یوم شہدائے کشمیر: تاریخی حقائق
- تحریر اطہر مسعود وانی
- ہفتہ 13 / جولائی / 2019
- 27340
متنازعہ ریاست جموں و کشمیر میں عوامی بالا دستی کی جدو جہد میں 13جولائی1931کے دن کو ایک اہم سنگ میل کی حیثیت حاصل ہے۔اس دن سرینگر سینٹرل جیل کے سامنے ڈوگرہ فوج نے نہتے،پرامن مظاہرے پر فائرنگ کرتے ہوئے22کشمیریوں کو قتل کیا۔اس دن کو کشمیری،متفقہ، غیر متنازعہ طور پر آزادی کے عزم کے طور پر مناتے ہیں ۔
پنجاب میں انگریزوں کی کامیابی کے بعد سکھ سلطنت انگریزوں کے قبضے میں آگئی۔انگریزوں نے سکھ سلطنت میں شامل جموں و کشمیر کے علاقے معاہدہ امرتسر 16 مارچ 1846 کے تحت، جموں کے رہنے والے گلاب سنگھ کو فروخت کر دیئے۔معاہدہ امر تسر کے فوراً بعد گلاب سنگھ نے ڈوگرہ افواج کے ساتھ کشمیرپر حملہ کیا۔ سکھوں کے آخری گورنر شیخ امام الدین نے زبردست مزاحمت کی۔ چنانچہ ڈوگرہ افواج کا کمانڈر وزیر لکھپت مارا گیا۔ اس پر ڈوگروں نے انگریزوں سے امداد طلب کی اور آخر 9 نومبر 1846 کو ڈوگروں نے گلاب سنگھ کی قیادت میں ہنری لارنس کی سرکر دگی میں انگریزوں کی مدد سے کشمیر پر قبضہ کیا اور رسوائے عالم عہد نامہ امرتسر کیا گیا۔
ڈوگرہ راج میں کشمیر ی عوام بالخصوص مسلمانوں کی حالت ناگفتہ بہ تھی ٗ چنانچہ ایک مشہور برطانوی عالم آلڈوس ہکسلے نے اس کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’کشمیر کے مسلمانوں کے ساتھ حیوانوں سے بھی بدتر سلوک کیا جارہا ہے‘۔ ایک اور انگریز مصنف سرآرتھر ینو لکھتے ہیں،
’کشمیری مسلمان کو باربرداری کے لئے مویشیوں کی طرح ڈنڈے سے ہانک لیا جاتا تھا۔ وہ اپنے روتے چلاتے عزیزوں اور بلکتے معصوم بچوں کو چھوڑ کر سرجھکائے حکومت کے گماشتوں کے ساتھ ہو لیتا تھا۔ اس لئے نہیں کہ وہ قیدی تھا محض اس لئے کہ وہ مسلمان ہے اور ہندو راج کی پرجا کا ایک فرد ہے۔ ٗ ڈوگرہ حکمران ریاست کی آمدنی کا 1/4 حصہ تقریباً 51 لاکھ روپیہ اپنی ذات پر خرچ کرتے تھے۔ علامہ اقبالؒ نے مسلمانان کشمیر کی اس حالت زار کا نقشہ یوں کھینچا:
آج وہ کشمیر ہے محکوم و مجبور و فقیر
کل جسے اہل نظر کہتے تھے ایوان صغیر!
سینہ افلاک سے اٹھتی ہے آہ سوزناک
مرد حق ہوتا ہے جب مرعوب سلطان دامیر
کہہ رہا ہے داستاں بیدردی ایام کی!
کوہ کے دامن میں وہ غم خمانہ دہقان پیر!
