پروفیسر ڈاکٹر خیرات ابن رسا اور ناممکنات کا ممکن

معلوم نہیں یہ کوئی منیو فیچکرنگ فالٹ ہے یا وقت گزرنے کے ساتھ جنم لینے والا مسئلہ ہے کہ میراذہن چلتے چلتے کسی ایک نکتے پر اٹک جائے تو پھر کئی کئی گھنٹے اور بعض اوقات کئی کئی دن اُسی نکتے کے گرد گھومتا رہتا ہے۔

سوچتا رہتا ہوں اور ڈھونڈتا رہتا ہوں کہ اس بات کا کوئی سِرا مل جائے۔ اکثر مل جاتا ہے اور جب کبھی نہ ملے تو ایک عجیب اضطراب طویل عرصہ معمولاتِ زندگی کی روانی متاثر کر تا رہتا ہے۔ گزشتہ روز خبر سنی کہ ہمارے ادارے کے پہلے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خیرات ابن ِ رسا93برس کی عمر میں لاہور میں انتقال کرگئے۔ انتقال کی خبرپربی زیڈ یو کے تمام واٹس ایپ اور فیس بک گروپس میں میرے رفقا نے اپنے اپنے تاثرات دینا شروع کر دیے۔ عام طور پر کسی استاد یا اُن کے عزیز کے انتقال کی خبر پر ہمارے رفقا میں سے کوئی ایک کسی گروپ میں ”انااللہ وانا الیہ راجعون“ لکھ دیتاہے اور باقی سب اُسی سطر کو کاپی کرکے پیسٹ کرتے جاتے ہیں۔  اظہارِ افسوس کا یہ عمل ایک دو گھنٹے جاری رہتا ہے اُس کے بعد پھر وہی ملکی سیاست، لطائف، شاعری، اقوالِ زریں، احادیث و آیات اور اُن کے تراجم، کچھ نئے پرانے نوٹی فکیشن، پھولوں کے گلدستوں اور سورج چاند ستاروں والے گڈ مارننگ اورگڈ نائٹ کے اشتہارات اِن واٹس ایپ گروپس کی زینت بننا شروع ہوجاتے ہیں۔ کبھی کبھار کچھ علمی اور سنجیدہ گفتگو بھی ہوتی ہے لیکن وہ ہماری طبیعتوں پر جلد ہی گراں گزرنا شروع ہوجاتی ہے۔ متذکرہ گروپس میں ادارے کی فلاح کے لیے بھی باتیں ہو تی ہیں کہ آخر اس کے ساتھ ہمارا روزگار وابستہ ہے لیکن اُن باتوں میں بھی ہمارا جی زیادہ دیر لگتا نہیں۔

