ناکام آل پارٹیز کانفرنس اور بجٹ پاس

اپوزیشن کی بلائی ہوئی آل پارٹیز کانفرنس  منعقد ہوئی لیکن یہ ممکنہ اہداف کو پورا کرنے میں ناکام رہی۔ کیونکہ کسی جماعت کے پاس کوئی سنجیدہ لائحہ عمل نہیں تھا اور تمام جماعتیں گہرے فکری و سیاسی تضادات س کا شکار تھیں۔

 کانفرنس کے انعقاد میں مولانا فضل الرحمان نے گہری دلچسپی لی چونکہ ان کے پاس اقتدار میں نہ ہونے کی وجہ سے کھونے کیلئے کچھ نہیں تھا۔ پیپلز پارٹی اکثریت کے ساتھ ملک کے سب سے بڑے صوبے سندھ میں بر سر اقتدار ہے سینٹ میں اس کا ڈپٹی چیئر مین اور قومی اسمبلی میں 60 نشستیں ہیں۔اس لیے پیپلز پارٹی کو حکومت گرانے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے حالانکہ اس کی قیادت کے خلاف مقدمات درج کرنے کے ساتھ گرفتاریاں ڈالنے کا سلسلہ جاری ہے۔وفاقی حکومت کے ایک وزیر نے کہا ہے اگر عمران خان چاہیں تو سندھ حکومت کو دنوں میں گرایا جا سکتا ہے مگر ان حکومتی اعلانات کے باوجود کوئی اشتعال انگیز بیان پیپلز پارٹی کی طرف سے نہیں آیا ہے۔

 مولانا فضل الرحمان کا اپنا فلسفہ اخلاقیات ہے جس کا عملی سیاست کے مندرجات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔وہ 25جولائی کو یوم احتجاج منانے کا اعلان کر چکے ہیں، نواز شریف خاندان اپنی سیاسی زندگی کے مشکل ترین دنوں سے گزر رہا ہے۔ اس وقت حصول اقتدار کی نہیں بلکہ اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہا ہے۔ شہباز شریف محاذ آرائی میں شدت نہیں چاہتے ہیں جبکہ مریم بی بی دباؤ بڑھا کر معاملات کو اپنی مرضی سے طے کرنے کیلئے کہیں آگے جائیں گی۔ عمران خان کے حالیہ بیان کے مطابق این آر او نہیں بلکہ پری گیم ڈیل ہو سکتی ہے۔ اگر زرداری اور شریف خاندان کسی پری گیم ڈیل پر آمادہ ہو بھی جائیں تو اس سے 3سے5ارب ڈالر تک مل سکتے ہیں جن سے 90ارب ڈالر کے قرضوں کی ادائیگی نہیں ہو سکتی۔ مگر ایسی رعایت حاصل کرنے کیلئے شریف خاندان فی الحال رضا مند  نہیں  ہے کیونکہ وہ سمجھوتہ کر کے اپنے سیاسی کردار کو داغ دار کرنے کی کوشش نہیں کرے گا۔

 دوسری طرف نادیدہ قوتوں کی طرف سے مسلم لیگ ن کے اراکین پارلیمنٹ پر تحریک انصاف کی حمایت حاصل کرنے کیلئے دباؤ میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ جس کا مقصد فارور ڈ بلاک بنانا ہے تا کہ مرکز اور پنجاب میں اپنے حمایتوں کی تعداد میں اضافہ کر کے ایم کیو ایم اور مسلم لیگ ق کی بلیک میلنگ سے نجات حاصل کی جائے۔ اس عمل میں پیٹریاٹ پیپلزپارٹی یا نئی ق لیگ کی طرح کوئی نئی لیگ برآمد ہو سکتی ہے۔ یہ صورتحال مسلم لیگ ن کے لئے زندہ رہنے یا ختم ہو جانے کا متبادل  ہوسکتی ہے۔ اس صورتحال میں شائد مسلم لیگ ن فیصلہ کن معرکہ کی طرف جانے کی منصوبہ بندی کرے گی۔جبکہ جے یو آئی پیپلز پارٹی اور قوم پرست جماعتوں کے ساتھ وابستہ رہنے کے باوجود اپنے پلان پر عمل کرے گی۔

