سنسنی خیز مقابلے کے بعد انگلینڈ نیوزی لینڈ کو ہرا کر پہلی بار ورلڈ چیمپئین بن گیا
- سوموار 15 / جولائی / 2019
- 4970
انگلینڈ نے سنسنی خیز مقابلے کے بعد 2019 ورلڈ کپ کے فائنل میں نیوزی لینڈ کو شکست دے دی۔ مقابلہ میں سپر اوور میں بھی ٹائی ہونے کے بعد باؤنڈریز کی بنیاد پر انگلینڈ کوعالمی چیمپیئن بننے کا اعزاز حاصل کرہوگیا۔
لارڈز کے تاریخی میدان پر کھیلے گئے سنسنی خیز ورلڈ کپ فائنل میچ میں نیوزی لینڈ کے کپتان کین ولیمسن نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ انگلش باؤلرز نے نپی تلی گیند بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نیوزی لینڈ کے اوپنرز کو کھل کر کھیلنے کی اجازت نہیں دی۔ البتہ گزشتہ میچوں کی نسبت اس مرتبہ کیوی اوپنرز نے اپنی ٹیم کو بہتر آغاز فراہم کیا۔
مارٹن گپٹل آج قدرے بہتر فارم میں نظر آئے لیکن 29 کے مجموعی اسکور پر وہ 19 رنز بنانے کے بعد ایل بی ڈبلیو قرار پائے۔ اس کے بعد ہنری نکولس کا ساتھ دینے کپتان کین ولیمسن آئے اور دونوں کھلاڑیوں نے ذمے دارانہ کھیل پیش کرتے ہوئے بیٹنگ لائن کو سنبھالا دیا اور ابتدائی نقصان کا ازالہ کردیا۔
دونوں نے اپنی ٹیم کی سنچری مکمل کی لیکن انگلینڈ کے لیام پلنکٹ نے کین ولیمسن کو آؤٹ کردیا۔ انہون نے تیس رنز اسکور کئے۔ ابھی نیوزی لینڈ کی ٹیم اس نقصان سے سنبھلی بھی نہ تھی کہ لیام پلنکٹ نے انگلینڈ کو ایک اور اہم کامیابی دلاتے ہوئے وکٹ پر سیٹ بلے باز ہنری نکولس کو بولڈ کرکے ان کی اننگز کا خاتمہ کردیا۔ انہوں نے 55رنز بنائے۔
روس ٹیلر نے ٹام لیتھم کے ہمراہ ٹیم کا اسکور آگے بڑھانا شروع کیا لیکن 141 کے اسکور پر وہ بھی آؤٹ ہوگئے۔ 15 رنز بنانے والے روس ٹیلر کو ایل بی ڈبلیو قرار دیا گیا حالانکہ ری پلے سے ظاہر تھا کہ گیند وکٹوں کے اوپر سے جا رہی تھی۔
جمی نیشام اچھی فارم میں نظر آئے اور چند اسٹروکس کھیل کر اپنے خطرناک عزائم ظاہر کرنے کی کوشش کی لیکن لیام پلنکٹ کی ایک گیند کو مڈ آن کے اوپر سے کھیلنے کی کوشش میں وہ جو روٹ کوکیچ دے بیٹھے اور نیوزی لینڈ کی ٹیم 173رنز پر پانچ وکٹیں گنوا بیٹھی۔
اس موقع پر ٹام لیتھم نے اچھی بیٹنگ کرتے ہوئے گرینڈ ہوم کے ہمراہ 46 رنز کی قیمتی شراکت قائم کی۔ لیتھم نے عمدہ بیٹنگ جاری رکھی لیکن تیزی سے رنز کرنے کی کوشش میں وہ کرس ووکس کو وکٹ دے بیٹھے۔ انہوں نے 47رنز بنائے۔