آہ یہ قوم نجیب و چرب دست و تردماغ
ہے کہا ں روز مکافات اے خدائے دیرگیر
ڈوگرہ راج قائم ہوتے ہی کشمیری عوام نے دبے الفاظ میں احتجاج کرنا شروع کیا اور اس کی صدائے بازگشت دہلی کے وائسرائے ہاؤس میں بھی سنی گئی۔ چنانچہ 1853 میں یعنی ڈوگرہ راج کے قیام کے صرف چھ سال بعد ہی انگریزی حکومت کی طرف سے ایک اعلیٰ سرکاری افسر مسٹر یتلون کو اس مقصد کے لئے کشمیر بھیجا گیا کہ وہ ریاست کے نظم و نسق کا جائزہ لے کر عوام کی شکایات کو بھی سنیں۔ مسٹر یتلون کشمیر آئے ڈوگرہ نظم و نسق کا جائزہ لے کر انہوں نے میدان مائسمہ (سرینگر) میں عوام کا ایک عام جلسہ منعقد کرایا اور لوگوں سے براہ راست سوال کیا کہ ’اے باشندگان کشمیر کیا تم گلاب سنگھ کی حکومت سے خوش ہو یا نہیں؟‘۔لوگ خاموش رہے البتہ حکومت کے ایک پٹھو پنڈت راجہ در کے چند زرخرید آدمیوں نے شور مچایا ک ”ہم سب راضی ہیں‘۔مسٹر یتلون یہ حالت دیکھ کر سخت رنجیدہ خاطر ہوئے اور اسی دن واپس چلے آئے۔
1853 میں ہی چیلاس اور دردستان کے لوگوں نے ڈوگروں کے خلاف بغاوت کی۔ گلاب سنگھ نے اپنے دو بہترین جرنیل زور آور سنگھ اور دیوان ہری چند کو ایک بھاری فوج کے ساتھ ان کی سرکوبی کے لئے روانہ کیا۔ بڑی خونریزی کے بعد اس بغاوت کو کچلا گیا۔ 1858 میں گوہر امان والئی گلگت نے بغاوت کی اور گیارہ سوڈوگرہ سپاہیوں کو قتل کرایا اوردو سوڈوگر ے مسلمان ہوگئے۔ 1962 میں گوہر اما ن والئی گلگت نے وفات پا ئی تو ڈوگروں نے اس علاقے کو باقاعدہ طور پر فتح کر ے اپنی سلطنت میں شامل کر دیا۔ 1865 میں میاں ہٹو نے مہاراجہ رنبیر سنگھ کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا مگر قبل از وقت راز فاش ہوا اور ڈوگرہ حکومت نے اس کے ساتھیوں کمانڈر گلابو اور شادی خاں کو پھانسی دی۔ میاں ہٹو قید کر دیئے گئے۔ اس کے حامیوں کی ایک بڑی تعداد کو کان چک (اسکردو) میں قید کر دیا گیا اور اس طرح یہ بغاوت بھی کچلی گئی۔ 1866 میں ملک امان اللہ والئی گلگت نے بغاوت کی۔ مگر ڈوگرہ فوج نے اس بغاوت کو بھی ناکام بنا دیا۔ 1866 میں وادی کشمیر میں شالبافوں نے ٹیکس کے خلاف زبردست مظاہرہ کیا۔ حکومت نے ان کے سرگرم افراد کو قید کر دیا جب عوام یہ منظر دیکھنے کے لئے جمع ہوئے تو ڈوگرہ فوج نے ان پر حملہ کیا اس کشکمش میں 28 آدمی ایک نہر میں گر کر مر گئے۔
