کرپشن کیا ہے ۔ (2)

میں نے بارگاہِ ایزدی میں سوال کیا کہ مجھے کرپشن کی حقیقت سے آگاہ کیا جائے ۔

ندا آئی : " کیا تم مسلمان ہو ؟ کیا تم سچ مُچ کے مسلمان ہو ؟ کیا تم قرارِ واقعی مسلمان ہو  ؟ کیا تم لفظ کے حقیقی معنوں میں مسلمان ہو؟ کیا تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نقشِ قدم پر من و عن ، پورے خلوص اور صدقِ دل سے چلتے ہو ، اور کیا وہی زبان سے کہتے ہو جس پر عمل کرتے ہو؟"

یہ سُن کر  میں اپنا سا مونہہ لے کر رہ گیا ۔ تب کہا گیا کہ جاؤ اور خُود تحقیق کرو کہ کرپشن کیا ہے ۔ کیا تمہارے پاس قرآنِ کریم کا کوئی نسخہ نہیں ہے ؟ کیا تم کتاب اللہ کا سبقاً مطالعہ نہیں کرتے ؟ کیا تم جو پڑھتے ہو اُسے سمجھتے بھی ہو ؟ اگر سمجھتے ہو تو اُس پر عمل کرتے ہو ؟ کیونکہ تلاوت کا مطلب سمجھنا اور عمل کرنا ہے ، محض زبانی خواندگی نہیں ۔

یہ سُن کر میں نے بابِ علی ؓ کے راستے مدیتہ العلم ؐ سے رابطہ کیا تو نہجہ البلاغہ میں لکھا پایا :

" جہاں بھی وافر دولت دیکھو ، جان لو کہ کسی کا حق غصب ہوا ہے "

تب میں نے کتاب اللہ کے علمی خزانچی کے در پر دستک دی تو جواب آیا کہ سورۃ الہمزہ پڑھو :

" ہر طعن آمیز اشارے کرنے والے چُغل خور کے لیے خرابی ہے جو مال جمع کرتا اور گن گن کر رکھتا ہے اور سمجھتا ہے کہ اُس کی دائمی زندگی کا موجب ہوگا ، ہر گز نہیں ، وہ لازماً حطمہ میں ڈالا جائے گا ۔ اور جانتے ہو کہ حطمہ کیا ہے ؟ وہ خُدا کی بھڑکائی ہوئی آگ ہے جو دلوں کو لپیٹ میں لے لے گی ۔" الہمزہ ۱۔۷

تو کیا جمع کیا ہوا مال دوخ کی آگ ہے ۔ میں اسی تذبذب میں تھا کہ یہ آگ کیسی ہوگی کہ اچانک " المعارج" کے روزن سے روشنی چمکی اور کہا گیا :

" جنہوں نے مال جمع کیا اور بند رکھا ( اُن کے لیے دہکتی آگ ہے ) المعارج ۔ ۱۷ ۔ ۱۸

یہ پڑھا تو میں نے جانا کہ مال جمع کرنا ، بڑے لمبے چوڑے بنک اکاؤنٹ ملک  سے باہر دیگر ممالک میں رکھنا اور  بے نامی اکاؤنٹ کے ذریعے مال چھپا کر رکھنا کرپشن کی ذیل میں آتا ہے اور اس کو  کتاب اللہ میں کرپشن کی بد ترین صورت قرار دیا گیا ہے ۔ چنانچہ انتباہ کیا گیا کہ :

" جو لوگ سونا اور چاندی جمع کرتے ہیں اور اُن کو خُدا کے راستے میں خرچ نہیں کرتے ، اُن کو اُس دن کے عذابَ الیم کی خبر دے دو " التوبہ ۔۳۴

اور صرف اتنا ہی نہیں بلکہ زراندوزی کا شاخسانہ بھی بیان کیا گیا ہے ۔ لکھا ہے :

" جس دن وہ مال دوزخ کی آگ میں گرم کیا جائے گا  ، پھر اُس سے اُن کی پیشانیاں ، پہلو اور پیٹھیں داغی جائیں گی  تو کہا جائے گا کہ یہ وہی ہے جو تم اپنے لیے جمع کرتے رہے ہو ۔ سو تم نے جو جمع کیا ، اُس کا مزہ چکھو " ۔ التوبہ ۔ ۳۵

اور میڈیا گواہ ہے کہ کچھ لوگ اپنی زر اندوزی کا مزہ اسی دنیا میں چکھ رہے ہیں ۔ مگر کون لوگ ہیں وہ؟ لکھا ہے :

