امریکہ پابندیاں ہٹائے تو مذاکرات پر غور کر سکتے ہیں: ایران

  • جمعرات 04 / جولائی / 2019
  • 4770

ایران نے کہا ہے کہ وہ پابندیاں ہٹائی جائیں تو امریکہ کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے پر غور ہو سکتا ہے، ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ رہبر اعلٰی آیت اللہ علی خامنہ ای نے بھی مذاکرات کی مشروط منظوری دی ہے۔

ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق ایران کے وزیر برائے انٹیلیجنس محمود علاوی نے تصدیق کی ہے کہ رہبر اعلٰی نے پابندیاں ہٹائے جانے کی صورت میں امریکہ کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

خیال رہے کہ ایرانی رہبر اعلٰی آیت اللہ علی خامنہ ای امریکہ کے حوالے سے سخت موقف رکھتے ہیں اور انہوں نے حالیہ تنازع میں امریکہ کے ساتھ کسی بھی سطح کے مذاکرات نہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ محمود علاوی کا کہنا تھا کہ امریکہ کو ایران کی فوجی قوت کا اندازہ ہو گیا ہے۔ اسی لیے وہ ایران پر حملے کی ہمت نہیں کر سکا۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشہ ماہ کہا تھا کہ انہوں نے عین وقت پر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کا حکم واپس لے لیا تھا، تاکہ انسانی جانوں کے ضیاع سے بچا جا سکے۔ صدر ٹرمپ کے مطابق یہ کارروائی ایران کی جانب سے امریکی ڈرون طیارہ گرانے کے جواب میں کی جا رہی تھی۔

ایران نے دعویٰ کیا تھا کہ ڈرون طیارے نے ایران کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی تھی جبکہ امریکہ کا موقف تھا کہ طیارہ بین الاقوامی فضائی حدود میں معمول کی پرواز کر رہا تھا۔ صدر ٹرمپ گزشتہ سال ایران کے ساتھ 2015 میں طے پانے والے جوہری معاہدے سے الگ ہو گئے تھے۔ صدر کا کہنا تھا کہ اس معاہدے میں خامیاں ہیں اور ایران اپنا جوہری پروگرام آگے بڑھا رہا ہے۔

امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی حالیہ دنوں میں عروج پر پہنچ گئی تھی۔ صدر ٹرمپ نے مئی کے آغاز میں ایران سے تیل درآمد کرنے والے آٹھ ممالک کا استثنٰی ختم کردیا تھا۔ گزشتہ ماہ متحدہ عرب امارات کی فجیرہ بندرگاہ اور آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکرز پر حملوں کے دو واقعات ہوئے تھے امریکہ اور سعودی عرب نے اس کا ذمہ دار ایران کو ٹھہرایا تھا۔

صدر ٹرمپ متعدد باتر ایران کو مذاکرات کی دعوت دے چکےہیں۔ سلطنت آف اومان کے ذریعے ایران کے ساتھ بات چیت کے بارے میں باقاعدہ رابطہ بھی کیا گیا تھا۔