جج ارشد ملک ویڈیو کیس میں سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل سے تجاویز طلب کرلیں

  • منگل 16 / جولائی / 2019
  • 6870

سپریم کورٹ آف پاکستان نے احتساب عدالت کے جج محمد ارشد ملک کی مبینہ  ویڈیو سے متعلق درخواستوں پر سماعت کے بعد اٹارنی جنرل انور منصور خان سے اس معاملے پر تجاویز طلب کرلی ہیں۔

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں جسٹس شیخ عظمت سعید اور جسٹس عمر عطا بندیال پر مشتمل 3 رکنی بینچ نے وکیل اشتیاق احمد مرزا کی درخواست پر سماعت کی۔ عدالت عظمیٰ نے معاملے کے حقائق کی مکمل تحقیقات کے لیے ایڈووکیٹ سہیل اختر اور ایڈووکیٹ طارق اسد کی درخواستوں پر بھی سماعت کی۔

درخواست گزار اشتیاق مرزا کے وکیل منیر صادق نے دلائل دیے کہ ویڈیو لیکس اسکینڈل کے ذریعے عدلیہ پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔  یہ عدلیہ کی آزادی اور وقار کے حوالے سے ایک اہم اور حساس معاملہ ہے۔ لہٰذا عدالت اس معاملے کی تحقیقات کروا کر ذمہ داران کا تعین کرے۔ درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ یہ مقدمہ مفاد عامہ کا ہے۔  وکیل نے کہا کہ یہ سنگین الزامات ہیں، ان کی انکوائری ہونی چاہیے۔ اس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ چاہتے کیا ہیں؟ جس پر وکیل نے جواب دیا کہ میں سچ کی تلاش چاہتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں اور وکلا نے ویڈیو اسکینڈل کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے اور چیف جسٹس سے ازخود نوٹس لینے کی درخواست بھی  کی ہے۔ لہٰذا ایک کمیشن بنایا جائے، بے شک یہ کمیشن ایک رکنی ہی کیوں نہ ہو۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اس کمیشن کا سربراہ کون ہو؟ جس پر وکیل نے کہا کہ جج کمیشن کے سربراہ ہوں، اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کچھ ایسا کلچر بن گیا ہے کہ ایک کے خراب ہونے پر سب کو ویسا ہی سمجھا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ سارے جج اور سیاستدان ایسے ہی ہیں۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ یہ بتائیں کہ کمیشن کیا دیکھے گا جس پر وکیل نے جواب دیا کہ کمیشن سچائی کو دیکھے کہ اگر الزام ثابت ہو تو ان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی ہونی چاہیے۔ دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ احتساب عدالت کے جج نے بیان حلفی کے ذریعے کچھ حقائق بیان کیے جبکہ وزیر اعظم عمران خان نے بھی اس معاملے پر عدلیہ سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی اور امیر جماعت اسلامی نے بھی عدلیہ سے اس معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔  سیاسی جماعتوں کا ماننا ہے کہ عدلیہ تحقیقات کرے۔ اس کے علاوہ پاکستان بار کونسل نے بھی یہی مطالبہ کیا ہے۔

وکیل کے دلائل پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ لوگوں کے کہنے پر کوئی کام کریں گے تو کیا ہم آزاد ہوں گے؟ ازخود نوٹس کسی کے مطالبے پر لیں تو پھر وہ ازخود نوٹس نہیں ہوا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ جب سے بنی نوع انسان کی پیدائش ہوئی ہے، سچ کی تلاش جاری ہے۔ اگر یہ سچ تلاش کرنا ہے تو پھر جن ججوں نے مرکزی اپیل سنی ہے وہ کیا کریں گے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم کورٹ نے کوئی فیصلہ دیا تو ہائی کورٹ پابند ہو جائے گی، پھر ہائی کورٹ کیسے کارروائی کرے گی۔ اس پر وکیل نے کہا کہ فیصلہ کمیشن کی تحقیقات پر ہو۔ جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ میں آپ کو اسی طرف لے کر آنا چاہ رہا تھا۔ کمیشن کی تحقیقات پر کوئی عدالت نوٹس نہیں لے سکتی۔

درخواست گزار اشتیاق مرزا کے وکیل کے دلائل مکمل ہونے پر دوسرے درخواست گزار سہیل اختر کے وکیل اکرام چوہدری نے دلائل دیے۔ انہوں نے کہا کہ مریم نواز کا بیان ہے کہ نواز شریف کے خلاف دباؤ پر فیصلہ کیا گیا۔ وکیل نے کہا کہ کسی ادارے پر سے اعتبار اٹھنا بذات خود بنیادی حقوق کا معاملہ ہے۔ جج کے بیان کو انتہائی احتیاط سے دیکھنا چاہیے۔ اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ جو جج نے کہا وہ انتہائی غیر معمولی باتیں ہیں، ہمیں بتائیں ہم کیا کر سکتے ہیں اور کیا نہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ وکیل نے جج کو کرسی ماری یہ بھی غیرمعمولی معاملہ ہے لیکن ایک جج نے وکیل کو پیپرویٹ مارا تو کیا یہ غیر معمولی معاملہ نہیں؟ اس پر وکیل نے جواب دیا کہ اگر عدلیہ سے متعلق بیانات جاری رہے تو پھر ہائی کورٹ کو فیصلہ کرنے میں دباؤ ہوگا۔

