چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد: اپوزیشن ریکوزیشن پر اعتراض
- اتوار 14 / جولائی / 2019
- 4870
چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر سینیٹ سیکرٹریٹ نے اپوزیشن کی ریکوزیشن پر اعتراضات لگا دیئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق چیئرمین سینیٹ کو ہٹانے کے لئے جمع ریکوزیشن پر عملدرآمد روک دیا گیا ہے۔
سینیٹ سیکرٹریٹ کے اعتراض کے بعد اجلاس میں مزید تاخیر کا امکان ہے۔ سینیٹ سیکرٹریٹ ذرائع کے مطابق سینیٹ سیکرٹریٹ کی جانب سے اپوزیشن کو خط لکھا گیا ہے جس میں وضاحت مانگی گئی ہے۔ اپوزیشن نے اجلاس بلانے کے لئے 2 ریکوزیشن جمع کروائی تھیں۔ ایک ہی وقت میں 2 ریکوزیشن دینا سینیٹ رولز کے خلاف ہے۔ دونوں ریکوزیشن پر دستخط کرنے والے ارکان بھی مشترک ہیں۔ ذرائع کے مطابق سینیٹ سیکرٹریٹ کی طرف سے پوچھا گیا ہے کہ بتایا جائے کون سی ریکوزیشن پر عمل درآمد شروع کیا جائے۔ وضاحت آنے تک ریکوزیشن پر عملدرآمد نہیں ہو سکتا۔
دوسری طرف چییرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر سینیٹ سیکریٹریٹ کے اعتراض کو پیپلز پارٹی کی پارلیمانی قائد شیری رحمٰن اور مسلم لیگ (ن) کے قائد حزب اختلاف راجہ ظفر الحق نے مسترد کر دیا۔ پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمن کا کہنا تھا کہ اپوزیشن نے دو نہیں ایک ریکوزیشن جمع کرائی ہے۔ اپوزیشن نے ریکوزیشن کے ساتھ ساتھ عدم اعتماد کی قرارداد جمع کروائی ہے۔
مسلم لیگ (ن) کے قائد حزب اختلاف راجہ ظفر الحق نے اعتراض مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن نے دو نہیں بلکہ ایک ہی ریکوزیشن جمع کروائی ہے۔ سینیٹ سیکریٹریٹ کو 3 دستاویزات دی تھیں، پہلی دستاویز چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا نوٹس تھا، دوسری دستاویز چیئرمین سینیٹ کے خلاف عدم اعتماد کی قرارداد تھی، تیسری دستاویز اپوزیشن کی جانب سے اجلاس بلانے کی ریکوزیشن ہے۔
دریں اثنا چیئر مین سینیٹ الیکشن کیلئے مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کی طرف سے 5 رکنی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔ کمیٹی میں سردار یعقوب ناصر، جاوید عباسی، مصدق ملک، پیر صابر شاہ اور ڈاکٹر اسد اشرف شامل ہوں گے۔ شہباز شریف نے کمیٹی کو فوری طور پر کام شروع کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔ کمیٹی چئیرمن سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد اور نئے الیکشن کی حکمت عملی تیار کرے گی۔