اناڑی کھلاڑی
- تحریر سرور غزالی
- سوموار 08 / جولائی / 2019
- 10900
بندر کے کھیل میں بندر اور بھالو کے تماشے میں بھالو کھلاڑی ہے اور اس کا مداری ہی اصل کھیل کا کرتب دکھانے والا ہوتا ہے۔ کھلاڑی تو بس اشارے پر ناچتا ہے۔
دوسرے کھیلوں کے کھلاڑی کا کام یہ ہوتا ہے کہ پیسے لو اور کھیلو۔ کامیاب ترین کھلاڑی کا بس ایک اصول ہوتا ہے، زیادہ سے زیادہ رن بناؤ، گول کرو، گھوڑے کو جتواؤ اور بس۔
کھیل میں ڈنڈوں کا استعمال تو قدیم زمانے سے ہی چلا آرہا ہے۔ گلی ڈنڈے سے لے کر ہاکی اسٹیک اور بلے سبھی ڈنڈے کی مانند چلتے ہیں۔ سیاست اور حکومت کے کھیل میں بھی۔ کھیل میں ڈنڈوں کے بعد سب سے زیادہ بوٹوں کی اہمیت ہوتی ہے۔ اچھا کھیل پیش کرنے کے لیے مضبوط اور پائیدار بوٹ ضروری ہوتے ہیں۔ کھیل سیاست کا ہو یا حکومت کا، بوٹ لازم و ملزوم ہیں۔
سنا ہے سیالکوٹ سے کھیل کے کارخانے راولپنڈی منتقل ہو چکے ہیں۔ اور اسلام آباد میں بھی ایک کارخانہ لگ گیا ہے۔
بچپن سے سنتے آئے ہیں: "کھیلنا ہے کھیلو ورنہ باہر جاؤ ۔۔۔"
حکومت کرنا بھی تو ایک کھیل ہی ہے۔ جسے کھیلنا ہو کھیلے ورنہ حکومت سے باہر، ملک سے باہر یا جیل کے اندر چلا جائے۔
قومی ہیرو اور وطن پرست کھلاڑی وغیرہ تو ستر، اسی اور نوے کی دہائی کے اوائل تک ہی آتے رہے ہیں۔ اب تو جرمنی کی قومی فٹبال ٹیم برازیل، یوروگائے اور جانے کن کن ممالک سے خریدے۔۔۔۔ معافی چاہتا ہوں ۔۔۔۔ بھاڑے کے ٹٹوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ لیکن ہمارے یہاں البتہ یہ صورتحال اصلی کھیل کے میدان ذرا مختلف ضرور ہے۔
تاہم ایسی کچھ صورتحال حکومت چلانے کے لیے تو ہے۔ کھلاڑی تو پیسے لیتے ہیں اور کھیلتے ہیں۔ ٹاس جیتے اور رن، گول اور اسکور بناتے ہیں۔ پھر بھی نام ہوتا ہے کہ جذبہ حب الوطنی اور فلاں ڈھکاں۔ ن
اب کھلاڑی کو جہاں چاہو لگا لو۔ حکومت، سیاست کا کھیل پکڑا دو۔ رن ریٹ دیکھو۔ حزب مخالف کو آؤٹ کروالو، چاہو تو ان کو جیل میں بند کروالو۔ کھلاڑی امپائر اور ریفری کے اشارے اور حکم پر سب کچھ کرتا ہے۔ ذرا حکم عدولی کرے تو کھیلنے سے جاتا ہے۔ امپائر کھیل کے میدان سے نکالتا ہے تو جی ٹی آئی وغیرہ جیسی کمیٹیاں اسے پانچ سال یا عمر بھر کے لیے نااہلی، جرمانے اور قید کی سزا سنا دیتی ہیں۔
میچ کے سیزن یا ٹور کے دوران کھلاڑیوں کی کھیل میں بھر پور توجہ حاصل کرنے کے لیے ان پر اپنی بیویوں سے ملنے کی پابندی کی شرائط لگائی تو ہو جاتی ہے مگر وہ مانتے کب ہیں۔ سیاست کے کھیل میں تو بیوی چھوڑ بچوں کو بھی لے آنے سے باز نہیں آتے۔ منشیات نوشی اور شراب نوشی، میچ فسنگ سب کچھ منع بھی ہوتا ہے اور انتظامیہ ساری برائیوں کے فروغ مں ملوث بھی ہوتی ہے۔
میچ فسکنگ کا قومی جواب الیکشن فکسنگ ہے۔ کبھی ایک آدھ گلاس پر ہنگامہ ہوجاتا ہے کہ چین کے دورے کے دوران گلاس میں سرخ شراب کی فلم چل گئی تو کبھی آدھامن ہیروئین پکڑی گئی۔ آپ نے بھی سنا ہوگا اناڑی کا کھیلنا کھیل کا ستیاناس۔ مگر طاقت آزمائی کے کھیل میں کھیل کے میدان کا ستیاناس ہوتا ہے۔ اور ہارتی ٹیم تماشائیوں پر جا گرتی ہے۔ سو عوام اور ملک کا ستیاناس ہو رہا ہے۔