ریاستی استحکام کیلئے ٹیکس نیٹ ورک کو وسیع کرنا ضروری ہے!

پاکستان تحریک انصاف کی معاشی پالیسیوں کے خلاف ہفتہ 13جولائی کو ہونے والی ہڑتال 1977کے بعد پہلی ملک گیر ہڑتال تھی۔ 1977میں پی این اے کی ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کے خلاف بعض اداروں کی پوشیدہ حمایت سے ہڑتال کامیاب ہوئی تھی۔

حیرت کی بات ہے کہ تاجروں کی ہڑتال عمران خان اور اس کی ٹیم کے ساتھ مشاورتی عمل کے بعد ہوئی۔ کراچی میں تاجروں نے مذاکرات میں ناکامی کا اعلان کر دیا تھا۔ کراچی پاکستان کا سب سے بڑا صنعتی  و تجارتی مرکزہے جہاں سے سب سے زیادہ ریونیو  حاصل ہوتا ہے ۔تحریک انصاف شائد اس بات کا ادراک کرنے میں ناکام رہی ہے کہ سخت گیر رویوں سے حکومتیں کامیاب نہیں ہو سکتی ہیں۔ تحریک انصاف کی حکومت کے ساتھ پکڑ دھکڑ اور خوف و ہراس کا تاثر جڑا ہوا ہے۔ عمران خان کی پالیسیاں درست ہیں یانہیں لیکن بے روز گاری، مہنگائی، غربت اور معیشت کی سست رو کارکردگی نے سب کو متاثر کیا ہے۔

 عوام میں سوچ پیدا ہو گئی ہے کہ حکومت کا ملک کی اکثریتی غریب آبادی کی مشکلات اور مسائل کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہیں سوشل میڈیا اور فلاسفر، ذہین، مشیروں اور وزراء کے ذریعے ہر روز نئے سیکنڈلز اور کہانیاں سننے کو ملتی ہیں ۔ مسلم لیگ ن بھی  سازشی کہانیوں اور ویڈیوز کے ذریعے ریاستی اداروں کی سبکی کرنے میں مصروف رہتی ہے۔ محاذ آرائی کی کیفیات ابھر رہی ہیں ۔ پاکستان قرضوں کے شکنجوں میں جکڑا ہوا ہے، عوام بلاواسطہ ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبے جا رہے ہیں جبکہ امیر طبقات بالخصوص تاجر برادری جو کہ ملک کا 80%بزنس ڈیل کرتے ہیں انہوں نے اپنے کاروبار میں کئی گنا منافع کے ذریعے اپنی دولت اور جائیدادوں میں اضافہ کیا ہے۔ مگر اپنی اصل آمدن کے تناسب سے ٹیکس دینے کو تیار نہیں اورنہ ٹیکس نیٹ ورک میں شامل ہونے کو تیار ہیں۔ وہ ہر سال مذہبی فریضوں، شادیوں پر لاکھوں روپے خرچ کرتے ہیں ۔مذہبی اور سماجی تنظیموں کو چندے دیتے ہیں مگر اپنی اصل آمدنی ڈکلیئر کرنے کو تیار نہیں ہیں، اور نہ ہی اپنی پوشیدہ جائیدادوں پر ویلتھ یا پراپرٹی ٹیکس ادا کرتے ہیں۔

موجودہ حکومت کی تاجروں کو ٹیکس نیٹ ورک میں لانے کی کوششوں کے خلاف  تاجر برادری کی طرف سے بھرپور مزاحمت کا سلسلہ جاری ہے۔ ہماری اپوزیشن جماعتیں جنہیں کل اقتدار میں آنا ہے محض پوائنٹ سکورننگ کیلئے ان کی حمایت کر رہی ہیں۔ حالانکہ وہ جانتی ہیں کہ محصولات کی وصولی میں اضافہ کیے بغیر ریاست کے اخراجات پورے کرنا نا ممکن ہے ۔ٹیکس نیٹ ورک میں مختلف طبقات کو شامل کرنے کا کام 90کی دہائی میں شروع ہوا  نوے کی دہائی کے وسط تک سنٹرل ایکسائز کا نظام تھا جس میں مینو فیکچرنگ شعبہ پر بہت کم ٹیکس لگایا جاتا تھا ۔پھر نواز شریف کے دور حکومت میں بجٹ میں  ساڑھے بارہ  فیصد جنرل سیل ٹیکس کا نظام متعارف کرایا گیا۔ ایسا نظام تقریباً  پوری دنیا میں نافذ ہے۔ پہلے سال ٹیکس کی ادائیگی آپشنل تھی پھر اس کو لازمی بنا دیا گیا ۔

