سیاسی کلچر کی تبدیلی کا مسئلہ

جب سیاست  اپنے سیاسی، سماجی، اخلاقی اصولوں  یعنی دیانت اور شفافیت کو پس پشت ڈال کر چلائی جاتی ہے تو اس کا عملی نتیجہ  سیاسی انتشار، لوٹ مار، بدعنوانی، فریب اور جھوٹ پر مبنی سیاست، نام نہاد جمہوریت او ربری حکمرانی کے نظام کی صورت میں دیکھنے کو ملتا ہے۔

 سیاست او رجمہوریت میں  اخلاقی اصولوں اور معیارات کا زوال سیاسی او رفکری بانجھ پن کے سوا کچھ نہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ہماری سیاست آج بھی اپنی  ساکھ کے زوال کا شکار ہے۔ سیاست او رجمہوریت محض الفاظ سے اپنی ساکھ قائم نہیں کرسکتیں اس کے لیے ہماری سیاست کو عملی طور پر ثابت کرنا ہوتا ہے کہ سیاست او رجمہوریت قومی ضرورت ہے او راس کے بغیر کوئی بھی معاشرہ منصفانہ اور شفاف نظام کو قائم نہیں کرسکتا۔

 پاکستان کی سیاست او رجمہوریت  جھوٹ پر مبنی  ہے۔  بیشتر اہل سیاست میں موجود تضادات ظاہر کرتے ہیں کہ ان کے سیاسی اصول کیا ہیں او رکیا اخلاقی معیارات ہیں جن کو بنیاد بنا کر وہ قوم کی سیاسی راہنمائی کرنا چاہتے ہیں۔ان کے بیانات کی سطح پر سیاست کو دیکھیں تو ان کے اپنے بیانات کا ٹکراؤ او رمختلف اوقات میں مختلف سچ ظاہر کرتے ہیں کہ ان کا سچ وقتی ہوتا ہے او راس میں محض ان کا اپنا مفاد جڑا ہوتا ہے۔ وہ  سیاست  کو محض ایک  ہتھیار کے طور پر استعمال  کرتے ہیں۔  اس طرح  اہل سیاست  اپنے ذاتی، خاندانی یا جماعتی مفاد کو اہمیت دیتے ہیں۔

ہماری سیاسی او رجمہوری حکومتیں اپنی حکمرانی کے نظام کی کامیابی کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں او ران کے بقول ان کی حکمرانی نے عام آدمی کی زندگی میں ترقی او رخوشحالی کو ممکن بنایا ہے۔ لیکن  اس کے برعکس ہم صرف سیاسی، سماجی او رمعاشی شعبو ں میں اپنے ریاستی یا سرکاری اعداد و شمار کو دیکھیں تو اس میں ہمیں بہت زیادہ تفریق نظر آتی ہے۔ بنیادی حقوق سے جڑے شعبے جن میں تعلیم، صحت، روزگار، انصاف، علاج، خوارک جیسے مسائل میں لوگوں کی محرومی ظاہر کرتی ہے کہ ہم ترقی کی راہ  میں کہاں کھڑے ہیں۔پیپلز پارٹی او رمسلم لیگ ن کی قیادت تسلسل سے سندھ او رپنجاب میں اپنی حکمرانی کے جدید مناظر پیش کرتی ہیں۔ آصف زرداری، بلاول بھٹو، نواز شریف اور شہباز شریف کے بقول انہوں نے ریکارڈ ترقی کی ہے۔اگر ان کی بات درست ہے تو پھر یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ حکمران طبقات کا یہ خاندان اپنے ہی صوبہ میں موجود جدید ہسپتالوں، جدید تعلیمی نظام سے خود او راپنے خاندان کے افراد کو مستفید کیوں نہیں کرواتا۔ کیا وجہ ہے کہ حکمران طبقات ان جدید سہولتوں سے انکار کرکے باہر کی تعلیم اور علاج  کو ترجیح دیتے ہیں۔ یہ وہ ٹکراؤہے جو حکمرانی کے نظام کی حقیقت او رشفافیت کو بے نقاب کرتا ہے۔

سیاست او رجمہوریت میں ہم نے عوام کو محض ایک سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا ہے۔عوامی مفادات پر مبنی سیاست کبھی بھی سیاست کی بڑی ترجیح نہیں بن سکی۔ یہ ہی وجہ ہے کہ سیاست میں سب سے زیادہ استحصال عام او رکمزور یا محروم طبقات کا ہوا ہے۔ اس کی ایک تلخ مثال ہمیں معاشرے میں بڑھتی ہوئی سیاسی، معاشی خلیج، غربت میں اضافہ اور محرومی کی سیاست کے طو رپر دیکھنے کو ملتا ہے۔اصولی طور پر سیاست او رجمہوریت کا بڑا مفاد عوام کے مفادات پر مبنی سیاست ہوتی ہے۔لیکن جو کچھ یہاں سیاست او رجمہوریت کے نام پر ہورہا ہے وہ کبھی بھی عوامی مفادات کی سیاست کو تقویت نہیں دے سکے گی۔سب سے بڑا تضاد اس حکمرانی کے نظام کا طبقاتی طرزپر مبنی حکمرانی ہے۔ یہ حکمرانی عام طور پر ایک مخصوص گروہ افراد اور طاقت ور طبقات کے گرد گھومتی ہے۔

