ناصر بٹ سے ملاقات کی ویڈیو نواز شریف کے مقدمے سے پہلے کی ہے: جج ارشد ملک
- سوموار 08 / جولائی / 2019
- 4380
پاکستان مسلم لیگ(ن) کے تاحیات قائد اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کو العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں سزا سنانے والے جج ارشد ملک نے مریم نواز کی جانب سے سامنے لائی گئی مبینہ ویڈیو پر کہا ہے کہ ناصر بٹ کے ساتھ ملاقات کی ویڈیو نواز شریف کے مقدمے سے پہلے کی ہے۔
اسلام آباد میں ڈان نیوز سے غیررسمی گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ میرے متعلق جھوٹا پروپیگینڈا کیا جارہا ہے۔ میرے متعلق چلائی گئی ویڈیو کے ایک ایک لفظ کا جواب دے سکتا ہوں۔ جج ارشد ملک کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے پریس کانفرنس کرنے سے متعلق رجسٹرار کی رائے لے چکا ہوں۔ عدالتی نظام اجازت دے تو پریس کانفرنس بھی کرسکتا ہوں۔
مریم نواز کی جانب پریس کانفرنس میں سامنے لائی گئی ویڈیو سے متعلق جج کا کہنا تھا کہ ناصر بٹ کے ساتھ ملاقات کی ویڈیو نواز شریف کے مقدمے سے پہلے کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرے بیانات کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کی کوشش کی گئی۔ میں اپنے آپ کو احتساب کے لیے پیش کرتا ہوں۔ میرے ضمیر پر نہ کوئی بوجھ ہے اور نہ میں کسی کی بلیک میلنگ میں آتا ہوں۔
6 جولائی کو سابق وزیر اعظم کی صاحبزادی مریم نواز پریس کانفرنس کے دوران العزیزیہ اسٹیل ملز کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ارشد ملک کی ایک ویڈیو سامنے لائی تھیں۔ اس میں مبینہ طور پر جج ارشد ملک، مسلم لیگ (ن) کے کارکن ناصر بٹ سے ملاقات کے دوران نواز شریف کے خلاف نیب ریفرنس سے متعلق گفتگو کر رہے تھے۔
مریم نواز نے بتایا تھا کہ ویڈیو میں نظر آنے والے جج نے فیصلے سے متعلق ناصر بٹ کو بتایا کہ 'نواز شریف کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے، فیصلے کے بعد سے میرا ضمیر ملامت کرتا رہا اور رات کو ڈراؤنے خواب آتے۔ لہٰذا نواز شریف تک یہ بات پہنچائی جائے کہ ان کے کیس میں جھول ہوا ہے‘۔
انہوں نے ویڈیو سے متعلق دعویٰ کیا تھا کہ جج ارشد ملک ناصر بٹ کے سامنے اعتراف کر رہے ہیں کہ نواز شریف کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ہے۔ ویڈیو میں جج خود کہہ رہے ہیں کہ نواز شریف کے خلاف ایک دھیلے کی منی لانڈرنگ کا ثبوت نہیں ہے۔
تاہم گزشتہ روز احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے اس ویڈیو کے ذریعے ان پر لگنے والے الزامات پر ایک پریس ریلیز جاری کی تھی۔ جج ارشد ملک نے مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کی جانب سے پریس کانفرنس کے دوران دکھائی جانے والی ویڈیو کو جعلی اور فرضی قرار دیا تھا۔
جج ارشد ملک نے یہ بھی کہا تھا کہ ان کی مسلم لیگ (ن) کے ناصر بٹ اور ان کے بھائی عبداللہ بٹ کے ساتھ پرانی شناسائی ہے اور دونوں بھائی مختلف اوقات میں مجھ سے مل بھی چکے ہیں۔
اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کو العزیزیہ ریفرنس میں 7 سال قید بامشقت اور بھاری جرمانے کی سزا سنائی تھی جبکہ فلیگ شپ ریفرنس میں انہیں بری کردیا تھا۔