کوئٹہ: کان میں پھنسے 2 مزدوروں کو زندہ نکال لیا گیا، 8 لاشیں نکالی گئیں
- منگل 16 / جولائی / 2019
- 4280
کوئٹہ کے نواحی علاقے ڈیگاری میں گزشتہ روز کوئلے کی ایک کان میں آگ لگنے سے دس کانکن پھنس گئے تھے جن کے لیے شروع کیا جانے والا ریسکیو آپریشن مکمل کرلیا گیا ہے۔
قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے قائم کیے گئے ادارے پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل عمران زرغون کے مطابق ریسکیو آپریشن مکمل کرتے ہوئے آٹھ مزدوروں کی لاشیں اور دو کو زندہ نکال لیا گیا ہے۔ عمران زرغون کا مزید کہنا ہے کہ متاثرہ کان سے زندہ نکالے جانے والے دو مزدوروں کو سول اسپتال منتقل کردیا گیا ہے جہاں ان کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔
اتوار اور پیر کی درمیانی شب ڈیگاری کی ایک کان میں شارٹ سرکٹ سے اُس وقت آگ بھڑک اٹھی جب گیارہ کانکن چار ہزار فٹ زیر زمین گئے تھے۔ واقعے کے فوراً بعد وہاں موجود مزدوروں نے اپنی مدد آپ کے تحت امدادی سرگرمیاں شروع کیں اور ایک کانکن کو نکال لیا جبکہ دیگر دس مزدوروں کو نکالنے کے لیے مقامی اور کوئٹہ سے امدادی ٹیمیں طلب کی گئیں تھیں۔
صوبائی حکومت کے ترجمان لیاقت شاہوانی کا کہنا تھا کہ کان میں جگہ جگہ آگ لگنے کی وجہ سے ریسکیو آپریشن میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال نے بھی مزدوروں کو نکالنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کرنے اور تمام وسائل بروئے کار لانے کے احکامات جاری کیے تھے۔
بلوچستان کے 8 اضلاع میں سات ہزار کانوں سے لگ بھگ ایک لاکھ مزدور روزانہ سینکڑوں ٹن کوئلہ نکالتے ہیں۔ مزدور رہنما عبدالکریم میر دادخیل کا کہنا ہے کہ انتظامی افسران جب تک کوئلے کی کانوں کے حوالے سے بنائے گئے قوانین پر عملدار نہیں کروائیں گے، اس وقت تک صورتحال بہتر نہیں ہوگی۔
ان کا کہنا ہے کہ جب بھی حادثات ہوتے ہیں سرکاری حکام ایک بیان اخبارات اور میڈیا کو جاری کر دیتے ہیں اور عملی کام کوئی نہیں ہوتا اور جب حادثے کی تحقیقات ختم ہوتی ہے اس کے بعد بھی کوئی اقدام نہیں کئے جاتے۔ عبدالکریم میر داد خیل کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں کوئی معاوضہ نہیں چاہیے، ہمیں صرف اور صرف تحفظ چاہیے۔ اصل بات کانکن کا تحفظ ہے اور اگر معاوضہ دے بھی دیں تو جب تک دوسرے کانکنوں کے تحفظ کو یقینی نہیں بنایا جاتا تو ایسے معاوضے کا کوئی فائدہ نہیں۔