ججوں کے خلاف حکومتی ریفرنس کی آئیندہ سماعت 12 جولائی کو ہوگی

  • ہفتہ 06 / جولائی / 2019
  • 3870

سپریم جوڈیشل کونسل  اعلیٰ عدلیہ کے ججز کے خلاف دائر صدارتی ریفرنس کی اگلی سماعت 12 جولائی کو کرے گی جس میں ممکنہ طور پر اٹارنی جنرل انور منصور سے جواب طلب کیا جاسکتا ہے۔

باخبر ذرائع کے مطابق سپریم جوڈیشل کونسل اٹارنی جنرل کو نوٹس بھیج چکی ہے جس میں ان سے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس کریم خان آغا کی جانب سے جمع کروائی گئی تحریروں پر جواب طلب کیا ہے۔ دونوں ججز ایس جے سی میں پیش کردہ اپنے جوابات میں وفاقی حکومت کی جانب سے ریفرنس میں ان کے خلاف لگائے گئے الزامات کو مسترد کرچکے ہیں۔

یہ بات ضروی نہیں کہ ریفرنس کا سامنا کرنے والے ججز 12 جولائی کو ہونے والی تیسری سماعت میں کونسل کے سامنے پیش ہوں۔ واضح رہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل کا 5 رکنی بینچ چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ، جسٹس گلزار احمد، جسٹس شیخ عظمت سعید، سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس احمد علی ایم شیخ، پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ پر مشتمل ہے۔

بینچ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس کریم خان آغا کے خلاف مبینہ طور پر برطانیہ میں غیر قانونی جائیداد رکھنے کے خلاف ریفرنس کی سماعت کررہا ہے۔ کونسل نے اگلی سماعت پشاور ہائی کورٹ میں پاکستان بار کونسل  اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے 13 جولائی کو ہونے والے اجلاس سے ایک روز قبل مقرر کی ہے۔  یہ اجلاس ملک بھر میں عدلیہ کی آزادی کی بھر پور تحریک کے آغاز کے لئے ملک بھر میں آگاہی مہم چلانے کے لیے طلب کیا گیا ہے۔ ملک کے دیگر شہروں میں بھی اس حوالے سے متعدد اجلاس متوقع ہیں۔

پاکستان بار کونسل کے نائب چیئرمین سید امجد شاہ نے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن حکومت کی جانب سے ریفرنس دائر کرنے کے خلاف سپریم کورٹ کے باہر احتجاج کرے گی۔ اس سے قبل 2 جولائی کو ہونے والی سماعت میں اٹارنی جنرل کو طلب نہیں کیا گیا تھا اور ایسا لگتا ہے کہ ایس جے سی کی اس سماعت میں ججز نے حکومتی ریفرنس میں لگائے گئے الزامات پر اپنے جوابات جمع کروائے تھے۔

14 جون کو پہلی سماعت میں ججز کو ریفرنس کی تفصیلات فراہم کرتے ہوئے ان کے خلاف الزامات پر انہیں اپنی صفائی دینے کی ہدایت کی گئی تھی۔ تاہم کسی جج کو سپریم جوڈیشل کونسل کے پروسیجر آف انکوائری 2005 کے تحت اظہارِ وجوہ کا نوٹس جاری نہیں کیا گیا تھا۔