1878 میں مہاراجہ رنبیر سنگھ اچھابل آیا تو علاقے کے کسانوں کی ایک بھاری تعداد نے جمع ہو کر حاکم کشمیر وزیر پنوں کے خلاف فریاد کی۔ مہاراجہ کے واپس جاتے ہی ان کسانوں کے سرغنوں کو گرفتار کیا گیا اور ان کے گھروں کو لوٹا گیا۔ 1879 میں علاقہ زینہ گیر کے ڈوگرہ تحصیلدار نے عوام کی شکایات پیش کرنے کے ’جرم‘ میں لسی میر نمبردار، بوٹنگو کے نمبردار اور ایک زمیندار صابر بٹ کو گرفتار کر کے ان کی مستورات کی سخت بے حرمتی کرائی۔ اسی سال گلگت والوں نے پھر بغاوت کی اور کچھ ڈوگرہ سپاہیوں کو قتل کیا۔ حکومت نے اس بغاوت کو بھی فوج کی مدد سے کچل دیا۔
1882 میں عوام کے مسلسل احتجاج پر ریاست کے نظم و نسق کو چلانے کے لئے ایک کونسل مقرر کی گئی جوڈوگرہ راج کی پہلی کونسل تھی ۔اس کونسل میں کشمیر کی طرف سے پنڈت سورج مل، پنڈت پیرا، مرزا اکبر بیگ، مرز ا محی الدین، پنڈت زنہ کاک اور خواجہ ثناء اللہ مہشالئے گئے۔ حاکم کشمیر دیوان بدری ناتھ کو اس کونسل کا صدر مقرر کر دیا گیا۔کونسل مہاراجہ کو روزمرہ کا روبار حکومت میں مشورہ دیا کرتی تھی۔ یہ عوام کو حکومت کے نظم و نسق میں شامل کرنے کی اولین کوشش تھی۔ ظاہر ہے کہ یہ ان ابتدائی عوامی بغاوتوں کا ثمرہ تھا جو کشمیریوں نے اس دور میں ڈوگرہ راج کے خلاف کی تھیں۔ مہاراجہ رنبیر سنگھ کے زمانہ میں چند غیر معروف کشمیریوں نے وائسرائے ہند کو ایک یادداشت پیش کی جس میں ڈوگرہ حکام اور خود حکمران پر بعض سنگین قسم کے الزامات عائد کئے گئے تھے۔جن میں یہ لرزہ خیز الزام بھی تھا کہ قحط کے ایام میں ڈوگرہ حکمران کے حکم سے ہزاروں فاقہ کش کشمیری مسلمان جھیل ولر میں غرق کئے گئے۔
1919 و 1920 میں جب برصغیر پاک و ہند میں شہرہ آفاق تحریک خلافت مولانامحمد علی جوہر کی قیادت میں زوروں پر تھی تو چند کشمیری نوجوانوں نے بھی اس تحریک کا اثر قبول کیا۔ جو اس وقت برصغیر کی مختلف درس گاہوں میں زیر تعلیم تھے۔ چنانچہ1924 میں جب وائسرائے ہند لارڈریڈنگ کشمیر آیا تو اس کو کشمیر کے بعض سرکردہ مسلمانوں کی طرف سے ایک یادداشت پیش کی گئی جس میں مسلمانوں کی بنیادی شکایات اور مطالبات کا تفصیلی ذکر تھا۔ جن میں ایک قانون ساز اسمبلی کا مطالبہ سرفہرست تھا۔ ڈوگرہ حکومت نے یادداشت پر دستخط کرنے والوں میں سے بعض مسلمانوں کو جلا وطن کر کے ان کی جائیدادیں بحق سرکار ضبط کیں۔اس یاداشت پر کشمیر کے دونوں میر واعظوں (میر واعظ جامع مسجد اور میر واعظ ہمدانی) کے دستخط بھی تھے، انہیں صرف تنبیہ کر کے چھوڑ دیا گیا۔ اسی سال ریشم خانہ سری نگر میں کشمیری مزدوروں نے اپنی مزدوری میں اضافہ کا مطالبہ کیا۔ ڈوگرہ حکام نے تاؤ میں آکر ان بے گناہ مزدوروں پر گولی چلا دی اور درجنوں مسلمان شہید ہوگئے۔ اس طرح کشمیر میں اس نیم سیاسی آواز کو جابرانہ طور پر دبادیا گیا۔
