تربیلا جھیل میں مسافروں سے بھری کشتی الٹ گئی، متعدد ہلاکتوں کا خدشہ
- بدھ 03 / جولائی / 2019
- 8960
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں تربیلا جھیل میں مسافروں سے بھری کشتی الٹنے سے متعدد افراد کی ہلاکت کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
پولیس کے مطابق یہ واقعہ بدھ کی صبح 11 بجے کے قریب ناڑہ امازئی تھانے کے حدود میں برگ ڈبڈیری کے مقام پر پیش آیا۔ مقامی تھانے کے ایس ایچ او تنویر خان نے بی بی سی کو بتایا کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ڈوبنے والی کشتی پر 50 سے 60 افراد سوار تھے جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں۔
پولیس کے مطابق یہ کشتی توغر سے ہری پور جا رہی تھی اور راستے میں ممکنہ طور پر بھنور میں ہھنس کر الٹ گئی۔ پولیس حکام کے مطابق ڈوبنے والے افراد مقامی دیہات سے تعلق رکھتے ہیں۔ پولیس کے مطابق کشتی الٹنے کے بعد مقامی افراد نے اپنی مدد آپ کے تحت 15 کے قریب افراد کو بچایا ہے جبکہ تین افراد کی لاشیں بھی نکال لی گئی ہیں جن میں بچے بھی شامل ہیں۔
کشتی ڈوبنے کے مقام پر موجود شہری ولی رحمان نے صحافی زبیر خان کو بتایا کہ کشتی پر سوار مویشیوں کے بدکنے کی وجہ سے کشتی نے توازن کھویا اور وہ الٹ گئی۔ ان کے مطابق اس حادثے کے بعد مقامی آبادی سے تعلق رکھنے والے افراد نے موقع پر پہنچ کر لوگوں کو پانی سے باہر نکلنے میں مدد کی جبکہ کچھ لوگ خود تیر کر باہر نکل آئے۔ انہوں نے بتایا کہ تاحال ایک بچے اور دو خواتین کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں جبکہ متعدد افراد ابھی تک لاپتہ ہیں اور ان کی تلاش کا کام جاری ہے۔
ان کے مطابق اس واقعے میں ڈوبنے والے افراد کے لواحقین بھی جائے حادثہ پر پہنچنا شروع ہو گئے ہیں جبکہ امدادی سرگرمیاں بھی شروع کر دی گئی ہیں۔ صحافی محمد زبیر کے مطابق توغر اور اس کے قریبی علاقوں کے لوگ موسمِ گرما میں تربیلا جھیل میں پانی آنے کے بعد ہری پور تک رسائی کے لیے کشتیوں کا استعمال کرتے ہیں کیونکہ پانی پر سفر کا دورانیہ سڑک کے مقابلے میں کم ہے۔
ضلع توغر کے ناظم نوروز خان نے صحافی محمد زبیر کو بتایا کہ انھیں مقامی افراد نے مطلع کیا ہے کہ اگرچہ حادثہ صبح کے وقت پیش آیا تاہم دشوار گزار راستہ ہونے کی وجہ سے امدادی کارکن موقع پرنہیں پہنچ سکے ہیں۔ نوروز خان کا کہنا تھا کہ ابھی تک یہ معلومات بھی نہیں ہیں کہ کون لوگ کشتی میں سوار تھے اور ان کا تعلق کن علاقوں سے تھا۔
نوروز خان کے مطابق کشتی پر ایک ہی خاندان کے چودہ افراد بھی سوار تھے جس میں سے صرف ایک آدمی کے بارے میں اطلاعات ہیں کہ وہ محفوظ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کشتیوں پر لوگ اپنے مویشیوں کو بھی خریدوفروخت کی غرض سے ساتھ لے جاتے ہیں۔
ایس ایچ او تنویر خان کا کہنا ہے کہ جس جگہ کشتی ڈوبی اس کے اردگرد پہاڑی علاقہ ہے اور وہاں تک کا زمینی راستہ بہت دشوار گزار ہے جبکہ کشتی میں بھی وہاں پہنچنے میں چار سے پانچ گھنٹے کا وقت درکار ہے۔