پاکستان بار کونسل نے ویڈیو لیک تنازعہ میں چیف جسٹس سے از خود نوٹس کی درخواست کردی

  • منگل 09 / جولائی / 2019
  • 5850

وکلا کی سب سے بڑی تنظیم پاکستان بار کونسل  نے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی مبینہ ویڈیو لیک کے تنازع پر چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ سے از خود نوٹس لینے کی درخواست کی ہے۔

پی بی اے کے تمام اراکین کو ارسال کئے گئے خط میں ایڈوکیٹ راحیل کامران شیخ نے کونسل کو تجویز دی کہ چیف جسٹس سے از خود نوٹس لینے کی درخواست کی جائے جس کی سماعت سپریم کورٹ کا لارجر بینچ کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی بی سی کو اس قسم کی کارروائی کا آغاز ہونے پر سماعت میں شریک ہونے کی درخواست اور عدالت کی معاونت کرنا چاہیے۔

خط میں کہا گیا کہ اس قسم کے واقعات سے ملک کے عدالتی نظام کی سالمیت اور اعتبار پر سوال اٹھتے ہیں جس میں مبینہ طور پر ایسا لگتا ہے کہ عدلیہ کا ادارہ کمزور ہے جس پر کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔ خط کے مطابق پی بی سی سپریم کورٹ میں آئینی پٹیشن بھی دائر کرے گی جس میں احتساب عدالت کے جج کے خلاف مناسب قانونی کارروائی کے احکامات کی درخواست کی جائے گی۔

خیال رہے کہ جج ارشد ملک ہفتے کے روز سے تنازع میں گھرے ہوئے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کو سزا دینے کے لیے ان پر بلیک میلنگ کے ذریعے دباؤ ڈالا گیا تھا۔

ہفتہ کے روز ایک پریس کانفرنس میں انہوں نے ویڈیو بھی دکھائی تھی جس میں مبینہ طور پر جج ارشد ملک مسلم لیگ (ن) کے ایک  ہمدرد کے ساتھ ہونے والی گفتگو میں اعتراف کررہے تھے کہ انہیں العزیزیہ ریفرنس میں سزا دینے کے لیے بلیک میل کیا گیا۔

اس ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد جج ارشد ملک نے ایک پریس ریلیز جاری کی جس میں بلیک میلنگ کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا گیا کہ ویڈیو کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا۔ اس کے علاوہ جج نے اس اقدام کے پسِ پردہ عناصر کے خلاف قانونی کارروائی کا بھی مطالبہ کیا اور کہا کہ ویڈیو نہ صرف حقائق کے برعکس ہے بلکہ مختلف مواقع پر ہونے والی گفتگو کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا۔