" یہاں تک کہ جب ہم نے آسودہ حال لوگوں کو پکڑ کیا تو وہ اُس وقت تلملا اُٹھیں گے "  ۔ المومنون ۔۶۴

تم اور میں شاید جانتے ہیں کہ وہ آسودہ حال لوگ کون ہیں ۔ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے ہزاروں کنالوں پر اپنے محلات تعمیر کر رکھے ہیں ، جن کی آرائش اور زیب و زینت پر بے جا مال اُڑایا گیا جب کہ اس طرح کی فضول خرچی سے منع کیا گیا ہے ؛ لکھا ہے :

" بھلا تم ہر اونچی جگہ پر عبث نشان تعمیر کرتے ہو  اور محل بناتے ہو ، شاید تم ہمیشہ رہو گے " ۔ ۱۲۹ ۔ الشعراء

تو لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ یہ جاتی اُمرا محل ، یہ ایون فیلڈ اپارٹمنٹس ، یہ بلاول ہاؤس ، یہ بنی گالہ ہاؤس ، یہ نت ہاؤس اور ان جیسے اُمرا کے محلات ، اور زمان پارک کی جائدادیں اپنے مکینوں کو ابدی راحت مہیا کریں گی ، مگر نہیں ۔ چنانچہ اس قسم کی عمارتوں کی تعمیر بھی کرپشن کی ذیل میں آتی ہیں ۔ سرکاری عہدوں پر فائز لوگ جب عوام کا پیسہ اپنے بنک کھاتوں میں منتقل کرتے اور اُن میں سے ایک مقررہ رقم حکمرانوں کو پیش کر کے اپنے حرام کو حلال کرتے اور کالے دھن کو سفید کرتے ہیں تو یہ مشکوک کرتوت بھی کرپشن کی ذیل میں آتے ہیں ۔ لکھا ہے :

" ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ اور نہ اُس کو حاکموں کے پاس پہنچاؤ تاکہ لوگوں کے مال کا کچھ حصہ ناجائز طور پر کھا جاؤ ، اور یہ تم جانتے ہی ہو ۔" البقر ۔ ۱۸۸

اور اسی قسم کا مفہوم سورہ ء توبہ کی چونتیسویں آیت میں بھی بیان کیا گیا ہے ۔

کرپشن کی بد ترین صورت حقوق العباد کی عدم ادائیگی اور حق داروں کا حق ادا نہ کرنا ہے ۔ اس سلسلے میں خُدا کا قانون یہ ہے :

" تو اہلِ قرابت اور محتاجوں اور مسافروں کو اُن کا حق دیتے رہو ۔ جو لوگ رضائے الہٰی کے طالب ہیں اُن کے حق میں یہی بہتر ہے اور یہی لوگ نجات حاصل کرنے والے ہیں ۔ " الروم ۳۸

اور مال کی تقسیم کی مزید تاکید میں کہا گیا ہے کہ :

" اور رشتہ داروں ، محتاجوں اور مسافروں کو اُن کا حق دو اور فضول خرچی سے مال نہ اُڑاؤ ۔" بنی اسرائیل ۔ ۲۶

کتاب اللہ نے واضح کیا ہے کہ ہر مسلمان کی کمائی میں کن کن لوگوں کا حصہ مقرر ہے ۔ اُن میں سب سے پہلے ماں باپ  ، سگے رشتہ دار  ، یتیم  ، مسکین  ، مانگنے والے اور مسافر درجہ بدرجہ آتے ہیں ، کیونکہ اللہ کے دیے مال میں سب کا حصہ مقرر ہے ۔ اور یہ حصہ صرف زکوٰۃ تک ہی محدود نہیں بلکہ یہ حصہ ہر مال میں مقرر ہے۔ چنانچہ ارشادِ ربّی ہے :

" جب یہ چیزیں پھلیں پھولیں تو اُن کے پھل کھاؤ اور جس دن پھل اتارو یا فصل کاٹو تو اُس میں سے خُدا کا حصہ ادا کرو اور بے جا نہ اُڑاؤ ۔ خُدا بے جا اُڑانے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔" الانعام ۔ ۱۴۶

اب سوال یہ ہے کہ جب فصل اور پھل میں خُدا کا حصہ ہے تو لازمی طور پر تمہاری اور میری تنخواہ میں بھی خُدا کا حصہ ہے کہ جس دن تنخواہ یا اجرت ملے تو پہلے خُدا کا حصہ مخلوقِ خُدا کو ادا کیا جائے لیکن ہم میں سے بیشتر خُدا کی آواز پر کان نہیں دھرتے ۔

( جاری ہے )