آئی ایم ایف معاہدے کی تفصیلات: ٹیکس بڑھانے اور قرض کم کرنے کا ڈرامائی منصوبہ

  • منگل 09 / جولائی / 2019
  • 4750

عالمی مالیاتی فنڈ  کی جانب سے جاری کردہ اسٹاف رپورٹ کے مطابق پاکستان میں مستقبل قریب میں سخت ٹیکسز کا نفاذ ہوگا۔  رواں برس 15 کھرب 60 ارب روپے کے اضافی ٹیکس لگائے جائیں گے۔

آئندہ برس 15 کھرب کے مزید ٹیکسز اور اس کے بعد آنے والے سال میں 13 کھرب 10 ارب روپے کے ٹیکسز لگائے جائیں گے۔ روزنامہ ڈان کے مطابق آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والے سمجھوتے پر مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ اور گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر نے  دستخط کیے ہیں۔  اس کی رو سے اگست کے مہینے کے دوران ایک مرتبہ پھر بجلی کی قیمتوں میں اضافہ ہوجائے گا۔

آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت صوبے 13 کھرب روپے قومی مالیاتی کمیشن کو واپس کرنے کے بھی پابند ہیں۔ دستاویز میں لگائے گئے تخمینے کے مطابق حکام نے ایف بی آر سے رواں برس اکٹھا ہونے والے ٹیکس کو گزشتہ برس کے 39 کھرب 40 ارب روپے سے بڑھا کر 55 کھرب کرنے کا وعدہ کیا ہے جو 24-2023 تک 100 کھرب 50 ارب تک پہنچ جائیں گے۔

یوں اکھٹے ہونے والے ٹیکسز میں 5 سال کے دوران 65 کھرب 64 ارب روپے کا اضافہ ہوگا اس طرح مجموعی ملکی پیداوار میں ٹیکسز کی شرح رواں برس 10.4 فیصد سے بڑھ کر 15.3 فیصد ہوجائے گی۔

آئی ایم ایف دستاویزت کے مطاق چین پاکستان کا سب سے بڑا قرض دہندہ ہے۔ 85 ارب 48 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کے مجموعی غیر ملکی قرض میں ایک چوتھائی سے کچھ زائد یعنی 21 ارب 35 کروڑ 90 لاکھ ڈالر چینی قرضہ ہے۔

آئی ایم ایف پروگرام کے اختتام تک پاکستان کو غیر ملکی قرض میں سے 37 ارب 35 کروڑ 90 لاکھ ڈالر واپس کرنے ہیں جس میں سے 40 فیصد یعنی 14 ارب 68 کروڑ 20 لاکھ ڈالر چین کو ادا کیے جائیں گے۔ اس طرح آئی ایم ایف پروگرام ختم ہونے تک چین سے کمرشل بنیاد پر لیا گیا قرض صفر تک لانا ہوگا جبکہ دو طرفہ بنیاد پر لیے گئے قرض 15 ارب 15 کروڑ 50 ارب ڈالر سے کم کر کے 7 ارب 94 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کرنا ہوگا۔

حکومت نے ستمبر 2020 تک 7 سرکاری اداروں کی نجکاری کرنے پر بھی آمادگی ظاہر کی ہے اس کے ساتھ ایک مکمل طریقہ کار بھی وضع کردیا گیا ہے کہ کون سے اداروں کی نجکاری کی جائے گی اور کن اداروں کو بہتر کیا جائے گا۔

حکام نے اس بات پر بھی رضا مندی کا اظہار کیا ہے کہ وہ ٹیکس نظام میں ترجیحی سہولیات اور ٹیکس استثنیٰ کو واپس لیں گے اور وقت کے ساتھ ٹیکس بیس کو بڑھایا جائے گا اور جنرل سیلز ٹیکس کو براڈ ویلیو ایڈڈ ٹیکس (وی اے ٹی) میں بدل دیا جائے گا۔

ادویات اور بنیادی خوراک کے علاوہ جنرل سیلز ٹیکس میں دیا گیا استثنیٰ مستقبل قریب میں واپس لے لیا جائے گا۔  جی ایس ٹی کے حوالے سے فائلنگ کے طریقہ کار کو آسان بنانے اور عملدرآمد پر اضافے کے لیے بین الصوبائی ہم آہنگی اور تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