اپوزیشن نے چیئرمین سینیٹ کے خلاف قرارداد جمع کروادی

  • منگل 09 / جولائی / 2019
  • 5410

اپوزیشن نے ایوان بالا میں چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی قرارداد اور سینیٹ اجلاس بلانے کی ریکوزیشن جمع کروادی ہے۔

چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی قرارداد کو سینیٹ سیکریٹریٹ میں جمع کروانے کے لیے اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے سینیٹرز کا ایک اجلاس سینیٹ میں قائد حزب اختلاف راجا ظفر الحق کی صدارت میں ہوا۔ اس میں تحریک عدم اعتماد کے لیے حکمت عملی بنائی گئی ۔

گزشتہ برس چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کے دوران راجا ظفر الحق کو صادق سنجرانی سے شکست ہوئی تھی۔ اپوزیشن سینیٹرز کے اجلاس میں پیپلزپارٹی کی شیری رحمٰن، مسلم لیگ (ن) کے پرویز رشید، مصدق ملک، آصف کرمانی سمیت سسی پلیجو، یوسف بادینی، ڈاکٹر اشوک کمار، مشاہد اللہ خان، ستارہ ایاز و دیگر شریک ہوئے۔

اس کے علاوہ پیپلزپارٹی سے ناراض سمجھے جانے والے سینیٹر خانزادہ خان بھی اس اجلاس میں شریک ہوئے تاہم اپوزیشن جماعتوں کے اجلاس میں جماعت اسلامی کے سینیٹر سراج الحق اور مشتاق احمد نے شرکت نہیں کی۔ ذرائع نے بتایا  ہے کہ چیئرمین سینیٹ کے خلاف عدم اعتماد کی قرار داد تیار کرنے کے لیے مختلف امور کا جائزہ لیا گیا جبکہ سینیٹر شیری رحمٰن نے رولز پر بریفنگ دی۔

بعد ازاں صادق سنجرانی کے خلاف عدم اعتماد کی قرارداد شیری رحمٰن اور لیگی سینیٹر جاوید عباسی نے تیار کی، جس پر اجلاس میں شریک تمام اپوزیشن سینیٹرز نے دستخط کردیے۔ اپوزیشن نے سینیٹ اجلاس بلانے کے لیے ریکوزیشن جمع کروانے کا بھی فیصلہ کیا، جسے اس قرارداد کے ساتھ جمع کروایا گیا۔

اس اجلاس کو بلانے کا فیصلہ نیشنل پارٹی (این پی) کے رہنما میر حاصل خان بزنجو کی راجا ظفر الحق سے ملاقات کے بعد کیا گیا۔ ملاقات کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے دونوں رہنماؤں نے کہا تھا کہ ’ہم نے تحریک عدم اعتماد کے لیے حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا‘۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے سینیٹر تحریک عدم اعتماد پر دستخط کریں گے اور پھر اسے سینیٹ سیکریٹریٹ میں جمع کروایا جائے گا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا تھا کہ چیئرمین سینیٹ کے لیے اپوزیشن کے امیدوار کا فیصلہ جمعرات کو رہبر کمیٹی کے اجلاس میں کیا جائے گا۔ تاہم اب تک میں نہ اس کا امیدوار ہوں اور نہ کسی نے میرا نام تجویز کیا۔ اگرچہ اپوزیشن کے امیدوار کا حتمی فیصلہ جمعرات کو کیا جائے گا لیکن مسلم لیگ (ن) کے ذرائع دعویٰ کرتے ہیں کہ جماعت کو اس نشست کے لیے اپوزیشن کے امیدوار کا نام دینے کا موقع دیا گیا تھا۔  ذرائع کہتے ہیں کہ اپوزیشن کا امیدوار بلوچستان سے ہوگا۔

واضح رہے کہ صادق سنجرانی بلوچستان سے تعلق رکھنے والے پہلے چیئرمین سینیٹ ہیں۔ یاد رہے کہ ایوان بالا کے چیئرمین کو ہٹانے کا فیصلہ 26 جون کو اپوزیشن کی کثیر الجماعتی کانفرنس میں کیا گیا تھا۔

چیئرمین سینیٹ کو ہٹانے کے لیے 53 ووٹوں کی اکثریت درکار ہے۔ اس وقت پی پی پی، مسلم لیگ (ن)، نیشنل پارٹی اور جمعیت علما اسلام (جے یو آئی ف) کے 46 ارکان ہیں جبکہ 29 آزاد امیدوار ہیں۔ اس کے علاوہ پختونخوا ملی عوامی پارٹی (پی کے میپ) کے 2 اراکین ہیں جبکہ عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی)، بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) اور پی ایم ایل فنکشنل کا ایک، ایک رکن ہے۔

حکمران جماعت پی ٹی آئی کے 14 اراکین، متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے 5 اور جماعت اسلامی (جے آئی) کے 2 سینیٹرز ہیں۔

موجودہ چیئرمین صادق سنجرانی نے گزشتہ برس 12 مارچ کو پی پی پی اور پاکستان تحریک انصاف کی حمایت سے 57 ووٹ حاصل کیے تھے۔ ان کے مدمقابل مسلم لیگ (ن) کے راجا ظفر الحق کو 46 ووٹ ملے تھے۔