اس پر بھی  شعور مچایا گیا جیسا کہ آج مچا ہوا ہے ۔بعد میں اس کو17 فیصد کر دیا گیا ۔اس کو عوام سے تو وصول کر لیا جاتا ہے مگر مربوط نظام نہ ہونے کی وجہ سے قومی خزانے میں بہت کم پہنچ پاتا ہے۔  تاجروں کو خوف ہے کہ نیا نظام میں آنے کے بعد تاجروں کے لین دین کا ٹرن اوور سامنے آ جائے گا کیونکہ تجارتی یا صنعتی حلقے ہوں انہوں نے دوہرے کھاتے رکھے ہوئے ہی۔ں ایک محکمہ ایکسائز کو    دکھانے کیلئے اور دوسرا اپنی خفیہ آمدنی کو چھپانے کیلئے۔ اگر وہ اپنے کاروباری لین دین کو ظاہرکریں تو ان کی اصل آمدنی سامنے آ جائے گی جس سے انہیں زیادہ انکم ٹیکس دینا پڑے گا۔ چونکہ معیشت کو عالمی مالیاتی اداروں کی ہدایات کے تحت دستاویزی بنانے کا عمل تیزی سے جاری ہے اور دوسرے بڑی کمپنیوں کی طرف سے کمپیوٹرائز ریکارڈ کی وجہ سے شائد سیلز اور فروخت کو چھپانا ممکن نہیں رہے گا۔تاجر طبقات جو آمدنی ظاہر کرتے ہیں ان سے بمشکل کرایہ، ملازموں کی تنخواہیں گھروں کے اخراجات پورے  ہوسکتے ہیں ۔اگر انہیں حقیقی زندگی میں حاصل آسائشوں اور سہولتوں کو دیکھا جائے تو ملک کی بڑی مارکیٹوں ،تھڑے یا کھوکھے پر کاروبار کرنے والوں کی پوش علاقوں میں کوٹھیاں محالات، لگثری گاڑیاں اور پرتعیش سہولتیں حاصل ہی۔ں وہ اپنے فروخت ہونے والے مال پر کئی گناہ منافع کما رہے ہیں، ہول سیل اور  تھوک مارکیٹوں کی قیمتوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔

 عمران خان کی حکومت کیلئے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ ٹیکس نہ دینے والوں کو کس طرح فائلر بنایا جائے۔ ماضی میں جنرل ضیاء الحق کے بعد نواز شریف نے کاروباری طبقات کی ہمیشہ سر پرستی کی ہے اور انہیں سیاست میں لانے کے مواقع فراہم کیے ہیں۔ آج بھی ملک کے مختلف کامرس صنعتی چیمبرز کے عہدیداروں کا تعلق مسلم لیگ ن سے ہے۔ ان میں سے کئی ایم پی اے اور ایم این اے بھی رہے ہیں اور اس کا سب سے بڑا سیاسی ووٹ بینک ہے ۔لیکن موجودہ ہڑتال کے درمیان جبکہ مسلم لیگ ن نے کارکنوں کی رابطہ مہم شروع کی اس میں بہت کم تاجر نمائندوں نے شرکت کی جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مسلم لیگ ن ان حلقوں میں اپنی حمایت  کھو رہی ہے کیونکہ تاجروں کے نزدیک سب سے اہم کام اپنے مفادات کا تحفظ ہے۔ عمران خان کے نزدیک سب سے ایجنڈا ان نان فائلز سے ٹیکس کولیکشن ہے کیونکہ ایسا نہ کرنے سے آئی ایم ایف ناراض ہو سکتا ہے جس کے نتائج ملک کے مالی استحکام کیلئے مثبت ثابت نہیں ہو ں گے۔

بعد میں معیشت کو دستاویزی بنانے کا دوسرا مرحلہ آئے گا جس میں کنٹرول کرنے کیلئے کمیٹیاں بنیں گی اور لاگت کی بنیاد پر ہر چیز کے ریٹ کا تعین کیا جائے گا۔ اس وقت ہماری منڈیوں میں اندھیر نگری مچی ہوئی ہے ۔ٹیکس میں اضافہ کے نام پر ہر چیز بالخصوص کھانے پینے کی چیزوں کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا گیا ہے ۔اگر پیٹرول 10روپے بڑھتا ہے تو کرایہ میں ہر سواری پر 10روپے ڈال دیا جاتا ہے ۔آٹے کی قیمت پر کوئی ٹیکس نہیں لگایا گیا جبکہ روٹی اور دیگر کھانے پینے کی اشیاکی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔ تجارتی اجارہ داریوں اور کاروباری مافیا جلد ختم ہونے والے ہیں مگر اس کیلئے وقت لگے گا ۔

 معاشی طور پر اپنے قدموں پر کھڑا ہونا ہے  تو ہر ایک کو ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔ دنیا میں کئی ممالک ہم سے زیادہ مقروض ہیں ۔ان کا قرضہ جی ڈی پی سے زیادہ رہا ہے مگر ان ممالک نے اپنے قرضوں کا صحیح طریقے سے استعمال کرتے ہوئے وہاں پر خوشحالی کیلئے مختلف منصوبہ جات بنائے ہیں۔ جس سے مجموعی قومی آمدنی اور پیدا وار میں اضافہ ہو اہے۔ ہم محض قرضوں سے سڑکیں، نالیاں، گلیاں، سوئی گیس اور صاف پانی کی لائنیں بچھانے سے ترقی نہیں کر سکتے۔  بلکہ اس کیلئے بنیادی اصلاحات کی ضرورت ہے جس میں سب سے اہم صنعت کاری کے عمل کو آگے بڑھانا اور ان ٹیکس طبقات سے ٹیکسوں کی یقینی وصولی شامل ہے۔