مصر نے فرعون کا مجسمہ واپس لانے کے لئے انٹرپول سے مدد مانگ لی
- جمعرات 11 / جولائی / 2019
- 5750
مصری حکام نے گزشتہ ہفتے برطانیہ میں فروخت کیے جانے والے فرعونوں کے 18 ویں خاندان کے بادشاہ کے نصف مجسمے کو واپس لانے کے لیے عالمی ادارے انٹرپول سے مدد کی درخواست کی ہے۔
مصری حکام نے فرعونوں کی نسل کے نو عمر بادشاہ طوطن خامن کے سر کے مجسمے کی فروخت کو پہلے ہی غیر قانونی قرار دیا تھا اور دعویٰ کیا تھا یہ مجسمہ مصر سے چوری کرکے برطانیہ اسمگل کیا گیا۔ مصری حکام کی جانب سے طوطن خامن کے ٹوٹے ہوئے مجسمے کی فروخت پر اعتراض کے باوجود لندن کے معروف آکشن ہاؤس ’کرسٹیز‘ نے اسے گزشتہ ہفتے 59 لاکھ امریکی ڈالر میں فروخت کردیا تھا۔
یہ مجسمہ صرف طوطن خامن کے سر کا تھا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اسے تین ہزار سال قبل بنایا گیا تھا۔ پتھر سے بنائے گئے اس مجمسے سے متعلق مصری حکام کا دعویٰ ہے کہ اسے 1970 میں مصر سے چوری کرکے غیر قانونی طریقے سے لندن منتقل کیا گیا اور اس کی فروخت بھی غیر قانونی انداز میں کی گئی۔
نشریاتی ادارے سی بی ایس نے بتایا ہے کہ طوطن خامن کے مجسمے کی فروخت کے ایک ہفتے بعد مصری حکام نے عالمی ادارے انٹرپول سے مجسمے کی واپس اور اسے قانونی طور پر برطانیہ منتقل کرنے سے متعلق دستاویزات حاصل کرنے کے لیے مدد کی درخواست کی ہے۔
مصر کی نوادرات کی واپسی کی کمیٹی نے نہ صرف انٹرپول سے مدد کی درخواست کی، بلکہ کمیٹی نے برطانیہ کی ایک قانونی فرم کی خدمات بھی حاصل کرلی ہیں۔ مصر کی نوادرات واپسی کمیٹی کے مطابق آکشن ہاؤس نے انہیں ایسے دستاویزات فراہم نہیں کیں جن سے ثابت ہو کہ طوطن خامن کا مجسمہ قانونی طور پر برطانیہ منتقل کیا گیا۔
مصری حکام نے برطانوی حکومت سے بھی فرعون بادشاہ کے مجمسے کی واپسی یا اس کی قانونی منتقلی سے متعلق ثبوت حاصل کرنے میں مدد کرنے کے لیے کہا ہے۔ مصری حکام نے واضح کیا ہے کہ اگر برطانوی حکام طوطن خامن کے مجسمے سے متعلق کردار ادا نہیں کریں گے تو مستقبل میں دونوں ممالک کے ثقافتی تعلقات متاثر ہوں گے۔
طوطن خامن سے متعلق کہا جاتا ہے کہ 1300 قبل مسیح کے فرعونوں کے 18 ویں خاندان کے نو عمر ترین بادشاہ تھے۔