1929 میں جموں ڈوگرہ سبھا کے سرکردہ مسلمان ممبروں جنرل سمندر خان اور شیخ عبدالعزیز کی کوششوں سے مہاراجہ ہری سنگھ نے مسلمانوں کی ایک خاصی تعداد کو سرکار ی ملازمت میں شامل کر لیا۔15 مارچ 1929 کو مہاراجہ ہری سنگھ کے وزیر خارجہ اور سیاسی مشیر سرالبٹی بنٹر جی نے ملازمت سے مستعفی ہو کر لاہور میں ’ایسوسی ایٹڈ پریس آف انڈیا‘ کو ایک بیان دیتے ہوئے کہ ’ریاست جموں وکشمیر بہت سے خسارہ پر چل رہی ہے اس کی غالب اکثریت رکھنے والی مسلم آبادی مطلقاًناخواندہ ہے، وہ دیہاتوں میں اقتصادی بدحالی میں گزراوقات کر رہی ہے۔ عموماً وہ چوپایوں کی طرح ایک لاٹھی سے ہانکی جا رہی ہے۔ حکومت اور عوام کے مابین کوئی بھی رابطہ قائم نہیں ہے۔ ان کو اپنی شکایات پیش کرنے کا موقعہ نہیں دیا جاتا ہے۔ نظم و نسق اوپر سے نیچے تک فرسودہ قسم کا ہے۔ پریس اورپلیٹ فارم کی آزادی کا نام تک نہیں۔ موجودہ وقت میں حکومت کو عوام کے مطالبات اور شکایات سے کوئی دلچسپی نہیں ہے‘۔ڈوگرہ حکام نے بعض ٹوڈی قسم کے مسلمانوں سے سربنڑ جی کے بیان کی تردید کرائی مگر جموں ینگ مینز مسلم ایسوسی ایشن نے جامع مسجد جموں میں ایک جلسہ کر کے سربنڑ جی کے بیان کی تائید کی اور اس تائید کو ایک پوسٹر کی شکل میں شائع کرا دیا۔
29 اپریل 1931 کو جموں میں ’مداخلت فی الدین‘ کا وہ واقعہ پیش آیا جو تحریک آزادی کشمیر کا آغاز ثابت ہوا۔ ہوا یوں کہ 29 اپریل کو جبکہ جموں کے مسلمان عیدگاہ میں نماز عید پڑھ رہے تھے اور امام صاحب خطبہ عید دے رہے تھے اور موسیٰ علیہ اسلام اور فرعون کا واقعہ بیان کر رہے تھے تو اچانک ایک غیرمسلم سب انسپکٹر پولیس پکار اٹھا کہ ’امام صاحب خطبہ بند کیجئے آپ قانون کی حدود کو پھلانگ رہے ہیں۔ اور جرم بغاوت کے مرتکب ہو رہے ہیں‘۔مسلمانوں میں اس واقعہ سے زبردست اشتعال پیدا ہوا۔ اور نماز کے فورا ً بعد جامع مسجد جموں میں ایک پرجوش احتجاجی جلسہ عام ہوا جس میں ینگ مینز مسلم ایسوسی ایشن کے نوجوانوں نے پرجوش اور جذبات سے بھرپور تقریریں کیں اور ’مداخلت فی الدین‘ پر شدید احتجاج کیا۔ بعض اعتدال پسند مسلمانوں نے سب انسپکٹر پولیس کے خلاف توہین دین کا مقدمہ دائر کیا۔ عدالت نے فیصلہ دیا کہ ’خطبہ نماز کا جزو قرار نہیں دیا جا سکتا ہے‘۔فیصلہ کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل کی گئی تو فیصلہ مسلمانوں کے حق میں ہوا کہ ’خطبہ مسلمہ طور پر نماز کا جزو ہوتا ہے‘۔