اختتامی اوورز میں انگلش باؤلرز کی نپی تلی باؤلنگ کے سبب نیوزی لینڈ کے بلے باز تیزی سے رنز کرنے میں ناکام رہے اور نیوزی لینڈ کی ٹیم 8 وکٹوں کے نقصان پر 241رنز ہی بنا سکی۔ اور یوں انگلینڈ کو ورلڈ چیمپیئن بننے کے لیے 242رنز کا ہدف ملا ہے۔ انگلینڈ کی جانب سے لیام پلنکٹ اور کرس ووکس نے تین، تین جبکہ جوفرا آرچر نے دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔
انگلینڈ نے ہدف کا تعاقب شروع کیا تو اوپنرز کو نیوزی لینڈ کے باؤلرز کی نپی تلی باؤلنگ کا سامنا کرنا پڑا اور کئی مواقع پر وہ آؤٹ ہونے سے بال بال بچے۔
انگلینڈ کو پہلی کامیابی اس وقت ملی جب 28کے مجموعی اسکور پر روئے وکٹوں کے عقب میں وکٹ کیپر کو کیچ دے بیٹھے۔ نیوزی لینڈ کو جلد ہی دوسری وکٹ لینے کا بھی موقع ملا لیکن کولن ڈی گرینڈ ہوم اپنی ہی گیند پر بیئراسٹو کا مشکل کیچ نہ لے سکے۔
جو روٹ اور جونی بیئراسٹو نے ٹیم کی نصف سنچری مکمل کی لیکن اس مرحلے پر روٹ ایک باہر جاتی ہوئی گیند کو کھیلنے کی پاداش میں وکٹ کیپر کو کیچ دے بیٹھے اور انگلش ٹیم 59رنز پر دو وکٹیں گنوا بیٹھی۔ بیئراسٹو ابتدا میں ملنے والے موقع سے فائدہ اٹھانے میں ناکام رہے اور 71 کے مجموعی اسکور پر فرگوسن کی گیند پر آؤٹ ہوگئے۔ انہوں نے 36رنز بنائے۔
اس موقع پر تمام تر ذمے داری کپتان آئن مورگن پر تھی لیکن میچ میں جمی نیشام کی پہلی گیند پر بڑا شاٹ کھیلنے کی کوشش میں کیچ آؤٹ ہوگئے۔ اس طرح انگلینڈ کی ٹیم 86رنز پر چوتھی وکٹ گنوا بیٹھی۔ اس مرحلے پر بین اسٹوکس کا ساتھ دینے جوز بٹلر آئے اور دونوں کھلاڑیوں نے موقع کی مناسبت کو سمجھتے ہوئے اپنی روایتی جارحانہ بیٹنگ کے برعکس سنبھل کر کھیلنا شروع کیا اور بتدریج اسکور کو آگے بڑھایا۔ دونوں کھلاڑیوں نے ناصرف پانچویں وکٹ کے لیے 100 رنز سے زائد کی شراکت قائم کی بلکہ اپنی نصف سنچریاں مکمل کیں جس کی بدولت انگلینڈ کی ٹیم نے میچ میں بہترین انداز میں واپسی کی۔
اس شراکت کا خاتمہ اس وقت ہوا جب چھکا مارنے کی کوشش میں بٹلر اونچا شاٹ کھیل بیٹھے اور متبادل کھلاڑی ساؤدی نے شاندار کیچ لے کر ان کی اننگز کا خاتمہ کردیا۔ انہوں نے 59رنز بنائے۔ نیوزی لینڈ نے میچ میں ایک مرتبہ پھر شاندار انداز میں واپسی کی اور فرگوسن نے اپنے اگلے اوور میں کرس ووکس کو بھی وکٹ کیپر کی مدد سے کیچ کروادیا۔
لیام پلنکٹ نے چند بڑے شاٹس کھیلے لیکن میچ کے اختتام سے قبل وہ بھی باؤنڈری پر کیچ ہو کر پویلین لوٹ گئے۔ اگلی ہی گیند پر بین اسٹوکس باؤنڈری پر کیچ ہو گئے لیکن کیچ لینے کی کوشش میں بولٹ کا پیر باؤنڈری سے ٹکرا گیا اور یوں انگلینڈ ایک چھکا مل گیا۔ اسٹوکس نے سنگل لیا لیکن نیشام کی آخری گیند پر جوفرا آرچر اپنی وکٹیں محفوظ نہ رکھ سکے۔
