پاکستان نے تمام پروازوں کے لیے اپنی فضائی حدود کھول دیں
- منگل 16 / جولائی / 2019
- 4570
سول ایوی ایشن اتھارٹی نے پاک بھارت کشیدگی کی وجہ سے بند کی گئی فضائی حدود تمام پروازوں کے لیے کھول دی ہیں۔
سول ایوی ایشن کی ویب سائٹ پر کہا گیا ہے کہ پاکستان کی فضائی حدود کی بندش ختم کردی گئی ہے جس کا اطلاق فوری طور پر ہوگیا ہے۔ رابطہ کرنے پر سی اے اے حکام نے بھی فیصلے کی تصدیق کی۔
سیکریٹری سول ایوی ایشن اتھارٹی شاہ رخ نصرت نے کہا تھا کہ بھارت نے پاکستان سے فضائی حدود کھولنے کا مطالبہ کیا تھا جس پر پاکستان کی جانب سے جواب دیا گیا تھا کہ اگر بھارت پاکستانی فضائی حدود سے متصل تعینات اپنے لڑاکا طیارے ہٹالے تو پاکستان اپنی فضائی حدود کھول دے گا۔
پاکستان کا اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ کی جانب سے یہ اعلان کیا گیا تھا کہ وہ پاکستانی فضائی حدود کی بندش کی وجہ سے ممبئی اور دہلی کے لیے اپنی فلائیٹس 26 اکتوبر تک بند کردے گا۔ 26 فروری کو بھارتی دراندازی اور بین الاقوامی حدود کی خلاف ورزی کے باعث پاکستان نے اپنی فضائی حدود بھارت سمیت تمام بین الاقوامی پروازوں کے لیے اپنی فضائی حدود بند کردی تھی۔
مارچ میں پاکستان نے فضائی حدود بحال کی گئی تھیں تاہم بھارتی پروازوں کو تاحال پاکستان میں داخل ہونے کی اجازت نہیں تھی۔ پاک بھارت کشیدگی کی پیش نظر سول ایوی ایشن اتھارٹی کی جانب سے وفتاً فوقتاً اس کا جائزہ لیتے ہوئے بھارت کے لیے فضائی حدود کھولنے کا فیصلہ موخر کیا جاتا رہا۔
26 فروری سے پاکستان کی فضائی حدود بند ہونے کی وجہ سے قومی ایئرلائن کی بنکاک، کوالالمپور اور نئی دہلی کی پروازیں معطل ہیں جس سے پی آئی اے کو روزانہ کروڑوں روپے کے نقصان کا سامنا ہے۔ خیال رہے کہ ایک ہفتے میں پی آئی اے کی 4 پروازیں کوالالمپور، 2 بنکاک اور 2 نئی دہلی جاتی تھیں۔
دوسری جانب بھارتی ایوی ایشن انڈسٹری کو پاکستان سے کئی گنا زیادہ نقصان کا سامنا ہے۔ بھارتی قومی اور نجی ایئرلائنز کے علاوہ غیر ملکی ایئرلائنز کو بھی پاکستانی فضائی حدود پر پابندی کی وجہ سے دیگر منازل تک پہنچنے کے لیے طویل روٹ استعمال کرنے پڑتے ہیں۔ وسطی اور مغربی ایشیا سے آنے والی پروازیں اب زیادہ طویل روٹ اختیار کرتی ہیں۔
انڈین ڈیلی اکنامک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ایئر انڈیا کو گزشتہ ماہ کے اختتام پر 3 سو کروڑ بھارتی روپے کا نقصان ہوا تھا۔ ایئرلائن نے نقصان کی تلافی کے لیے وزارت برائے انڈین ایوی ایشن انڈسٹری سے رابطہ کیا ہے۔