گیند سپریم کورٹ کے کورٹ میں ہے
- تحریر عارف نظامی
- سوموار 15 / جولائی / 2019
- 6510
احتساب عدالت کے جج ارشد ملک جنہوں نے العزیزیہ ریفرنس کیس میں میاں نوازشریف کو 7 سال قید کی سزا سنائی تھی مشکل میں پھنس گئے، اسلام آباد ہائی کورٹ نے انہیں فارغ بھی کر دیا ہے۔ اپنے بیان حلفی میں ارشد ملک نے نیا پنڈورا باکس کھول دیا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ نجی محفل کی غیر اخلاقی ویڈیو دکھا کر مجھے بلیک میل کیا گیا اور نوازشریف کے ساتھی ناصر بٹ، ناصر جنجوعہ اور ان کے ساتھیوں نے مجھ پر ہر قسم کا دباؤ ڈالا۔
ان کا دعویٰ ہے کہ 6 اپریل 2019 کو نوازشریف سے جاتی امرا میں ملاقات ہوئی اور جون میں مدینہ منورہ میں حسین نواز سے ملاقات ہوئی۔ ان کے مطابق حسین نواز نے انھیں پچاس کروڑ کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو یہ کہہ کرمستعفی ہونا ہو گا کہ نوازشریف کو دباؤ میں سزا دینے سے ضمیر کے بوجھ کی وجہ سے مزید کام نہیں کر سکتا۔ چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں فل بینچ کل اسی حوالے سے ایک شہری کی درخواست پر سماعت پر کر رہا ہے جس کے لیے مریم نواز، شاہد خاقان عباسی اور راجہ ظفرالحق کو نوٹس بھی جاری کر دیے گئے ہیں۔
اب تو اعلیٰ عدالت ہی دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کر سکے گی۔ میاں شہباز شریف اورمریم نواز کا دعوی ہے کہ ویڈیو سچ ثابت ہو گئی ہے۔ مریم نواز کا مزید کہنا ہے جج کو فارغ کرنے کا مطلب ہی یہ ہے کہ حقائق تسلیم کر لیے گئے ہیں لیکن یہ معاملہ اتنا سادا نہیں ہے بلکہ جوں جوں انکشافات اور دعوے سامنے آ رہے ہیں، صورتحال خاصی پیچیدہ ہو گئی ہے۔ پہلے پہل ویڈیو منظر عام پر آنے کے فوراً بعد معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے حسب عادت اپوزیشن بالخصوص مریم نواز پر چڑھائی کر دی اور اعلان کر دیا کہ حکومت اس کا فرانزک آڈٹ کرائے گی۔
لگتا ہے کہ انھوں نے یہ بیان جلدی میں دے دیا کیونکہ وزیراعظم عمران خان نے اپنے وزیر قانون فروغ نسیم اور اٹارنی جنرل انور منصور کے مشورے پر یہی فیصلہ کیا کہ یہ عدالتی معاملہ ہے لہٰذا اس سے عدالتیں ہی نمٹیں۔ ارشد ملک کی ویڈیو اور ان کے بیانات نے بہت سے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ جج صاحب کے اس اعتراف کہ ان کی ملتان کی ایک غیر اخلاقی ویڈیو دکھا کر انھیں بلیک میل کیا جاتا رہا، یہ بات تو ثابت ہو گئی کہ موصوف اچھی شہرت کے حامل نہیں اور غالباً وہ شوقین مزاج تو ہیں اور کیا ان کی کرپشن صرف اخلاقی ہے یا مالی معاملات تک بھی جاتی ہے؟
اس کا تعین بھی عدالت ہی کرے گی۔ عدالت کو یہ بھی دیکھنا پڑے گا کہ کیا واقعی وہ میاں نوازشریف اور ان کے صاحبزادے سے ملے اور اگر یہ ثابت ہو جاتا ہے تو یہاں یہ بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ سپریم کورٹ نے ان پرجسٹس اعجازالاحسن کو نگران جج مقرر کیا تھا، موصوف یہ انتہائی سنگین معاملہ نگران جج کے نوٹس میں کیوں نہ لائے؟ یقینا دال میں کچھ کالا ہے۔ دوسری طرف مریم نواز کی جاری کردہ ٹیپ کے حوالے سے مسلم لیگ (ن) کا بیانیہ یہ ہے کہ جج نے دباؤ پر فیصلہ کیا ہے۔
جج ارشد ملک نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ یہ معاملات ان کی فروری 2018 میں احتساب عدالت میں تقرری کے بعد ہی شروع ہو گئے تھے اور سولہ ماہ تک یہ سلسلہ جاری رہا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسے شخض کو جس کا کردار مشکوک تھا کو اس کیس کی ذمہ داری کیوں سونپی گئی تھی۔ اپوزیشن کے اس الزام میں کتنی حقیقت ہے کہ وہ عناصر جو سمجھتے تھے کہ نوازشریف کے خلاف کیسز کے حوالے سے ٹھوس ثبوت موجود ہیں لہٰذا انہوں نے دانستہ طور پر ایسے کمزور شخص کو منتخب کیا جو آسانی سے بلیک میل ہو سکتا تھا۔
