غیرت کے نام پر قتل: 400 ملزموں میں سے صرف 8 کو سزا ملی
- ہفتہ 06 / جولائی / 2019
- 7030
صوبہ پنجاب میں 2018 میں غیرت کے نام پر قتل کرنے والے 400 ملزمان میں سے صرف 2 فیصد یعنی 8 ملزمان کو سزا سنائی جاسکی ہے۔
سول سوسائٹی نیٹ ورک فار ہیومن رائٹس پاکستان نے ’رائٹ ٹو انفارمیشن لا پنجاب‘ کے ذریعے پنجاب پولیس سے جو اعدادو شمار حاصل کیے ہیں، ان کے مطابق پچھلے سال صوبے میں غیرت کے نام پر قتل کے 234 کیس رپورٹ ہوئے، جن میں سے 6 کیس خارج ہو گئے۔ باقی 228 کیسز میں ملوث 439 ملزمان میں سے 400 کو گرفتار کیا گیا اور ان 400 میں سے صرف 8 کو ہی سزا دی جا سکی۔
سول سوسائٹی نیٹ ورک فار ہیومن رائٹس کے صدر ایڈووکیٹ عبداللہ ملک نے انڈی پینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ جب انہوں نے پنجاب پولیس سے یہ معلومات مانگیں تو انہیں فراہم نہیں کی گئیں، جس کے بعد انہیں ’رائٹ ٹو انفارمیشن لا‘ کے چیف کمشنر کو شکایتی درخواست لکھنی پڑی اور اس کے بعد ہی انہیں پنجاب پولیس سے ساری معلومات فراہم ہوئیں۔
ایڈووکیٹ عبداللہ ملک کہتے ہیں گزشتہ چند برسوں میں غیرت کے نام پر قتل کے کیسز میں اضافہ ہوا ہے۔ جس پر سول سوسائٹی، میڈیا اور خواتین پارلیمنٹیرینز نے بہت زیادہ آواز بلند کی لہذا 22 اکتوبر 2016 کو قومی اسمبلی نے کرمنل پروسیجر کوڈ کے سیکشن 299 اور 302 میں ترامیم کیں اورغیرت کے نام پر قتل بھی ایک عام شہری کے قتل کے زمرے میں آنے لگا۔ ’بدقسمتی سے اس قانون میں ترمیم کے باوجود ان کیسز میں کوئی خاطر خواہ کمی نہیں ہوئی۔‘
ان کے خیال میں جب غیرت کے نام پر قتل کی ایف آئی آر درج ہوجاتی ہے تو مدعی سے ہی ثبوت مانگا جاتا ہے۔ ایسے کیسز میں پولیس یہ اخذ کر لیتی ہے کہ مرنے والی خاتون یا مرد کا کردار ٹھیک نہیں تھا، اسی لئے واقعہ پیش آیا۔
انسانی حقوق کی کارکن سدرہ ہمایوں نے انڈی پینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے پارلیمینٹ میں حلف اٹھا کر آنے والوں سے درخواست کی کہ وہ ایوان میں عورت کی عزت اچھالنا بند کریں کیونکہ جب وہ کسی بھی ایک خاتون رکن کے خلاف غلط الفاظ استعمال کرتے ہیں تو انہیں دیکھنے یا سننے والوں پر منفی اثر ہوتا ہے۔ اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ پارلیمان میں بیٹھی عورت کی کوئی عزت نہیں تو گھر میں بیٹھی عورت کی کیا اوقات ہے۔