ناصر بٹ سے ملاقاتیں کیں لیکن ویڈیو جعلی ہے: جج ارشد ملک

  • اتوار 07 / جولائی / 2019
  • 5560

احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے مریم نواز کی طرف سے عائد کئے گئے الزامات کو مسترد کیا ہے اور ایک پریس ریلیز میں ان کی پریس کانفرنس کو ان کی ذات اور عدالتی نظام پر حملہ قرار دیا ہے۔

احتساب عدالت کے جج ارشد ملک پریس ریلیز کامتن درج زیل ہے۔

’میں ارشد ملک اسلام آباد میں بطور اکاونٹبلٹی کورٹ جج فرائض سرانجام دے رہا ہوں۔ میں نے گزشتہ روز مریم صفدر صاحبہ کی پریس کانفرنس اور مجھ سے منسوب کی جانے والی ویڈیوز دیکھی ہیں۔ کیونکہ اس پریس کانفرنس کے ذریعے مجھ پر سنگین الزامات لگا کر میرے ادارے، میری ذات اور میرے خاندان کی ساکھ کو متاثر کرنے کی سازش کی گئی ہے لہذا میں اس ضمن میں حقائق منظر عام پر لانا چاہتا ہوں۔

میں راولپنڈی کا رہائشی ہوں جہاں میں جج بننے سے پہلے وکالت کرتا رہا ہوں۔ مذکورہ ویڈیوز میں دکھائے گئے کردار ناصر بٹ کا تعلق بھی اسی شہر سے ہے اور میری اس سے پرانی شناسائی ہے۔ ناصر بٹ اور اس کا بھائی عبداللہ بٹ عرصہ دراز سے مختلف اوقات میں مجھ سے بے شمار دفعہ مل چکے ہیں۔

مریم صفدر صاحبہ کی پریس کانفرنس میں دکھائی جانے والی ویڈیوز نہ صرف حقائق کے برعکس ہیں بلکہ ان میں مختلف مواقع اور موضوعات پر کی جانے والی گفتگو کو توڑ مروڑ کر سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کرنے کی مذموم کوشش کی گئی ہے۔

مریم صفدر صاحبہ کی پریس کانفرنس کے بعد یہ ضروری ہے کہ سچ منظر عام پر لایا جائے۔ وہ یہ کہ نواز شریف صاحب اور ان کے خاندان کے خلاف مقدمات کی سماعت کے دوران مجھے ان کے نمائندوں کی طرف سے بارہا نہ صرف رشوت کی پیش کش کی گئی بلکہ تعاون نہ کرنے کی صورت میں سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دی گئیں جن کو میں نے سختی سے رد کرتے ہوئے حق پر قائم رہنے کا عزم کیا اور اپنے جان و مال کو اللہ کے سپرد کر دیا۔ میں نے اگر دباؤ یا رشوت کے لالچ میں فیصلہ سنانا ہوتا تو ایک مقدمہ میں سزا اور دوسرے میں بری نہ کرتا۔ میں نے انصاف کرتے ہوئے شواہد کی بنیاد پر نواز شریف صاحب کو العزیزیہ کیس میں سزا سنائی اور فلیگ شپ کیس میں بری کیا۔

میں یہ بھی واضع (بعینہ) کرنا چاہتا ہوں کہ مجھ پر بالواسطہ یا بلاواسطہ نہ تو کوئی دباؤ تھا اور نہ ہی کوئی لالچ پیش نظر تھا۔ میں نے یہ فیصلے خدا کو حاضر و ناظر جان کر قانون و شواہد کی بنیاد پر کیے۔ یہ پریس کانفرنس محض میرے فیصلوں کو متنازع بنانے اور سیاسی فوائد حاصل کرنے کے لئے کی گئی ہے۔ اس میں دکھائی گئی ویڈیوز جھوٹی، جعلی اور مفروضی ہیں۔ لہذا اس میں ملوث افراد کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جانی چاہیے۔