 کانفرنس میں مولانا فضل الرحمان نے دو آپشن پیش کیے تھے۔ عمران خان کی حکومت گرانے کیلئے اس کے تضاداتی بیانات کے حوالے سے مذہبی تحریک اٹھائی جائے کیونکہ ہماری سیاست میں ماضی میں سیاسی محرکات پر پردہ ڈالنے کیلئے مذہب کا استعمال عام رہا ہے۔دوسرا یہ کہ صوبائی، قومی اسمبلیوں اور سینٹ سے استعفیٰ دیا جائے مگر ان تمام تجاویز کوپاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن نے رد کر دیا۔بلکہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وہ سیاست میں مذہبی بیانیہ کو کسی کے خلاف استعمال کرنے کے مخالف ہیں کیونکہ ماضی میں پیپلز پارٹی، پی این اے کی تحریک کا نشانہ بن چکی ہے۔ ویسے بھی ہمارے بدلتے ہوئے سیاسی اور عالمی ماحول میں لبرل طریقوں کے دائرے وسیع ہو رہے ہیں، اس لیے ملک کی اپوزیشن جماعتیں مذہبی قیادت کے بیانیے کو استعمال کر کے سیاست میں اپنی راہیں مسدود نہیں کرنا چاہتی ہیں۔ جبکہ ان جماعتوں کی خواہش ہے مولانا فضل الرحمان دیگر جماعتوں کے ساتھ مل کر اپنے سیاسی بیانیہ کے ذریعے حکومت کو دباؤ میں رکھے۔

 یہ بات بہر صورت واضح ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کی صلاحیت نہیں رکھتی ہے۔ اپوزیشن کے مختلف بیانیوں کی وجہ سے حکومت اپوزیشن کے دعوؤں کے بر عکس اپنا بجٹ پاس کروانے میں کامیاب ہو گئی ہے جس کی بنیادی وجہ ہے کہ اپوزیشن متبادل یا شیڈو بجٹ دینے میں ناکام رہی ہے۔ اور سارا وزن الزام تراشی اور سلیکٹ کی گردان پر رکھا جس پر عمران خان نے سب کو آمریت کی پیدا وار قرار دیا۔حالانکہ اس کے بیشتر حامیوں کا تعلق ضیاء الحق، مشرف اور دیگر جماعتوں سے ہے جو کہ ہمیشہ اقتدار کے ایوانوں میں شامل رہے ہیں۔ اور اب اپنی ہی سابق حکومتوں کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہیں۔ بجٹ کے نتیجہ میں کھانے پینے کی اشیا، بجلی گیس اور تیل کی قیمتوں میں کئی گنا اضافہ کر دیا گیا ہے، سینیٹرل ایکسائز ڈیوٹی کے نفاذ سے ملک میں ٹیکسٹائل ملیں اور اس سے تعلق رکھنے والے ذیلی چھوٹے صنعتی یونٹ اور کاروبار بند ہونے کو ہیں۔ نئے روز گار کہاں سے ملنا ہے اب تو پہلے سے ہی روز گار پر موجود مزدور فارغ ہو رہے ہیں۔ روپیہ قدر کھو رہا ہے قرضے بڑھ رہے ہیں۔  مہنگائی بے روز گاری غربت 90%عوام اور لوئر مڈل کلاس کے روٹی پیٹ کا معاملہ ہے۔جبکہ امیر کبیر ارب پتیوں اور امیر اپوزیشن لیڈروں کا اس سے کیا لینا دینا ہے۔

 یوں بھی پاکستان میں عوام کے بنیادی حقوق روٹی کپڑا اور مکان کے حوالہ سے بات کرنے والی کوئی سیاسی جماعت موجود نہیں ہے۔ مہنگائی اور بے روز گاری کے خلاف بائیں بازو کے بکھرے ہوئے گروپ سڑکوں پر بینر ز اٹھائے اور نعرے لگاتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں جبکہ سڑکوں پر گزرنے والے لوگ ان سے تعلق رکھتے ہیں دوسرے یہ کہ میڈیا پر عوام کے مسائل اور اس کے حوالے سے یک طرفہ نقطہ نظر پیش کیا جا رہا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ آئی ایم ایف قرضہ ملنے سے معاشی استحکام آئے گا، تیل کی موخر ادائیگی پر فراہمی کا تذکرہ ہے۔ دوست ملکوں سے ملنے والی امداد نے ملک کو دیوالیہ پن سے بچا لیا ہے۔یاد رہے کہ معیشت میں بہتری اور خود کفالت قرضوں سے نہیں بلکہ لانگ ٹرم منصوبہ بندی سے حاصل کی جا سکتی ہے۔ یہ تمام یک وقتی فائدے ہیں اور ریاست نے ان قرضوں کو دیر یا بدیر واپس کرنا ہے۔ ایسی صورتحال میں ہم معاشی اہداف حاصل نہیں کر سکتے ہیں جس کیلئے ضروری ہے ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کی بحالی سے سرمایہ کار صنعت کاری کیلئے سرمایہ کاری کریں۔ پیدا واری عمل میں اضافہ ہو۔ رئیل اسٹیک میں پھنسا ہوا کالا دھن ورکنگ کیپٹل کی شکل اختیار کرے۔ بالخصوص امیر طبقات اپنے انکم ٹیکس ایماندار سے ادا کریں۔ احتساب کا عمل مصافیانہ طور پر سر انجام پائے اور ملکی وسائل لوٹنے والوں کے خلاف بلا اختصاص کا رروائی کی جائے، ان تمام کاموں کیلئے ریاست اور اس کے متعلقہ اداروں کو تمام اسٹیک ہولڈرز کا اعتماد بحال کرنے کی ضرورت ہے۔محض روزانہ دھمکی خیز تقریروں بیانات اور طاقت سے نہ تو لوگوں سے ٹیکس وصول کیا جا سکتا ہے اور صنعت کا پہیہ  چالو کیا جا سکتا ہے۔