پروفیسر ڈاکٹر خیرات ابن ِ رسا صاحب کے بارے میں چند باتیں جامعہ زکریا کے سینئر اساتذہ سے سن رکھی تھیں لیکن جب اُن کے انتقال کی خبر ایک واٹس ایپ گروپ میں شیئر ہوئی تو نجانے کیوں اُن کے نام پرآج پہلی دفعہ ذہن اٹک گیا اورخبر شیئر کرنے والوں نے جو چند تعارفی سطریں ساتھ لکھی تھیں اُن سے زیادہ کچھ جاننے کی خواہش پیداہوئی۔ بہاء الدین زکریا یونیورسٹی کی ویب سائٹ پر دیکھا تو کچھ نہ ملا، پھر سوچا کہ وہ پنجاب یونیورسٹی کے بھی تو وائس چانسلر رہے ہیں سو پنجاب یونیورسٹی کی ویب سائٹ دیکھی تو وہاں بھی وائس چانسلرز کے ناموں کی فہرست میں اُن کے نام اور تصویر کے سواکچھ نہ ملا۔  کافی دیر تلاش کرتا رہا۔ بالآخر اُن کے بارے میں کچھ مواد ملا۔ جب اُسے پڑھا تو کچھ مزید جاننے کی خواہش میں آگے بڑھا،ایک دو کتابیں دیکھیں تو گویا دبستان کھل گیا اور پروفیسر ڈاکٹر خیرات ابن ِ رسا ہمارے ادبی قبیلے کے ہی چشم و چراغ نکلے۔ان باتوں میں یقیناً بہت سا اضافہ ہمارے سینئر اساتذہ کر سکتے ہیں جن کی خیرات ابن ِ رسا صاحب سے ملاقاتیں رہیں یا جنہوں نے اُن کے زیرِ اثر کام کیا۔
پروفیسر ڈاکٹر خیرات ابن ِ رسا کا نام تو ادبی شخصیات کا سا ہے لیکن وہ ایک سائنس دان اور ماہرِ تعلیم تھے۔ اُن کا تعلق ریاست جموں و کشمیر سے تھا۔ وہ 1926 میں ضلع ڈوڈہ کے سیاحت اور علمی حوالے سے معروف مقام بھدرواہ میں پیدا ہوئے۔ میٹرک اور انٹرمیڈیٹ تک کی تعلیم گورنمنٹ ہائیر سکینڈری اسکول بھدرواہ سے حاصل کی جبکہ بی ایس سی جی جی ایم (گورنمنٹ گاندھی میموریل) سائنس کالج جموں سے کی۔ یہ کالج اُس وقت سائنس کی تعلیم کے حوالے سے ہندوستان کے چند معروف ترین کالجز میں شامل تھا۔ اس کے بعد وہ اعلیٰ تعلیم کے لیے علی گڑھ چلے گئے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے کیمسٹری میں ایم ایس سی کی ڈگری مکمل کی۔ دریں اثنا ہندوستان دو حصوں میں تقسیم ہوا اور وہ پاکستان آ گئے۔

ملک کی تقسیم نے بہت کچھ تقسیم کردیا لیکن اُس وقت شاید ہجرت کرنے والوں کا اس تقسیم پر زیادہ یقین نہ تھا۔ اپنی دھرتی اور اپنا وطن چھوڑ کر جانے والا شاید ہی کوئی ایسا فرد ہو جسے یہ خیال نہ ہو کہ یہ تقسیم تو عارضی ہے اور ابھی چند دن کی بات ہے کہ ہم پھر اپنے اپنے گاؤں اور شہر کو لوٹ آئیں گے۔ خیرات ابن ِ رسا1948 میں پاکستان آئے۔ یہاں آنے کے بعد اُن کی ذات بھی اپنے آبائی وطن اور موجودہ وطن میں تقسیم ہو گئی۔ وہ ہمیشہ کشمیر کو یاد کرتے رہے اور جب وہاں جانے کا موقع ملا تب تک دیر ہو چکی تھی۔ خیرات ابن ِ رسا پاکستان آنے کے بعد پہلی دفعہ1979 میں اُس وقت بھدرواہ  گئے جب اُن کے والد وفات پا چکے تھے۔

پروفیسر ڈاکٹر خیرات ابن ِ رساکے والد کا نام رسا ؔجاودانی (1901۔ 1979)تھا۔ یوں تو وہ کشمیری زبان کے ساتھ ساتھ اُردو کے بھی عمدہ شاعر تھے لیکن کشمیری زبان میں اُنہوں نے جو غزل کہی اُس کی بنا پر آج بھی رساؔ جاودانی کو کشمیری غزل کا سب سے معتبر شاعر سمجھا جاتا ہے۔ پروفیسر حامدی کاشمیری اور پروفیسرمرغوب بانہالی ایسے ناقدین نے اُن کی کشمیری غزل کی عظمت کا اعتراف کیا ہے۔ کشمیری زبان کے بہت سے بلند پایہ گائیکوں نے اُن کی غزلیں گا کر شہرت کی بلندیاں حاصل کیں۔ اُردوکے ادیبوں میں پنڈت دتاتریا کیفی، حفیظ جالندھری اور سیماب اکبر آبادی سے اُن کے بہت قریبی مراسم رہے۔ رسا ؔجاودانی کی شاعری کا مجموعی رنگ و آہنگ رومانوی ہے لیکن انسانی اقدار بھی اُن کا بڑا موضوع رہیں۔ فطرت سے محبت اُن کے شہر بھدرواہ کے حسن کی وجہ سے رساجاودانی کی ذات کا حصہ بن گئی۔