سماعت کے دوران جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ پہلا نکتہ ادارے کا معاملہ ہے۔ جج کا معاملہ عدالت دیکھے گی، ہر روز معاملے سے متعلق معلومات آرہی ہیں۔ اس گرد کو اب بیٹھ جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایسی تجویز چاہتے ہیں جس سے جذبات کے بغیر فیصلہ کیا جاسکے۔ اس پر وکیل نے کہا کہ سپریم کورٹ توہین عدالت کی کارروائی کا آغاز کرے۔

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ جو الزامات جج پر لگائے گئے ہیں، اس معاملے کو کون دیکھے گا۔ کیا وہ جج خود دیکھے گا جس پر الزامات ہیں؟ سماعت کے دوران وکیل نے استدعا کی کہ  فوجداری اور سائبر قوانین کے تحت عدلیہ معاملے کی تحقیقات کروائے۔ جس پر چیف جسٹس نے پوچھا کہ ملک میں جتنے مقدمات درج ہوتے ہیں، جتنی تفتیش ہوتی ہے، کیا سپریم کورٹ کے حکم سے ہوتی ہیں؟

وکیل اکرام چوہدری نے کہا کہ بیانات اور پھر جوابی بیانات کی وجہ سے عدلیہ کی تضحیک ہورہی ہے۔ اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہم اسی وجہ سے اس مقدمے کو سن رہے ہیں۔

تیسرے درخواست گزار طارق اسد نے دلائل میں کہا کہ ویڈیو کو فرانزک کے ذریعے جانچا جائے۔ جج کبھی جاتی امرا جارہے ہیں تو کبھی عمرے پر ملاقاتیں کررہے ہیں۔ طارق اسد نے کہا کہ جج اتنے اہم مقدمات سننے کے باوجود ملاقاتیں کرتے رہے۔ حکومت اور ایجنسیاں کہاں تھیں، یہ مقدمہ عدلیہ کی خود مختاری سے متعلق ہے۔ کچھ اور اس ادارے بھی دخل اندازی کر رہے ہیں۔

اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ اداروں کی دخل اندازی کی بات کر رہے ہیں۔ ساتھ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ ادارے دخل دیں، جس پر وکیل نے کہا کہ ادارے دخل اندازی کر رہے ہیں لیکن اپنا کام نہیں کر رہے۔ وکیل نے مزید کہا کہ جج ارشد ملک کا طریقہ کار یہ بات ثابت کرتا ہے کہ وہ بدعنوان سرگرمیوں میں ملوث رہے ہیں۔ ایک غیر ملکی فیصلے میں قرار دیا گیا ہے کہ جج کے تعصب پر دوبارہ ٹرائل ہوگا۔

سماعت کے دوران درخواست گزار نے سپریم کورٹ کے جج پر مشتمل کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا۔ اس پر عدالت نے کہا کہ حکومت کو بھی کمیشن بنانے کا اختیار ہے لیکن آپ کہہ رہے ہیں کہ عدلیہ کمیشن بنائے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ احتساب عدالت کے جج لاہور ہائی کورٹ کے ماتحت تھے۔ وفاقی حکومت نے ڈیپوٹیشن پر ان کا تقرر کیا۔ تاہم یہ ویڈیو کی ساخت کا معاملہ ہے۔ اس پر فورم کو کون سا ہوگا؟ انہوں نے کہا کہ دوسری صرف عوامی باتیں ہیں، کسی کی نجی ویڈیو کیسے بنائی گئی اور کیسے عوام کے سامنے آئی، اس کو دیکھنا ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جب سب کچھ سپریم کورٹ کرتی ہے تو اعتراض ہوتا ہے لیکن جب ہم ہاتھ کھینچتے ہیں تو کہا جاتا ہے کہ سپریم کورٹ کرے۔ ہم نے فیصلہ کرنا ہے معاملے میں کہاں ہاتھ ڈالنا ہے اور کہاں نہیں۔ انہوں نے کہا کہ جج کے مس کنڈکٹ (غلطی) کو بھی جاننا ہے، ہم نے دیکھنا ہے کہاں مداخلت کرنی ہے۔ عنقریب ہم کچھ چیزیں طے کریں گے۔

بعد ازاں عدالت نے اس معاملے پر اٹارنی جنرل سے تجاویز طلب کرتے ہوئے متعلقہ کیس کی سماعت 23 جولائی تک ملتوی کردی۔