشتہ اپریل میں اسی موضوع پر لکھے اپنے کالم  کا کچھ حصہ پیش کر دیتے ہیں کہ بقول  دلاور فگار: حالاتِ حاضرہ نہ سہی مستقل مگر حالاتِ حاضرہ  کو کئی سال ہو گئے۔

ایمنسی کیا ہے؟ ناجائز ذرائع اور قانون کو غچہ دے کر جمع کئے گئے اثاثے اور دولت کو ایک بارگی قانونی تحفظ دے کر اقتصادی دھارے میں شامل کرنے کے عمل اور اس کے  قانونی فریم  ورک کو ایمنسٹی کہا جاتا ہے۔  اس کی  کئی شکلیں رائج ہیں، کچھ ملکوں میں بیرون ممالک رکھی ہوئی دولت اور اثاثے کو ملک میں لانے  کے لئے ایسی اسکیمیں نافذ کی گئیں اور کچھ ممالک میں مقامی طور پر کالے دھن کو قانونی شکل دینے کے  لئے ایسی اسکیمیں لائی گئیں۔ دونوں صورتوں میں  کچھ جرمانہ یا ایک بارگی ٹیکس  کی چھوٹ دے کر  ایسی دولت یا اثاثوں کو وائٹ کرنے کا راستہ فراہم کیا جاتا ہے۔  یورپ، امریکہ، آسٹریلیا سمیت ایشیاء کے بہت سے ممالک میں گاہے گاہے ایسی اسکیمیں لائی جاتی رہی ہیں۔ ایسی اسکیموں  کے لائے جانے کے مقاصد، ماحول اور ٹائمنگ اپنے اپنے ہاں  کے مخصوص حالات کے تابع ہوتی ہے۔ یورپ اور امریکہ میں ایسی اسکیمیں ایک آدھ بار ہی لائی گئیں تاکہ  موجود ٹیکس گزاروں کو دل شکنی نہ ہو اور یہ کہ بلیک اکونومی کے لئے  مستقبل میں شکنجہ مزید تنگ کیا جا سکے۔ ایسی اسکیموں کی کامیابی  کا  ریکارڈ بھی فرق ہے، کچھ میں کامیاب اور کچھ میں ناکام۔ 

پاکستان کی تاریخ میں ایمنسٹی اسکیموں کی  کمی نہیں رہی۔  شاذ ہی کوئی   حکومت اور عشرہ  گزرا ہو گا جب یہ ایمنسٹی کسی نئے رنگ اور وعدے وعید کے ساتھ پیش نہ کی گئی ہو۔  اس کے ساتھ البتہ یہ بھی ایک تلخ حقیقت رہی ہے کہ ان تمام اسکیموں کا حشر ایک جیسا ہی ہوا۔ کرپشن اور بلیک اکونومی میں کالا دھن اسی طرح کلکاریاں مارتا رہا بلکہ پہلے سے زیادہ پھلا اور پھولا۔ یہاں اس تلخ حقیقت کے ادراک کی ضرورت ہے کہ  اس کالے دھن کی روزمرہ افزائش کو روکنے کے لئے  ہمارا نظام بری طرح فیل ہوا ہے۔  کرپشن، رشوت ستانی، اسمگلنگ، انڈر انوائسنگ، بھتہ، سٹے بازی،  ٹھیکوں کی  کمیشن، پراپرٹی اور اسٹاک  ایکسچینج  اور ہمارے نظام کی ہلتی ہوئی چولیں  آج بھی مسلسل  کالے دھن کی افزایش کا باعث بن رہی ہیں۔ 

 ایسے میں ایمنسٹی اسکیم   کا اعلان پہلے سے قانون پسند لوگوں کیلئے ایک سبکی ہے اور کالا دھن کمانے والوں کے لئے ایک نیا دروازہ ۔ ایسے میں کون ڈرے گا؟ کیوں خوف زدہ ہوگا؟  کیوں اپنی پوشیدہ تجوریوں کو ہوا لگائے گا؟   ایسے میں ایمنسٹی  آ بھی گئی تو کیا، نہ آئے  تو کیا۔

 لیکن یہ ایمنسٹی ماضی کی اسکیموں سے  مختلف انجام پر منتج ہوگی یا  نہیں،  اب  حکومت اور اس کی  معاشی ٹیم اور کالے دھن کے مالکان ٹارزنوں کا  امتحان ہی بتا پائے گا۔