جج ارشد ملک کی مبینہ ویڈیو کی تحقیقات عدلیہ کو کرنی چاہییں: شہزاد اکبر

  • سوموار 08 / جولائی / 2019
  • 5690

پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان کے معاونِ خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز شریف کی جانب سے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی مبینہ ویڈیو ٹیپ کے معاملے کی تحقیقات  متعلقہ عدالت کو کرنی چاہئے۔

جیو نیوز کے پروگرام میں اتوار کی شب بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے اس معاملے کی تحقیقات سے اس پر جانبداری کا الزام لگ سکتا ہے۔ یہ ویڈیو ٹیپ ہفتہ کو پاکستان مسلم لیگ کی  پریس کانفرنس میں پیش کی گئی تھی۔ جس میں مبینہ طور پر نواز شریف کو العزیزیہ ریفرینس میں سزا سنانے والے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک  ایک لیگی کارکن ناصر بٹ کے ساتھ بات چیت میں فیصلہ لکھنے سے متعلق کچھ 'نامعلوم افراد' کی جانب سے دباؤ کے بارے میں بتاتے دیکھا اور سنا جا سکتا ہے۔

ویڈیو سامنے آنے کے بعد اتوار کو احتساب عدالت کی جانب سے  جج ارشد ملک کا ایک بیان جاری کیا گیا جس میں انہوں نے ویڈیو کو ’جھوٹی، جعلی اور مفروضوں پر مبنی‘ قرار دیا تھا۔ اس بیان کے بعد وزیراعظم کی مشیر برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان نے ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ ’آڈیو، ویڈیو ٹیپ بنانے اور چلانے والے دونوں کردار سند یافتہ جھوٹے ہیں اور حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ مریم صفدر اعوان کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے آڈیو اور ویڈیو کا فرانزک آڈٹ کرائیں گے۔‘

شہزاد اکبر نے مشیرِ اطلاعات کی جانب سے ویڈیو کے فرانزک آڈٹ کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے حکومتی فیصلہ مشاورت کے بعد آئے گا۔  ان کا کہنا تھا کہ ان کی معلومات کے مطابق اس معاملے پر اب تک کوئی مشاورت نہیں ہوئی ہے مگر ہو سکتا ہے کہ منگل کو کابینہ کے اجلاس میں یا ممکنہ طور پر اس سے قبل اس حوالے سے بات ہو۔

شہزاد اکبر کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ ذاتی طور پر سمجھتے ہیں کہ اس معاملے کی تحقیقات خود عدلیہ کو کرنی چاہییں کیونکہ ایک عدالتی افسر کو انتظامی افسر کے سامنے پیش کروا کے تفتیش کروانا مناسب نہیں۔ ’اس معاملے میں وزارتِ قانون متعلقہ وزارت ہے اور اس کا مشورہ نہایت اہمیت رکھتا ہے۔ اگر حکومت نے معاملے کی تحقیقات عدالت کے سپرد کرنے کا فیصلہ کیا تو یہ بھی وزارتِ قانون کے ذریعے ہی ہوگا۔'

شہزاد اکبر کے مطابق اسلام آباد کی احتساب عدالت اسلام آباد ہائی کورٹ کے ماتحت ہے، اس لیے وہ عدالت ہی اس حوالے سے تحقیقات کا متعلقہ فورم ہے کیونکہ حکومت کی جانب سے تحقیقات کروانے پر جانبداری کا الزام لگ سکتا ہے۔

(بی بی سی اردو)