یقیناً جج صاحب کے کردار اور ریکارڈ کی تقرری سے قبل چھان پھٹک تو کی گئی ہو گی۔ جج ارشد ملک کے معاملے کا اونٹ جس کروٹ بھی بیٹھے مسلم لیگ (ن) کی اعلیٰ لیڈر شپ کا یہ دعویٰ کہ مس ٹرائل ہونے کی بنا پر میاں نوازشریف کو رہا کرنا پڑے گا امید موہوم ثابت ہو گا۔ وطن عزیز میں جوڈیشری کو اپنے ڈھب پرلانے کے لیے ریاستی دباؤ کا استعمال کوئی نئی خبر نہیں ہے۔ ماضی قریب تک کچھ قابل تقلید مثالوں کو چھوڑ کر ججوں نے اپنے مفاد کی خاطر بخوشی ہر قسم کا دباؤ قبول کیا ہے۔
چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید خان کھوسہ جو اپنے پیشرو جسٹس ثاقب نثار سے قطعاً مختلف ہیں اور کوئی دباؤ خاطر میں لائے بغیر آزادانہ فیصلے کرنے کی شہرت رکھتے ہیں۔ بال اب ان کے کورٹ میں ہے خواہ جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس ہو یا جج ارشد ملک کا معاملہ۔ میاں نوازشریف کے کیس کے حوالے سے پہلے بھی کچھ باتیں ایسی ہوئیں جن سے ماہرین قانون کا ماتھا ٹھنکا تھا۔ نوازشریف کو سپریم کورٹ نے جب نا اہل قرار دیا اس بینچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ ہی تھے جنہوں نے اپنے فیصلے میں سسیلین مافیا سے تشبیہ دی تھی۔
جب نوازشریف کے خلاف جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) بنانے کا فیصلہ کیا گیا تو سپریم کورٹ نے اس وقت کوئی نام نہیں دیے تھے لیکن پراسرار طور پر سپریم کورٹ کے رجسٹرار نے ایس ای سی پی کے چیئرمین کو فیس ٹائم پر کال کر کے کہا کہ فلاں شخص کوجے آئی ٹی میں نمائندہ بنا کر بھیج دیں۔ سپریم کورٹ کے رجسٹرار نے آخر کس کے کہنے پر ایسا کیا۔ جسٹس محمد منیر جو پاکستان کے دوسرے چیف جسٹس تھے۔ 1954 سے 1960 تک سپریم کورٹ کے چیف جسٹس رہے، یہ جسٹس منیر ہی تھے جنہوں نے ایوب خان کی 1958 کی فوجی مداخلت پر عدالتی مہر تصدیق ثبت کرنے کے لیے ’نظریہ ضرورت‘ گھڑا اور پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی ختم کرنے کو بھی جائز قرار دیا۔
اس کے بعد اعلیٰ عدالتوں میں یہ سلسلہ چلتا ہی گیا۔ سابق چیف جسٹس نسیم حسن شاہ نے بھی ایک انٹرویو میں اعتراف کیا کہ ججوں کو اپنی بقا کے لیے دباؤ قبول کرنا ہی پڑتا ہے۔ 1993 میں جب انہوں نے نوازشریف کی حکومت بحال کی تو بے نظیر بھٹو نے فیصلے کو ’چمک‘ کا نتیجہ قرار دیا تھا کیونکہ یہ شاہ صاحب ہی تھے جنہوں نے بے نظیر بھٹو کی برطرفی پر مہر تصدیق ثبت کی تھی۔ ذوالفقار علی بھٹو کا جوڈیشل مرڈر تو ہماری عدالتی تاریخ کا ایک انتہائی گھناؤنا اور سیاہ باب ہے۔
اس وقت کے اٹارنی جنرل شریف الدین پیرزادہ جن کو اردشیرکاؤس جی جدہ کا جادو گر بھی کہتے تھے کو پتہ چلا کہ جسٹس نسیم حسن شاہ پھانسی کا فیصلہ لکھنے میں لیت ولعل سے کام لے رہے ہیں تو شریف الدین پیرزادہ ان کے پاس تشریف لے گئے اور ان کے سامنے ان کے سرکاری ملازم بھائی کی فائل رکھ دی اور یوں شاہ صاحب نے اپنا فیصلہ تبدیل کر لیا۔ یہی حال چیف جسٹس ارشاد حسن خان کا تھاجنہوں نے پرویز مشرف کے ’کوُ‘ کو اسی ’نظریہ ضرورت‘ کا سہارا لے کر جائز قرار دے دیا موصوف نے بلاجھجک مشرف کے پی سی او کے تحت بالکل اسی طرح حلف لے لیا جس طرح ضیاء الحق کے دور میں اس وقت کے ججوں نے لیا تھا۔
یقیناً جسٹس افتخارچودھری نے ”پچھلی عمر“ جرأت رندانہ کا مظاہر ہ کرتے ہوئے مشرف کا دباؤ قبول کرنے سے انکار کیا اور منصب سے استعفیٰ نہ دیا ان کی برطرفی کے بعد جوڈیشری کی بحالی اور آزادی کے لیے ملک بھر میں تحریک چلی جس میں اعتزاز احسن اور علی احمدکرد جیسے بار کے رہنماؤں کا کلیدی رول تھا۔ لیکن جسٹس افتخارچودھری بحالی کے بعد شتر بے مہار بن گئے، بعدازاں جسٹس ثاقب نثار عدلیہ کی آزادی کی آبیاری کرنے کے بجائے سوموٹو کے حوالے سے شہرت حاصل کرنے کے گورکھ دھندے میں مبتلا ہو گئے۔ وہ ڈیم بھی بنانا چاہتے تھے، ہسپتال بھی ٹھیک کرنا چاہتے تھے لیکن اپنے شعبے پر توجہ دینے کے بجائے بخوشی دباؤ قبول کرتے تھے۔ اگر ماضی میں اعلیٰ عدالتوں کا یہ حال تھا تو نچلی سطح پر معاملات کتنے دگرگوں ہوں گے اس کا فیصلہ جسٹس کھوسہ کو ہی کرنا پڑے گا۔
(بشکریہ: روز نامہ 92 نیوز)