یہ بات انتہائی خوش آئند ہے کہ پاکستانی فوج کے سربراہ قمر جاوید باجوہ نے ملک معاشی بحران سے نکالنے کیلئے دو اہم نکات کی نشاندہی کی ہے۔ہم متحد ہوں اور ایک قوم بن کر سوچیں اور دوسرا یہ کہ علاقائی رابطوں کو فروغ دیا جائے۔ کیونکہ ملک نہیں علاقے ترقی کرتے ہیں ان نکات پر قومی بیانیہ کی ضرورت ہے۔71سال بعد بھی ہم ایک قوم نہیں بن سکے ہیں اور نہ ہی علاقائی ممالک سے بہتر تعلقات استوار ہو سکے ہیں۔ اس وقت سیاسی حقائق یہ ہیں تحریک انصاف کی حکومت اور ددیگر ادارے ایک پیج پر ہیں مگر تحریک انصاف کے قائدین کے انفرادی بیانیہ سے سیاسی تقسیم میں اضافہ ہو رہا ہے۔ دوسروں کو چور اور کرپٹ کہنے سے سیاسی اتحاد کس طرف جا سکتا ہے۔ اپوزیشن جماعتیں چیئر مین سینٹ کو ہٹانے کا اعلان کر چکی ہیں اس کے حوالے سے بلوچستان کی نیشنل پارٹی نے کہا ہے کہ اس کی جماعت کو نمائندگی دی جائے اس ضمن میں رہبر گروپ کی طرف سے اعلان آنا باقی ہے۔

 ہماری بد قسمتی ہے حکومت میں کوئی ویثرنری لیڈر موجود نہیں ہے جو علاقائی اور قومی سیاست کے حوالے سے نظریہ سوچ رکھتا ہو۔ عمران خان ایماندار ضرور ہیں عالمی شہرت یافتہ ہیں۔ مگر وہ سیاست، معیشت، اندرونی اور بین الاقوامی مسائل سے با خونی واقف نہیں۔ ماضی میں ذوالفقار علی بھٹو، بے نظیر بھٹو، نواز شریف نے علاقائی رابطوں کے حوالے سے بہت کام کیا تھا۔ پاکستان کو سیٹو سینٹو کے اتحاد سے نکالنے اور علاقائی ممالک کو جوڑنے کی کوشش کی تھی۔سی پیک کے ذریعے اربوں کا سرمایہ پاکستان میں لے کر آئے۔ اب غیر ملکی سرمایہ کار کہاں سے آئے گا۔ کیونکہ ہمارا مقامی صنعت کار کاروبار کو سمیٹ رہا ہے۔ موجودہ حکومت کے سخت فیصلوں کے بہتر نتائج کب آئیں گے۔ اس سے پہلے ملک میں سیاسی انتشار ختم کرنے کی ضرورت ہے تا کہ سیاسی صورتحال بہتر ہونے سے معاشی استحکام کی طرف قدم بڑیا ھا سکے۔

 ملک میں درآمدات پر پابندی لگانے کی ضرورت ہے۔ مہنگائی کے عفریت سے لوگوں کو بچایا جائے، سیاستدانوں کا احتساب ضروری ہے مگر  سیاسی تصادم والی  صورتحال پیدا نہ کی جائے۔ لوگوں کو خوف سے نکالا جائے، مشکل فیصلوں سے نا صرف مشکلات بڑھ رہی ہیں بلکہ ابھی تک درست سمت کا تعین نہیں ہو رہا۔ اگر یوں ہی سیاسی محاذ آرائی کوبڑھایا گیا تو ملک کا مستقبل ماضی کی طرح   مخدوش  رہے گا۔