چند دنوں بعد جموں جیل کی پولیس لائینز میں ایک ہندو ہیڈکانسٹیبل کے ہاتھوں توہین قرآن کا حادثہ پیش آیا۔ ان ہی دنوں جموں کے ایک گاؤں میں پولیس نے مسلمانوں کو عیدگاہ میں نماز پڑھنے سے روک دیا۔ ان تمام واقعات نے ریاست کے مسلمانوں میں سخت اشتعال پیدا کیا اور ریاست کے ایک سرے سے لے کر دوسرے سرے تک ایک آگ سی لگ گئی۔ جموں ینگ مینز مسلم لائز ایسوسی ایشن کے نوجوانوں نے ان واقعات کے خلاف قدآدم پوسٹر شائع کئے اور تمام ریاست میں تقسیم کرائے۔ سری نگر ریڈنگ روم پارٹی نے اپنے حلقہ اثر میں ان پوسٹروں کو تقسیم کر لیا۔ چنانچہ ان پوسٹروں کو تقسیم کرتے ہوئے فتح کدل کے نزدیک ایک رضا کار محمد اسماعیل کو پولیس نے زیر حراست لیا مگر موقعہ پر موجود لوگوں کے زبردست احتجاج پر اسے فوراً رہا کر دیا گیا۔ سرینگر کی جامع مسجدمیں اسلامیان کشمیر کا ایک بھاری جلسہ عام ہوا۔ جس میں مقررین نے جموں کے واقعات پر زبردست احتجاج کیا۔ جلسے کے بعد ایک احتجاجی جلوس ترتیب دیا گیا۔ تمام ریاست کے مسلمانوں میں غم و غصہ کی ایک لہر دوڑ گئی۔
مہاراجہ ہری سنگھ کا مشیر خاص مسٹر ویکنفیلڈ اس سلسلے میں جموں آیا۔اس نے مسلمانوں کو ایک وفد کی صورت میں مہاراجہ ہری سنگھ سے ملنے کا مشورہ دیا۔ چنانچہ مسلمانان جموں نے چوہدری غلام عباس، مستری یعقوب علی، سردار گوہرالرحمن اور شیخ عبدالحمید کو ایک جلسہ عام میں اپنا نمائندہ چن لیا۔ سرینگر والوں کو بھی اپنے سات نمائندے چننے کا مشورہ دیا گیا۔ چنانچہ 21 جون کو خانقاہ معلی میں اسلامیان کشمیر کا ایک یادگار تاریخی جلسہ عام ہوا جس میں ہر طبقہ اور فرقہ کے مسلمانوں نے بھاری تعداد میں شرکت کی۔ اس اجلاس میں خواجہ سعیدالدین شال ٗ میر واعظ محمد یوسف شاہ ٗ میر واعظ احمد اللہ ہمدانی ٗ آغاسید حسین شاہ جلالی ٗ خواجہ غلام احمد عثمانی ٗ شیخ محمد عبداللہ اور منشی شہاب الدین کو نمائندگان منتخب کیا گیا۔ جلسے کے اختتام پر ایک غیر ریاستی پٹھان عبدالقدیر (جو ایک انگریز کے ساتھ بطورخانساماں یوپی سے آیا تھا) سٹیج پر آکر مہاراجہ ہری سنگھ اور ڈوگرہ راج کے خلاف ایک پرجوش اور باغیانہ تقریر کی۔ جلسہ عام اس تقریر کے بعد حیرانگی کے عالم میں منتشر ہوگیا۔ 25 جون کو عبدالقدیر دفعہ 34 الف (بغاوت) کے تحت گرفتار کیا گیا اور اس پر مقدمہ قائم کیا گیا۔ 9 جولائی1931 کو مہاراجہ ہری سنگھ گول میز کانفرنس لندن سے واپس آیا تو اس نے رعایا کے نام ایک پیغام جاری کیا جس میں اور باتوں کے علاوہ یہ بتایا کہ ’میر ا مذہب انصاف ہے‘۔
13جولائی1931 کے دن سنٹرل جیل سرینگر میں عبدالقدیر کے مقدمہ کی پیشی تھی۔ عدالت کا اجلاس شروع ہونے سے قبل ہی کشمیری مسلمان جیل کے باہر جمع ہونے لگے۔ جلد ہی ان کی تعداد سات ہزار تک پہنچ گئی۔ لوگ مجاہدعبدالقدیر کو دیکھنا چاہتے تھے۔ کیونکہ شہر میں یہ افواہ گرم تھی کہ عبدالقدیر کو قتل کر دیا گیا ہے۔ عوام کی خواہش پر زور مطالبے میں بدل گئی۔ اور ان کا اصرار بڑھتا گیا۔ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے عوام کے مطالبے کی کوئی پرواہ نہ کی۔ اس پر لوگوں نے مقدمہ کی کارروائی دیکھنے کے لئے جیل کے احاطے میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ پولیس نے مداخلت کی اور چند آدمیوں کو گرفتار کرنے کی کوشش کی تو ہجوم بے قابو ہوگیا۔ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے گولی چلانے کا حکم دیدیا۔ ڈوگرہ فوج نے اشارہ پاتے ہی گولی چلا دی جس سے سرکاری اعلان کے مطابق 21 مسلمان شہید اور بے شمار زخمی ہوگئے۔ اس حادثے کے بارے میں جو سرکاری اعلان جاری ہوا اس میں بتایا گیا تھاکہ ’جب سماعت کنندہ مجسٹریٹ جیل کی ڈیوڑھی کے اندر داخل ہوا تو ہجوم بھی غیر آئینی طور پر جیل کے احاطے میں داخل ہوگیا،نقص امن کا احتمال تھا ۔ اس لئے حکومت کو بہ امر مجبوری یہ اقدام کرنا پڑا‘۔
13جولائی 1931 کا دن تحریک آزادی کشمیر کے لئے سنگ میل ثابت ہوا اور کشمیر ی عوام آج تک اس دن کو قومی تہوار کے طور پر ’یوم شہدائے کشمیر‘ کے نام سے مناتے ہیں۔ چوہدری غلام عباس خان اپنی خودنوشت سوانح حیات ’کشمکش‘ میں اس دن کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں،
’13 جولائی کا یوم سعید اور تاریخ کشمیر میں سب سے زیادہ اہم اور مقدس دن آپہنچا۔ اگر یہ دن کیلنڈر میں موجود نہ ہوتا تو ریاست کشمیر کی سیاسی تاریخ بالکل مختلف ہوتی‘۔پنڈت پریم ناتھ بزاز اپنی کتاب ’انسائیڈکشمیر‘ میں لکھتے ہیں کہ ’13 جولائی کا دن تاریخی اور سیاسی طورپر تاریخ کشمیر کا اہم ترین دن ہے‘۔
عوام سینٹرل جیل سے شہداء اور زخمیوں کو جلوس کی صورت میں جامع مسجد تک لائے۔ راستے میں مہاراج گنج بازار کے قریب ہندوؤں کے ساتھ جلوس کا تصادم ہوا۔ مسلمانوں نے ان کی دکانوں پر حملہ کیا. اس کے ساتھ ہی شہر کے مختلف حصوں بالخصوص وچارناگ اور نوشہرہ میں ہندوؤں کے مکانوں کو لوٹا گیا۔ تین ہندو قتل کئے گئے اور 163 زخمی ہوئے۔ سینٹرل جیل کے واقعہ کے فوراً بعد فوج نے شہر پر قبضہ کیا۔ اسی دن نواب بازار میں مسلمانوں پر پھر گولی چلی اور ایک مسلمان شہیدہوا 300مسلمان ہندوؤں کو لوٹنے کے الزام میں گرفتار ہوئے۔ جموں کے نمائندگان میں سے چوہدری غلام عباس، سردار گوہر الرحمان اور مستری یعقوب علی کو گرفتار کر کے بادامی باغ چھاؤنی میں پہنچایا گیا۔ رات کو شیخ محمد عبداللہ کو بھی گرفتار کیا گیا۔ دوسرے دن مولوی عبدالرحیم اور غلام نبی گلکار بھی گرفتار ہوئے۔15جولائی 1931 کو ان سب لیڈروں کو قلعہ ہری پربت میں قیدکردیا گیا۔ کشمیری عوام نے مسلسل گیارہ روز تک مکمل ہڑتال کی چنانچہ جولائی کے آخر میں یہ لیڈر رہا ہوئے۔