اسٹوکس میچ کی کے آخری اوور کی ابتدائی دو گیندوں پر کوئی رن نہ بنا سکے لیکن تیسری گیند پر انہوں نے چھکا لگا کر گیند کو باؤنڈری کے پار پھینک دیا۔ اگلی گیند پر بین اسٹوکس نے شاٹ کھیل کر دو رنز بنائے لیکن فیلڈر کی تھرو پر گیند ان سے لگ کر باؤنڈری کے پار چلی گئی اور یوں انگلینڈ کو جیت کے لیے 2 گیندوں پر تین رنز چاہئے تھے۔
انگلینڈ نے اوور کی پانچویں گیند پر دو رن لینے کی کوشش کی لیکن عادل رشید رن آؤٹ ہو گئے اور اس طرح انگلینڈ کو فتح کے لیے آخری گیند پر دو رنز درکار تھے۔ اوور کی آخری گیند پر انگلینڈ نے پھر دو رن لینے کی کوشش کی لیکن فیلڈر کی شاندار کوشش کے سبب وہ صرف ایک رن ہی بنا سکے اور مقابلہ ٹائی ہو گیا اور میچ کا فیصلہ سپر اوور پر ہوا۔ یہ ون ڈے کرکٹ کی تاریخ میں پہلا موقع تھا کہ کسی میچ کا فیصلہ کرنے کے لیے سپر اوور کا انتخاب کیا گیا۔
سپر اوور کی پہلی گیند پر انگلینڈ نے تین رنز بنائے جس کے بعد دوسری گیند پر بٹلر ایک رن بنانے میں کامیاب رہے۔ اوور کی تیسری گیند پر اسٹوکس چوکا لگانے میں کامیاب رہے جبکہ چوتھی گیند پر انہوں نے سنگل لے کر بٹلر کو اسٹرائیک دی۔ اوور کی پانچویں گیند پر بٹلر دو رنز لینے میں کامیاب رہے اور پھر آخری گیند پر چوکا لگا کر سپر اوور میں اپنی ٹیم کا اسکور 15تک پہنچا دیا۔ نیوزی لینڈ کو ورلڈ کپ جیتنے کے لیے 16رنز کا ہدف ملا۔
سپر اوور میں ہدف کے تعاقب میں انگلینڈ کے گوفرا آرچر نے پہلی گیند وائیڈ کرائی البتہ وہ امپائر کے اس فیصلے سے کچھ خاص خوش نظر نہ آئے۔ اس کے بعد کرائی گئی پہلی گیند پر کیوی بلے باز دو رنز لینے میں کامیاب رہے اور پھر اگلی گیند پر نیشام نے چھکا لگا دیا۔ اس سے اگلی گیند پر نیشام دو رن لینے میں کامیاب رہے اور پھر سپر اوور کی چوتھی گیند پر بھی وہ دو رن لینے میں کامیاب رہے۔
اوور کی پانچویں گیند نیشام نے ایک رن لے کر گپٹل کو اسٹرائیک دی تو نیوزی لینڈ کو میچ کی آخری گیند پر فتح کے لیے دو رنز درکار تھے۔ میچ کی آخری گیند پر بھی نیوزی لینڈ کی ٹیم ایک ہی رن لینے میں کامیاب رہی اور یوں میچ ایک مرتبہ پھر ٹائی ہو گیا لیکن میچ میں زیادہ باؤنڈریز کی بدولت انگلینڈ کی ٹیم ورلڈ چیمپیئن قرار پائی۔
بین اسٹوکس کو میچ میں ناقابل شکست 84رنز کی اننگز کھیلنے پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا جبکہ نیوزی لینڈ کے کپتان کین ولیمسن ٹورنامنٹ کے بہترین کھلاڑی قرار پائے۔