جج مسخرے کب بن جاتے ہیں؟
- تحریر سید مجاہد علی
- ہفتہ 13 / جولائی / 2019
- 5130
ویڈیو اسکینڈل پر غورکرنے کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس نے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کو ان کے عہدے سے ہٹا نے کی سفارش کی جس کے بعد وزارت قانون نے انہیں فوری طور سے لاہور ہائی کورٹ رپورٹ کرنے کی ہدایت کی ہے۔
تاہم وزیر قانون ڈاکٹر فروغ نسیم کو اسلام آباد ہائی کورٹ کی اس ہدایت پر دکھے اور بھاری دل کے ساتھ عمل کرنا پڑا ہے۔ اس دکھ کا اظہار کرنے کے لئے انہوں نے وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر کے ساتھ مل کر ایک پریس کانفرنس کی اور جج ارشد ملک کی پریس ریلیز اور بیان حلفی میں فراہم کردہ معلومات کی نشاندہی کرتے ہوئے یہ واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ شریف خاندان نے عدلیہ کو دباؤ میں لانے ، ایک جج کو بلیک میل کرنے اور رشوت دینے کی کوشش کرنے جیسے سنگین جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔ ڈاکٹر فروغ نسیم جو وزیر قانون بننےسے پہلے ملک کے نامور وکیل تھے، اس پریس کانفرنس میں جج ارشد ملک کی وکالت کا فریضہ ادا کرتے دکھائی دیے۔ لیکن ان کا مقدمہ جج کے بیان کی طرح ہی کمزور تھا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس عامر فاروق نے جج ارشد ملک کی ویڈیو منظر عام پر آنے اور ان کی طرف سے گزشتہ اتوار کو اس ویڈیو سے اخذ کئے جانے والے نتائج کو مسترد کرنے کے لئے جاری ہونے والی پریس ریلیز کے بعد نہ صرف جج ارشد ملک سے دو بار ملاقات کی بلکہ انہوں نے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ سے بھی اس معاملہ پر مشاورت کی۔ اس کے علاوہ جج ارشد ملک نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس کو ایک بیان حلفی بھی دیا جو اب اس معاملہ کا باقاعدہ حصہ بن چکا ہے۔ یہ قیاس کیاجاسکتا ہے کہ ویڈیو، پریس ریلیز اور بیان حلفی کا مطالعہ کرنے کے بعد ہی اسلام ہائی کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس اس نتیجہ پر پہنچے ہوں گے کہ اس معاملہ میں کہیں نہ کہیں کوئی گڑ بڑ ہے۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس بھی ان سے متفق ہوں گے۔ اسی لئے احتساب عدالت کے ایک جج کو اس کےفرائض سے سبکدوش کرنے کا فیصلہ سامنے آیا ہے۔ اگر جسٹس عامر فاروق کو جج کی بے گناہی کا پورا یقین ہوتا یا بیان حلفی یا دوسری دستاویزات کے ذریعے ارشد ملک خود کو بے قصور اور مسلم لیگ (ن) کے پروپیگنڈےاور سیاست کا نشانہ ثابت کرنے میں کامیاب ہوجاتے ، تو کوئی وجہ نہیں تھی کہ اعلیٰ عدلیہ ان کی حفاظت کے لئے ان کی پشت پر کھڑی نہ ہوتی۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس نے اس معاملہ پر احتیاط سے غور کرنے کے بعد ہی جج ارشد ملک کو اس کی موجودہ حیثیت سے برطرف کرنے کا حکم دیاہوگا۔ وزیر قانون ڈاکٹر فروغ نسیم کے پاس اعلیٰ عدالت کے اس حکم کو تسلیم کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا لیکن یہ اعلان کرتے ہوئے انہوں نے موجودہ حکومت میں احتساب کے نگران شہزاد اکبر کے ساتھ مل کر پریس کانفرنس برپا کی اور ارشد ملک کے بیان حلفی کو بنیاد بنا کر شریف خاندان کو متعدد جرائم کا مرتکب ثابت کرنے کی کوشش کی۔ حالانکہ ارشد ملک کا بیان حلفی ایک ایسے شخص کا بیان ہے جس کی عدالتی چھان بین اور جانچ ہونا باقی ہے۔ اور جس کی ابتدائی پرکھ کے بعد ہی اسلام ہائی کورٹ جج ارشد ملک کے خلاف کارروائی پر مجبور ہوئی ہے۔