رسا صاحب کے اردو شعری مجموعوں میں ’لالہئ صحرا‘، ’نظم ِثریا‘ اور طویل نظم ’طوفان‘جبکہ کشمیری شعری مجموعوں میں ’تحفہئ کشمیر‘ اور’نیرنگیِ غزل‘شامل ہیں۔ رسا جاودانی ایک سیکولر ذہن کے آدمی تھے۔ چند اشعار ملاحظہ کیجیے:
نسل ِ آدم سے ہے جہاں معمور، آدمی اس جہاں میں تھوڑے ہیں
آدمیت کے روپ میں اکثر، ریچھ بندر گدھے ہیں گھوڑے ہیں
۔۔۔۔
کبھی نہ مسجد و مندر میں امتیاز کروں
بتوں کی کرکے پرستش ادا نماز کروں
۔۔۔۔
ایسی بستی ہو جہاں لوگ ہوں سارے انسان
کوئی ہندو ہو وہاں اور نہ مسلمان کوئی
۔۔۔۔
مجھے ایسے مذہب سے رسا نہ ہے واسطہ نہ ہے رابطہ
جہاں خونِ آدم حلال ہے اور سرخ پانی حرام
۔۔۔۔
جموں یونیورسٹی کے شعبہ اردو نے 1995  میں ایک ادبی تنظیم رسا جاودانی میموریل لٹریری سوسائٹی کی بھی بنیاد رکھی۔ اس سوسائٹی کے زیرِ اہتمام ادیبوں اور شاعروں کو ہر سال رساجاودانی ایوارڈ دیا جاتا ہے۔ رسا صاحب کا اردو اور کشمیری شعری کلیات بھی “کلیاتِ رسا” کے عنوان سے اسی لٹریری سوسائٹی نے چند برس پہلے شائع کیا جس کے مؤلف رسا جاودانی کے بیٹے اور خیرات ابن ِ رسا کے بھائی تنویر ابن ِ رسا ہیں جو محکمہ پولیس سے ڈپٹی سپریٹنڈنٹ ریٹائر ہوئے۔ رسا صاحب کے تمام بچے ذہین اور لائق تھے سو انہوں نے اپنے بچوں کو بہت عمدہ تعلیم دلوائی۔ اُن کی ایک بیٹی رشیدبانوکے صاحبزادے پروفیسر شہاب عنایت ملک جموں یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے صدر ہیں۔

 اُن کی یادداشت”میری یادوں کے لمس” کے ابتدائی حصے سے چند سطور ملاحظہ کریں جن میں رسا جاودانی، اُن کے بچوں اور بالخصوص رشید بانو اور خیرات ابن ِ رساصاحب کا ذکر موجود ہے:

“میری والدہ کا ذہانت میں کوئی جواب نہ تھا، دسویں جماعت میں انہوں نے پورے ضلع ڈوڈہ میں پہلی پوزیشن حاصل کی تھی۔ انگریزی فارسی اور اردو تینوں زبانوں میں دسترس رکھتی تھیں۔ رسا جاودانی اپنی اولادوں میں سے میری والدہ کو بہت ہی عزیز رکھتے تھے۔ جب والدہ بیمار رہنے لگیں تو گھر کی مالی حالت بھی کمزور ہو گئی۔ والد جو کچھ کماتے تھے والدہ کی بیماری پر صرف کرتے تھے۔ کچھ عرصہ کے لیے والدہ جب ٹھیک ہوئیں تو مرحوم نانا جان نے بھدرواہ کے مشہور اور معروف دانشور ڈاکٹر محمد اقبال سے رجوع کیا جنہوں نے میری والدہ کو ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں کلرک کے عہدے پر تعینات کرادیا۔۔۔ کی طبیعت پھر خراب ہونے لگی، جتنی آمدنی تھی اُن کی بیماری پر صرف ہونے لگی۔۔۔ تمام رشتہ دار سوائے رساجاودانی صاحب کے ہمیں حقارت کی نظر سے دیکھنے لگے۔