سیاست اور جمہوریت کی  کامیابی کی کنجی جہاں مضبوط سیاسی نظام سے جڑی ہوتی ہے وہیں اس کی ایک او رکنجی سیاسی جماعتوں کی مضبوطی اوران کا داخلی جمہوری نظام ہوتاہے۔سیاسی جماعتوں کا او ران کے داخلی نظام کا تجزیہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ سیاسی جماعتیں کم بلکہ  ایک مخصوص طبقہ، برادری، خاندان او رمفاداتی گروہوں کے گرد گھومتی ہے۔موروثی سیاست کے مسائل نے سیاسی جماعتوں کی اہمیت کو بھی کم کیا ہے اور خاندانوں کی ملکیت میں موجود سیاسی جماعتیں اپنے داخلی نظام میں کہیں بھی جوابدہ نہیں۔یہ درست تجزیہ ہے کہ سیاسی سطح پر سیاسی جماعتوں کو کام کرنے کا سازگار ماحول نہیں مل سکا او ربے جا غیر سیاسی قوتوں کی مداخلتوں نے سیاسی جماعتوں کے داخلی نظام کو بھی کمزور کیا ہے۔لیکن سیاسی جماعتوں کے پاس کبھی بھی آئیڈیل صورتحال نہیں ہوتی بلکہ وہ مشکل حالات میں ہی کام کرتی ہیں او ران ہی برے حالات میں اپنے لیے سیاسی، جمہوری او رمحفوظ راستہ تلاش کرتی ہیں۔

سیاسی جماعتوں کی سطح پر واقعی ایک بڑے سیاسی او رسماجی کلچر کے تبدیل کا ایجنڈا سرفہرست ہونا چاہیے۔ محاز آرائی، الزام تراشی، کردار کشی، غیر سنجیدہ موضوعات پر سیاست، شخصی ٹکراو، شخصی تعصب، دشمنی، سیاسی انتہا پسندی، پر تشدد سیاست،لعن طعن او رایک دوسرے کے وجود کو تسلیم نہ کرنے کی روش کے مقابلے میں ایک بڑا سیاسی، سماجی او راصلاحات چارٹر کی ضرورت ہے۔ یہ نظر آنا چاہیے کہ سیاسی جماعتوں کے پاس ایک بڑا واضح حالات کی تبدیلی کا روڈ میپ یا منشور ہے جو لوگوں کی زندگیوں میں بڑی تبدیلی پیدا کرسکتا ہے۔ تبدیلی کا عمل کبھی بھی سیاسی تنہائی میں نہیں آتا بلکہ اس کے لیے سیاست میں موجود مختلف فریقین کو ایک دوسرے کے ساتھ دشمنی کی بجائے تعاون کے امکانات کو آگے بڑھانا ہوتا ہے۔یہ ہی وہ سیاسی اور سماجی کلچر ہے جو ملک میں سیاسی جماعتوں کی اہمیت او رقبولیت کو یقینی بناتا ہے۔لیکن یہ کام اسی صورت میں ہوگا جب واقعی یہاں سیاسی جماعتوں کی جمہوری بنیادوں پرتشکیل نو کی جائے او ران کو خاندانی سیاست سے آزاد کرکے  جمہوری اصولوں کے تحت چلایا جائے۔ یہ کام مشکل ضرور ہے، مگر ناممکن نہیں۔شرط یہ ہے کہ سیاسی جماعتوں میں موجود اچھے لوگ خود کو منظم کریں اور داخلی سطح آواز اٹھائیں کہ معاملات میں جمہوری حل تلاش کیا جائے۔

سیاسی جماعتوں کی مضبوطی میں ایک کردار اہل دانش کا بھی ہوتا ہے۔ کیونکہ اہل دانش اور سول سوسائٹی کا دباؤ سیاسی جماعتوں او ران کی قیادتوں پر اثرانداز ہوتا ہے کہ وہ عملی سیاست میں عوامی مفاد پر مبنی سیاست کریں۔ اور اپنی سیاست کو جمہوری اور شفاف بنیاد پر چلائیں۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ جو گرواٹ اہل سیاست میں موجود ہے وہ دیگر طبقات کے ساتھ ساتھ ہمیں اہل دانش میں بھی نظر آتی ہے۔ ان کی سوچ، فکر، فہم وفراست، تدبر سیاسی نظام کی مضبوطی اور شفافیت سے زیادہ بڑے طاقت ور طبقات کے مفادات یا شخصی مسائل کے گرد گھومتی ہے۔ یہ طبقہ بھی طاقت ور طبقات کے ساتھ مل کر خو د اپنے ذاتی مفادات کو بھی تحفظ دیتا ہے او رایسی صور ت میں قوم کی فکری راہنمائی کا عمل بہت پیچھے رہ جاتا ہے۔

سیاست دانوں کو سمجھنا چاہیے کہ اب یہ دور ڈیجیٹل نظام کا ہے او ریہاں ان کی غلطیوں اور تضادات کو بہت نمایاں طو رپر آئینہ کی صورت میں پیش کیا جاتا ہے۔ مختلف ٹاک شوز اور سوشل میڈیا پر ان کے ماضی کے بیانات، خیالات اور سوچ و فکر کو پیش کرکے ان کے آج کے خیالات کو چیلنج کیا جاتا ہے۔ لوگ حیران ہوتے ہیں کہ کون سا سچ ان کا سچ ہے پہلے والا یا اب والا او رپھر ان کو احساس دلایا جاتا ہے کہ سیاست میں جیسے ہی حالات بدلتے ہیں ویسے ہی سیاسی موقف بھی بدلے جاسکتے ہیں۔یہ بات اب حقیقت ہے کہ سیاسی نظام جس انداز سے چلایا جارہا ہے یہ ایسے نہیں چل سکے گا۔ اس کے لیے سیاسی نظام او رجماعتوں میں  اصلاحات کی ضرورت ہے۔ کیونکہ اب وقت آگیا ہے کہ ہم  سیاست کے مجموعی کلچر کو بدلیں او رایک ایسے کلچر کی طرف پیش رفت کریں جو عوام سے جڑا ہو او ران کے مفادات کی حقیقی ترجمانی کرے۔