اس حوالے سے سب سے اہم سوال تو یہ ہے کہ جج ارشد ملک کے بیان حلفی کو اسلام آباد ہائی کورٹ کی ہدایت سامنے آنے کے فوری بعد کس نے میڈیا کو فراہم کرنا ضروری سمجھا۔ کیا اس معاملہ کی ساری دستاویزات کسی باقاعدہ قانونی کارروائی کے تحت عام کی گئی ہیں یا بعض عناصر نے کسی اختیار اور جواز کے بغیر سیاسی فضا کو مکدر کرنے اور ایک مشکل اور پیچیدہ معاملہ میں نواز شریف پر دباؤبنائے رکھنے کے لئے اس بیان حلفی کے مکمل متن کو جاری کرنا ضروری سمجھا۔ وزیر قانون فروغ نسیم کو اس بات کا جواب دینا چاہئے کہ اگر وزارت قانون نے یہ فیصلہ کیا ہے تو ایک ایسی دستاویز جو کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے ریکارڈ کا حصہ ہے اور جس معاملہ پر ابھی حتمی عدالتی کارروائی بھی ہونی ہے اور فیصلہ آنا بھی باقی ہے ، کو اس وقت جاری کرنے کی ضرورت کیوں محسوس کی گئی۔ بیان حلفی کو جاری کرنے کے بارے میں وزارت قانون کے کردار کے بارے میں یہ شبہ اس لئے بھی پیدا ہوتا ہے کہ وزیر قانون کے علاوہ شہزاد اکبر نے پریس کانفرنس کے دوران بیان حلفی میں شریف خاندان پر عائد کئے گئے الزامات کو بنیاد بنا کر نواز شریف کے خلاف مقدمہ درست ثابت کرنے اور مریم نواز کے ہتھکنڈوں کو عدلیہ پر دباؤ ڈالنے کی کوشش قرار دینے کی بھرپور کوشش کی ہے۔
وزیر قانون کا دعویٰ تھا کہ کسی کو عدلیہ کو دباؤ میں لانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ آخر کیا وجہ ہے کہ ایک جج کی بے قاعدگی یا بے اعتدالی کی وجہ سے سامنے آنے والے ایک اسکینڈل کے بعد وزیر قانون کو باقاعدہ یہ اعلان کرنا پڑا کہ عدلیہ کی ہر قیمت پر حفاظت کی جائے گی؟ کیا اعلیٰ عدلیہ نے وزارت قانون سے یہ درخواست کی ہے کہ اسے مختلف مقدمات میں مطلوب لوگوں کی طرف سے دباؤ میں لانے کی کوشش کی جارہی ہے، اس لئے حکومت ان کی مدد کے لئے اقدام کرے؟ یا وزیر قانون از خود ہی یہ تصور کرچکے ہیں کہ ملک کی عدالتیں اس قدر کمزور ہیں کہ وہ ایک جج کی ’ غلطی‘ کا بوجھ برداشت کرنے کی بھی اہل نہیں ہیں اور نہ ہی اس کی تلافی کے لئے مناسب اقدام کرسکتی ہیں۔ حالانکہ اعلیٰ عدالت نے ارشد ملک کو احتساب جج کے عہدے سے علیحدہ کرنے کا حکم دے کر یہ واضح کیا ہے کہ وہ کسی مشکوک کردار کے شخص کو ایسی اہم پوزیشن پر کام کرنے کی اجازت نہیں دے سکتی اور اگر کوئی جج اپنے فرائض کے حوالے سے کوتاہی کا مرتکب ہوگا تو اس کے خلاف فیصلہ کرنے میں دیر نہیں کی جائے گی۔ اس لحاظ سے اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ خوش آئیند، بروقت اور ملک میں عدالتوں کے وقار اور اتھارٹی کی بحالی کے لئے ضروری تھا۔ تاہم وزیر قانون کا رد عمل درحقیقت اعلیٰ عدلیہ پر عدم اعتبار کا مظہر دکھائی دیتا ہے۔
جج ارشد ملک کے جس بیان حلفی کے نکات بیان کرکے وزیر قانون فروغ نسیم نے شریف خاندان کے خلاف میڈیا کے ذریعے قانونی مقدمہ لڑنے کی کوشش کی ہے، اسے کوئی عام شخص بھی تفصیل سے پڑھ لے تو جان سکتا ہے کہ یہ بیان دینے والا شخص کچھ چھپانے کی کوشش میں بے سر و پا باتیں کررہا ہے۔ بیان حلفی میں بار بار رشوت کی پیش کش اور دھمکیوں کا ذکر کیا گیا ہے لیکن ساتھ ہی اس بات کا اعتراف بھی کیا گیا ہے کہ وہ متعلقہ لوگوں سے ملتے رہے اور ان کی مدد بھی کرتے رہے۔ حتی کہ وہ ایک کردار کی خواہش پر نواز شریف کو ملنے کے لئے جاتی عمرہ پہنچ گئے جہاں جیل سے ضمانت پر آئے ہوئے نواز شریف نے خود ان کا استقبال کیا۔ اسی طرح عمرہ کے دوران وہ حسین نواز سے ملاقات پر بھی ’مجبور‘ ہوگئے جس کے دوران انہیں العزیزیہ کیس میں نواز شریف کو جیل بھیجنے کے بعد، صرف اپنے عہدہ سے استعفیٰ دینے کے لئے 50 کروڑ روپے رشوت دینے کی کوشش کی گئی۔ یہ شاید دنیا کا پہلا مقدمہ ہو گا جس میں سزایافتہ شخص کے لواحقین سزا سنانے والے جج کو رشوت دینے کی کوشش کرتے ہیں اور جیل جانے والا شخص گھر بلا کر جج صاحب کی توقیر کرتا ہے۔
ایسے مضحکہ خیز دعوؤں سے لبریز اس بیان حلفی پر خاموشی اختیار کرنے اور معاملہ کی حقیقت سامنے آنے کا انتظار کرنے کی بجائے وزیر قانون اور حکومت کے احتساب ترجمان شہزاد اکبر نے ایک مشکوک جج کے الزامات کی بنیاد پر ایک کمزور مقدمہ لڑنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔ یہ مقدمہ لڑنے کی وجہ احتساب کے تقاضوں کی بجائے سیاسی ضرورتیں ہیں۔ اسی لئے ملک کے نظام احتساب پر سوال اٹھائے جاتے ہیں ا ور اسی لئے جج ارشد ملک جیسے لوگ متضاد بیان دے کر خود کو مسخرا ثابت کرنے کا سبب بنتے ہیں۔ اس قسم کا ایک کردار سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار بھی تھے جو ملک میں ڈیم تعمیر کرنے، آبادی کنٹرول کرنے اور انصاف فراہم کرنے کے علاوہ ہر کام کرنے کی خواہش لئے اپنے عہدے سے سبکدوش ہوگئے۔ اور ان سے پہلے افتخار چوہدری نے خود کو عقل کل سمجھتے ہوئے سپریم کورٹ کو مذاق بنا دینے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی تھی۔ نتیجتاً یہ دونوں سابقہ جج خود ہی تاریخ کے ہاتھوں مذاق بن کر رہ گئے۔ جج ارشد ملک بھی ویسے ہی انجام کی طرف گامزن ہیں۔
موجودہ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اب ارشد ملک اسکینڈل کی مکمل تحقیقات کے لئے دائر کی گئی ایک درخواست سماعت کے لئے منظور کرتے ہوئے اگلے ہفتے کے دوران اس کی باقاعدہ سماعت کا اعلان کیا ہے۔ یہ ایک راست اقدام ہے۔ امید کی جانی چاہئے کہ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت ماضی میں عدالتوں کے دامن پر لگنے والے داغ دھونے کی کوشش کرے گی۔ اس کے ساتھ ہی احتساب کے نام پر سیاست کرنے یا ناپسندیدہ سیاست دانوں کو انتقام کا نشانہ بنانے کے لئے احتساب کے نظام کو استعمال کرنے کے معاملہ کی تہ تک پہنچنے کی کوشش کی جائے گی۔ اس حوالے سے احتساب بیورو کے سربراہ جسٹس (ر) جاوید اقبال کے کردار کی چھان بین کرنا بھی ضروری ہوگا۔ احتساب کے نام پر کھیلا جانے والا کھیل اس وقت ملک کی تقدیر سے کھلواڑ کا سبب بنا ہؤا ہے۔ سپریم کورٹ کو اس معاملہ کے سب پہلوؤں کا جائزہ لے کر درست اور راست احکام جاری کرنے چاہئیں۔
یہاں اس پہلو کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا کہ نواز شریف کے خلاف احتساب ریفرنس سپریم کورٹ کے حکم پر قائم کئے گئے تھے اور ان ریفرنسز کی سماعت کی نگرانی سپریم کورٹ کے ایک جج کررہے تھے۔ احتساب عدالت کے جج پر ملزمان ، ان کے لواحقین یا بعض نادیدہ عناصر کی طرف سے اگر دباؤ موجود رہا تھا جس کی وجہ سے انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوسکے تو اس کی براہ راست ذمہ داری عدالت عظمیٰ کے ان جج صاحب پر بھی عائد ہوگی جو انصاف کے تقاضے پورے کروانے کے لئے ہی نگرانی کا فرض ادا کررہے تھے۔