اعلیٰ عہدوں پر تعینات اپنے ہی خاندان کے لوگوں نے جب منہ موڑنا شروع کیا تو والدہ بہت دل برجستہ ہوئیں۔۔۔ مرحوم رسا جاودانی اور نانی مرحومہ زیبا بانو(خیرات ابن ِ رسا کی والدہ) کو میری والدہ کی بیماری سخت تڑپاتی تھی۔۔۔ میں نے والدہ کی بیماری پر رسا صاحب کو روتے ہوئے دیکھا ہے۔۔۔ جب میں آٹھویں جماعت کا طالب علم تھا کہ میرے نانا رسا جاودانی کینسر کی مہلک بیماری میں مبتلا ہو کر اس جہانِ فانی سے چلے گئے۔ ان کے انتقال کے بعد میرے ماموں پروفیسر خیرات ابن ِ رسا جو لاہور یونیورسٹی کے وائس چانسلر تھے اپنی اہل و عیال کے ساتھ بھدرواہ تشریف لائے۔۔۔ رسا جاودانی کے یہی وہ فرزند تھے جن کے لیے وہ پوری زندگی ترستے رہے۔ اُن کی جدائی کے غم میں اشعار تحریر کرتے رہے لیکن جب یہی بیٹا بھدرواہ تشریف لایا تو رسا صاحب انتقال کر چکے تھے۔

رسا صاحب نے زندگی کا آخری سانس اُس وقت لیا جب میری بیمار والدہ اُن کے سرہانے پر پہنچیں۔۔۔ خیرات صاحب کووالد کے انتقال کی خبر کشتواڑ میں دی گئی۔۔۔ جہاں خیرات صاحب کے تینوں بیٹے نہایت ہی خوش اخلاق اور خوش مزاج تھے وہیں اُن کی اہلیہ ایک چڑچڑی مزاج کی خاتون تھیں جس کی وجہ سے وہ خاندان کے دوسرے افراد سے گھل مل نہیں پائیں۔ البتہ خاندان کے دوسرے افراد نے اُن کی عزت افزائی کرنے میں کوئی کسرباقی نہیں رکھی۔ خوب دعوتیں ہوئیں۔ کبھی کبھی جب وہ لمحات مجھے یاد آتے ہیں تو آنکھوں میں آنسو آ جاتے ہیں۔ رسا جاودانی نے زندگی میں بیٹے کی جدائی میں کتنے آنسوبہائے ہوں گے لیکن انتقال کے بعد جب بیٹا تشریف لایا تو کشمیر کے نظاروں میں اس قدر کھو گیا کہ اپنے والد کو بھی بھول گیا۔”

مندرجہ بالا اقتباسات میں پیش کیے گئے تاثرات پروفیسر ڈاکٹر خیرات ابن ِرسا صاحب کے اُس بھانجے کے ہیں جو بھدرواہ (ریاست جموں وکشمیر) میں اُن کے آبا ؤ اجداد کے پاس مقیم تھا۔ عین ممکن ہے کہ خیرات ابن ِ رسا صاحب بھی اپنے والدین سے ملاقات کے لیے اتنا ہی تڑپتے ہوں جتنا کہ والدین بے چین رہے اور یہ بات تو کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ پاکستان اور ہندوستان کے تعلقات میں تناؤ کی وجہ سے ہم سے پچھلی نسل کے کئی لوگ سینتالیس کے بعد ایک دوسرے کی جھلک دیکھنے کی خواہش لیے دنیا سے چلے گئے۔

(بشکریہ: گرد و پیش ملتان)