آئی ایم ایف پروگرام سے معاشی استحکام آئے گا لیکن مشکل فیصلے کرنے ہوں گے: حفیظ شیخ

  • جمعرات 04 / جولائی / 2019
  • 6500

وزیر اعظم کے مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہا ہے کہ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ  کے پروگرام سے ملک میں معاشی استحکام آئے گا۔

اسلام آباد میں وزیر مملکت برائے مالیات حماد اظہر اور چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ایشین ڈیولپمنٹ بینک بھی پاکستان کو 3 ارب 40 کروڑ ڈالر دے گا ۔  جبکہ ورلڈ بینک اسلام آباد کو اضافی رقم بھی فراہم کرے گا۔

مشیر خزانہ نے اعتراف کیا کہ پاکستان میں اس وقت مشکل معاشی حالات ہیں۔ موجود حکومت کو 31 ہزار ارب کا قرضہ ورثے میں ملا ہے۔  ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے بتایا کہ آئی ایم ایف نے 6 ارب ڈالر کی منظوری دی ہے اور اس کے بورڈ کے کسی رکن نے پیکج کی مخالفت نہیں کی۔ ملک میں مشکل فیصلے کیے جائیں گے لیکن اسی دوران کمزور طبقے کا بھی خیال رکھا جائے گا ۔ چیزیں بہتر انداز میں چلانا ہمارے مفاد میں ہے۔

بجٹ پر بات کرتے ہوئے مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ حکومت نے اپنے پہلے سال کے بجٹ میں عوام کو ریلیف دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بجٹ میں کاروبار کے لیے مراعات دی گئی ہیں جبکہ برآمدات پر ٹیکس لاگو نہیں کیے گئے۔  بجلی کے استعمال سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ 3 سو یونٹ سے کم بجلی استعمال کرنے والے صارفین پر کوئی بوجھ نہیں پڑے گا۔

ایک سوال کے جواب میں وزیر مملکت برائے مالیات حماد اظہر کا کہنا تھا کہ وہ کسی قانون کو سیاسی انتقام کے لیے استعمال نہیں کر رہے۔  آئی ایم ایف پروگرام کی کامیابی سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے کئی باتیں کی گئیں لیکن ہم اپنا کام کرتے رہے۔ تاہم تمام چیزیں سامنے آگئی ہیں۔ تمام لوگ اسے دیکھ سکتے ہیں۔ نجکاری سے متعلق آئی ایم ایف کی کوئی شرائط نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ حکومت  فیصلہ کرے گی کہ کون سے حکومتی ادارے بہتر ہیں یا پھر ان کی نجکاری کی جائے گی۔ آئی ایم ایف مالیاتی ادارہ ہے۔ یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم اس سے کس طرح فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔  عبدالحفیظ شیخ نے اعتراف کیا کہ جب بھی آئی ایم ایف سے قرض لیا تو اس کے چند سالوں تک حالات بہتر رہے لیکن وہ 2 یا 3 سال بعد دوبارہ خراب ہوئے۔ تاہم اب ایسے اقدامات کرنے ہیں جن سے ترقی کی شرح مستحکم رہے۔

بے نامی جائیدادوں سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی کا کہنا تھا کہ ان کے لیے پہلا ہدف صنعتی شعبہ ہوگا۔ اس کے بعد گھروں اور گاڑی رکھنے والوں کو بھی نوٹسز جاری کیے جائیں گے۔